رسول اللہ ؐ نے گھوڑے کی جس نسل پر اپنے انگوٹھا مبارک سے مہر لگائی تھی ،کیا واقعی اس گھوڑے کی نسل پاک فوج کے پاس ہے

تازہ خبر 92! اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پاک فوج پر اللہ اور نبی کریم ﷺکا خاص فضل و رحمت ہے کہ وہ اپنی خالص ایمانی قوتوں اور پیشہ وارانہ مہارتوں کے ساتھ اسلام اور پاکستان کے دشمنوں کے خلاف صف آرا ہوتی ہے اور اسکا اجرعظیم بھی پاتی ہے ۔اس بارے مشہور ہے کہ اسلامی دنیا میں سب سے نمایاں اپنے مذہبی شعائر پر کاربند پاک فوج میں نماز اور تلاوت قرآن پاک کا رجحان پایا جاتا ہے

۔پاک فوج کی اسلام سے جڑی نسبتوں کے حوالے سے اسکے کئی حیرت انگیز معرکے بھی منظر عام پر آتے ہیں جنہیں خالص اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے انعامات سے منسوب کیا جاتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ پاک فوج سرکار دو عالمﷺ سے منسوب ہر متبرک چیز اور مقام کی خصوصی حفاظت کرتی اور اسے اپنے لئے راہ نجات سمجھتی ہے۔ اس ضمن میں چند دنوں سے سننے میں آرہا ہے کہ پاک فوج کے پاس ان گھوڑوں کی نسل موجود ہے جو چودہ سو صدیاں گذر جانے کے باوجود نسل در نسل دنیا میں موجود ہے اور اس میں سے وہ خالص النسل گھوڑے جن کی گردنوں پر رسول کریم ﷺ کے انگوٹھا مبارک کی مہر صداقت ثبت ہے ،یہ پاک فوج کے پاس بھی تبرکاً موجود ہیں ۔ ان کی دیکھ بھال میں انتہائی احترام ملحوظ رکھا جاتا ہے جبکہ کبھی کوئی ان گھوڑوں کو دیکھتا ہے تو وہ عقیدت سے سرشار ہوجاتا اور زیارت کرتے ہوئے سرکار دوجہاں ﷺکے انگوٹھا مبارک پر اپنا انگوٹھا رکھ کر فیض حاصل کرتاہے ۔چند دنوں سے سوشل میڈیا پر ایک ایسی وڈیو گردش کررہی ہے جس میں ذوالفقار نامی فوجی افسر کواس عربی النسل گھوڑے کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے ۔وڈیو میں یہ فوجی افسر ورلڈ عرب ہارس پارک میں کھڑے ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور پھر وہاں موجود پاکستانیوں کواس گھوڑے کا تعارف کراتے ہوئے بتاتا ہے کہ اس گھوڑے کے بارے روایات پائی جاتی ہیں کہ رسول اکرمﷺ نے گیارہ گھوڑے پالے تھے جنہیں چار دن اور ایک روایت کے مطابق سات دن تک بھوکاپیاسا رکھا گیا اور پھر جب آپﷺ کے حکم پر انہیں پانی پلانے کے لئے باڑے کا دروازہ کھولا گیا تو یہ گھوڑے پانی کی طرف بھاگے تو آپ ﷺ نے ان گھوڑوں کے نام لیکر انہیں پکارا جن میں سے چار گھوڑے واپس آئے تو آپﷺ

نے ان کی گردنوں پر اپنا انگوٹھا لگا کر مہر ثبت کردی ۔فوجی افسر کے مطابق عربوں نے ان گھوڑوں کی نسل میں سے ایک گھوڑا صدر ضیاالحق کو تحفہ میں دیا تھا جس کی دیکھ بھال بہت احتیاط سے کی جاتی رہی ہے،اسکی بریڈنگ میں سے تین چار گھوڑے ایسے نکل آتے ہیں جن کی گردنوں پر اسی مہر کا نشان مبارک ہوتا ہے ۔واضح رہے کہ یہ اس فوجی افسر نے جن لوگوں کو اس گھوڑے کی زیارت کرائی ہے وہ شلوار قمیض پہنے ہوئے پاکستانی ہیں جبکہ یہ افسر گھوڑے کے سائیس کو پنجابی میں ہدایات دیتا نظر آتا ہے ۔ یہ وڈیوبھی تازہ نہیں لگتی کیونکہ زائرین نے سویٹر نما جیکٹس اور چادریں بھی اوڑھ رکھی ہیں جس سے تاثر ملتا ہے کہ یہ کوئی سرد علاقہ ہے یا جہاں بھی یہ پارک واقعہ ہے وہاں موسم سرما کے آخری دنوں میں اسکو فلمایا گیا ہے ۔وڈیو میں اس پارک کے بارے کوئی وضاحت نہیں کی گئی کہ یہ کہاں واقعہ ہے ۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ ورلڈ عرب ہارس آرگنائزیشن عربوں کی بڑی تنظیم ہے جس کے تحت خطہ عرب کے نایاب ترین گھوڑے پالے جاتے اور انکی بریڈنگ کی جاتی ہے ۔اس وڈیو میں بیان کردہ روایت کے بارے میں شک و شبہ کا اظہار بھی کیا جاتا ہے کہ جس طرح وڈیو میں رسول کریم ﷺ کے پالتو گھوڑوں کا ذکر کیا گیا ہے کہ انہیں چارسے سات دن تک پیاسا رکھا گیا تھا ،یہ شان رسالت ﷺ کے خلاف ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ جانوروں کے لئے بھی سراپہ رحمت تھے اور اگر کسی جانور کو پیاسا دیکھ لیتے تو فوراً اسکو پانی پلاتے اور اگر کسی جانور کو بھوکا پیاسا رکھنے یا اس پر تشدد کرنے کا علم ہوتا تو آپ ﷺ اس پر سخت ناراض ہوتے تھے ۔اس رو سے علمائے دین کو تحقیق کرنی چاہئے کہ کیا واقعی گھوڑوں کی جس نسل کا ذکر کیا جارہا ہے انہیں اتنے دن تک پیاسا رکھا گیا تھا اور اس میں حقیقت کتنی ہے؟اس بارے میں بھی ابہام پایا جاتا ہے کہ یہ پارک جس میں اس پنجابی فوجی افسر کی زیر نگرانی زائرین اس گھوڑے کو بوسہ دے رہے ،یہ کہاں واقع ہے ۔جہاں تک پاکستان آرمی کے گھوڑوں کی تربیت اور ان کی بریڈنگ کا سوال ہے تو یہ منڈی بہاو الدین میں ایک سو پندرہ سالہ پرانے Mona Remount Depot میں اسکا اہتما م کیا جاتا ہے ۔مونہ ڈیو ری مونٹ ہیڈفقیریاں کے پاس ہے جہاں قیام پاکستان سے پہلے سے فوج کے لئے گھوڑے اور خچر پالے جاتے اور انہیں تربیت دی جارہی ہے ۔اس ادارہ کو عوام کے لئے بھی کھولا جاتا ہے ۔مونہ ڈیو ری مونٹ اور ورلڈ عرب ہارس آرگنائزیشن میں باقاعدہ سمجھوتہ بھی موجود ہے ۔ممکن ہے کہ یہ عرب النسل گھوڑے اسی ڈیو میں موجود ہوں مگر اس بارے میں بھی کوشش کے باوجود تصدیق نہیں ہوسکی ،نہ ہی کسی میڈیا اینکرنے اس سنٹر کی وڈیو بناتے ہوئے کبھی اس کا ذکر کیا ہے ۔

Sharing is caring!

یہاں کلک کر کے شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *