چہرے کا موٹاپا کم کرنے کے 7 آسان طریقے

اکثر لوگوں کا وزن تو کم ہوجاتا ہے لیکن چہرہ بھاری رہتا ہے۔ وزن کم کرنے کے بعد چہرے کا وزن زیادہ ہونا اچھا نہیں لگتا ۔ نازک نقش چہرے کو خوبصورت بنا دیتے ہیں ۔ جسم کے کسی مخصوص حصے سے وزن کم کرنا عموماً پورے جسم کے ایک ساتھ وزن کم کرنے سے زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ چہرہ پتلا کرنے کے لیے پورے جسم پر ہی کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ بعض اوقات چہرے پر تھکاوٹ یا کسی غذا کے استعمال سے وقتی طور پر سوجن آجاتی ہے۔ یہ سوجن خصوصاً صبح اٹھ کر زیادہ نمایاں ہوتی ہے جو خود ہی تھوڑی دیر بعد کم بھی ہوجاتی ہے۔ البتہ اگر چہرے کا وزن کم کرنا ہو یا چربی کم کرنی ہو تو مندرجہ ذیل ٹوٹکوں پر عمل کرکے دیکھیں :
*آنکھوں کو پھیلائیں اور کسی جگہ کو غور سے دیکھیں ۔ اپنے چہرے کو اسی حالت میں دس سیکنڈز کے لیے رکھیں پھر چھوڑ دیں ۔ اس عمل کو پانچ بار دہرائیں۔
پانی چربی گھلانے کے لیے بہترین غذا ہے۔ پانی وافر مقدار میں پینے سے نہ صرف وزن کم ہوتا ہے بلکہ انسان کئی اقسام کی بیماریوں سے بھی محفوظ رہتا ہے ۔پانی سے جلد صاف ستھری اور جسم فاضل مادوں سے پاک رہتا ہے ۔

اگر آپ چہرے کی چربی کم کرنا چاہتے ہیں تو صحیح غذا کا استعمال بہت ضروری ہے ۔ اس سے آپ کے جسم کو ضروری غذائیت اور توانائی بھی مہیا ہوتی رہتی ہے ۔ اپنی خوراک میں سبزیوں اور پھلوں کا استعمال بڑھائیں۔ کھانا ہمیشہ وقت پر کھائیں ۔ رات کو دیر میں کھانا کھانے سے وہ صحیح طرح ہضم نہیں ہوپاتا جو کہ چہرے پر سوجن کا باعث بنتا ہے ۔ کیلشیم اور فائبر سے بھرپور غذا لیں ۔

نیند مکمل نہ ہونے سے چہرے پر سوجن رہنے لگتی ہے ۔ وقت پر مکمل نیند لینے سے صحت بھی اچھی رہتی ہے۔ کم از کم آٹھ گھنٹے کی نیند اچھی صحت کے لیے بے حد ضروری ہے ۔ اگر اتنی نیند نہ لی جائے تو جلد لٹکنے لگتی ہے اور آنکھوں کے نیچے ہلکے پڑنے لگتے ہیں ۔

چیونگم چبانے سے چہرے کی چربی کم ہوتی ہے ۔ یہ چہرے کو شیپ میں لانے کے لیے بہترین ورزش ہے ۔ البتہ چیونگم شوگر فری استعمال کریں ۔

ریگولر مساج سے چہرے کا وزن تیزی سے گھٹتا ہے ۔ اس سے چہرے میں آکسیجن اور خون کی روانی بہتر ہوتی ہے ۔ اس کے علاوہ مساج سے چہرے کی جلد ٹائٹ رہتی ہے ۔ مہینے میں ایک سے دو بار چہرے کا مساج کرانے سے چہرہ شیپ میں رہتا ہے ۔

سگریٹ پینے سے جلد کے نیچے پانی جمع ہونے لگتا ہے جس سے چہرے پر سوجن آجاتی ہے اور آپ کا چہرہ موٹا لگنے لگتا ہے ۔ چہرے کو سلم رکھنے کے لیے تمباکو نوشی سے گریز کریں ۔

Sharing is caring!

یہاں کلک کر کے شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *