کیا سنی لڑکی دوسرے مسلک والے لڑکے کیساتھ نکاح کر سکتی ہے؟جانیں

السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ کیا ایک سنی مسلک کی لڑکی کسی دوسرے مسلک کے آدمی سے نکاح کر سکتی ہے؟ جواب: اگر کوئی شخص قرآن پاک میں تحریف کا قائل نہیں بلکہ قرآن کریم کو محفوظ اور خدا کا کلام مانتا ہے، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور ازواج مطہرات کا گستاخ نہیں، امہات المؤمنین کو اہل بیت میں شمار کرتا ہے،چاروں خلفائے راشدین کو برحق مانتا ہے، سیدنا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بعد چوتھا خلیفہ مانتا ہے اور کسی صحابئ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالی گلوچ نہیں کرتا تو ایسے شخص سے سنی لڑکی نکاح کر سکتی ہے۔ اگر اس کے عقائد مذکورہ بالا عقائد کے برعکس ہوں تو وہ شخص بد عقیدہ ہے، اور صحیح العقیدہ سنی لڑکی کا نکاح بدعقیدہ سے نہیں ہو سکتا۔

آج سے تقریباً چالیس سال پہلے ایک عالم دین چغتائی صاحب جن کا نام میں بھول گیا ہوں جمعہ کے دن جمعہ کی نماز سے پہلے اپنی تقریر میں بہاولپور کی مسجد الفردوس (جوکہ مسجد حافظ گھوڑا کے نام سے مشہور ہے) میں سنایا۔ میں پوری ایمانداری سے جو کچھ ان عالم دین چغتائی صاحب نے سنایا تحریر کررہا ہوں۔ یہ مضمون خاص کر ایسے لوگوں کیلئے عبرت ہے جو اپنی دولت‘ سونا وغیرہ کو جمع کرتے ہیں نہ اپنے اوپر خرچ کرتے ہیں نہ دوسروں پر بلکہ اس دولت پر ناگ بن کر بیٹھے رہتے ہیں۔ اور اسی حالت میں انہیں آجاتی ہے۔ ایک عالم دین نے جمعہ کی نماز سے پہلے اپنی تقریر میں یہ قصہ سنایا: پاکستان بننے سے پہلے بہاولپور کی ایک مسجد میں امام مسجد قرآن مجید کی تعلیم بھی دیتے تھے‘ امام صاحب بچوں کو قرآن مجید پڑھاکر اور بچوں کو چھٹی دےکر مسجد کے اس کمرے میں چلے جاتے جس میں ان کی رہائش تھی۔ کمرہ اندر سے بند کرلیتے‘ کچھ گھنٹے کے بعد کمرہ کھول کر کاموں میں مصروف ہوجاتے۔ ان کا ایک شریر شاگردلڑکاروزانہ سوچتا کہ آخر استاد جی اپنے کمرے میں کیا کرتے ہیں‘ دیکھنا چاہئے‘ اس لڑکے نے دروازے میں ایک سوراخ کیا‘ ایک دن یہ لڑکا امام صاحب کے کمرے میں جانے کے بعد اس سوراخ میں سے دیکھنے لگا۔ اس نے دیکھا کہ امام صاحب نے کمرے کی زمین پر سے چٹائی ہٹائی اس کے نیچے گھاس پھونس بھرا تھا انہوں نے اسے بھی ہٹاکر زمین میں سے ایک مٹی کی ہانڈی نکالی اس ہانڈی کو الٹایا تو زمین پر اشرفیوں کا ڈھیر لگ گیا۔ امام صاحب ان اشرفیوں سے کھیلنے لگے جب ان کا

کھیل سے دل بھر گیا تو انہوں نے یہ اشرفیاں واپس ہانڈی میں رکھ کر ہانڈی زمین میں اسی جگہ پر رکھ دی اور اوپر سے گھاس پھونس ڈال کر چٹائی زمین پر بچھادی۔ اب روزانہ یہ لڑکا یہ تماشہ سوراخ میں سے دیکھتا ایک دن امام صاحب کو بخار چڑھ گیا‘ امام صاحب نے ایک لڑکے سے بازار سے مکھن منگوایا اور حسب معمول اپنے کمرے میں جاکر کمرہ بند کرلیا۔ ان کے اسی شاگرد نے سوراخ میں سے دیکھا کہ امام صاحب نے ہانڈی نکالی اور زمین پر اشرفیاں الٹیں۔ اب امام صاحب نے ایک ایک کرکے اشرفیاں مکھن میں لگاکر سب اشرفیاں کھا گئے کچھ دیر کے بعد کمرے سے باہر آگئے۔ کچھ گھنٹے کے بعد شاید ان اشرفیوں نے اپنا کام دکھایا اور امام صاحب چند گھنٹوں کے بعدفوت ہوگئے۔ محترم حکیم صاحب! اب ہم مسجد کے پچھلی طرف ایک گلی میں چلتے ہیں: مسجد کی پچھلی گلی میں ایک ہندو بنیا رہتا تھا جس کا کاروبار سود کا تھا اس نے بے شمار مسلمانوں کو سود پر رقم دی ہوئی تھی۔ اتفاق سے یہ ہندو بیمار ہوگیا اس ہندو نے اپنے بیٹے کو بلاکر اس سے تمام سودی کھاتے منگوائے‘ لڑکا بہت خوش کہ باپ اپنے آخری وقت میں یہ تمام سودی کھاتے بیٹے کے حوالے کردے گا۔ اس ہندو نے اپنے بیٹے کے ذریعہ تمام ان مسلمانوں کو بلوایا جب تمام مسلمان جمع ہوگئے تو اس ہندو نے یہ تمام کھاتے آگ کی نذر کردئیے اور ان مسلمانوں کی تمام رقم اصل معہ سود معاف کردی کے بعد ہندو مرگیا۔ ادھر امام صاحب اشرفیاں کھاکر فوت ہوئے اور اُدھر ہندو مسلمانوں کا اصل معہ سود معاف کرکے مرا۔ ادھر امام صاحب کو قبر میں دفنایا ادھر ہندو کو مرگھٹ میں جادیا یہ سب ایک وقت میں ہوا۔

Sharing is caring!

یہاں کلک کر کے شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *