یہ واقعات تو آپ نے سن رکھے ہوں گے

یہ واقعات تو آپ نے سن رکھے ہوں گے اور ایسے واقعات روزانہ رونما بھی ہوتے ہیں کہ کسی بدبخت عامل نے کسی معصوم لڑکی کی عزت لوٹ لی،اسکے جسم پر تعویذ لکھے تاکہ وہ بلاوں سے محفوظ ہوجائے اور اسکی پسند کی شادی ہوجائے ۔میرا تجربہ اور مشاہدہ یہ ہے کہ ایسا کرنے والے بہت بڑے فراڈئیے ہوتے ہیں جنہوں نے اپنا نیٹ ورک پھیلا رکھا ہوتا ہے۔

لاہور میں اور پاکستان کے باقی بڑے شہروں میں نام نہاد، دھوکے باز بنگالی بابوں کا راج ہے۔ روحانیت اور تصوف کی یہ الف ب نہیں جانتے۔ یہ بہت چالاکی اورمنصوبے کے ساتھ لوگوں کو لوٹتے ہیں بلکہ ایسے فراڈ بابو نے کئی عورتیں اور مرد رکھے ہیں جو تیس سے پچاس فیصد پر ان کیلئے لوگوں کو پھنسا کر ان کے پاس لے جاتے ہیں۔

مجھے پہلی دفعہ اس وقت پتہ چلا جب میں نیا نیا لاہور آیا تھا۔ ایک بہت امیر خاتون اپنے ڈرائیور کے ساتھ میرے گھر پر آئی اور بولی کہ میں نے اپنی بہو کو طلاق دلانی ہے۔ میں نے اس عورت کو صاف صاف کہہ دیا کہ میں ایسے غلط کام نہیں کرتا اور نہ ہی کروں گا۔ اب جب میں نے انکار کیا تو اس نے مجھے پیسوں کا لالچ دینا شروع کر دیا۔ یہاں تک کہ اس نے مجھے دس لاکھ کی آفر کر دی۔ میں نے کہا ’’بی بی جاؤ میں ایسے کام نہیں کرتا‘‘ جب میں بالکل نہ مانا تو اس کا ڈرائیور مجھے ایک طرف لے گیا اور بولا ’’جناب کیوں گھر آئی دولت کو ٹھکرا رہے ہیں۔ یہ بی بی بے شمار بابو ں کے پاس جا چکی ہے۔

ان سب کے گھر دولت سے بھرنے کے بعد اب یہ آپ کے پاس آئی ہے۔ میں بھی اسی لالچ میں اس کی نوکری کرتا ہوں۔ آپ پروفیسر ہیں، مان جائیں خود بھی پیسے لیں اور مجھے بھی میرا حصہ دیں۔ میں آپ کا بھرپور ساتھ دوں گا‘‘۔ میں اس کی باتیں حیرت سے سن رہا تھا’’ تم میرا کیا ساتھ دو گے ‘‘ وہ بولا ’’ان کے گھر میں مختلف جگہوں پر تعویذ رکھ دوں گا۔ پودوں میں، مرغی مار کر دبا دوں گا یا تعویذ اور ہڈیاں یا گڈے بنا کر دبا دوں گا۔ آپ کو بتا دیا کروں گا۔ جب آپ آ کر وہی چیزیں نکالیں گے تو یہ بی بی پاگل ہو جائے گی اور آپ کی دیوانی بھی کہ پیر صاحب تو بہت پہنچے ہوئے ہیں‘‘ میں اس ڈرائیور کی ہمت اور جرات کو دیکھ کر حیران ہو رہا تھا کہ لوگ کس کس طرح سے فراڈ کرتے ہیں۔ اسی طرح ایک دن ایک عورت میرے پاس آئی اور کہا’’ سر آپ کسی کے گھر جا کر دم وغیرہ کرتے ہیں۔ میں آپ کو ہر وزٹ کا دس ہزار دوں گی جس میں سے چار ہزار میرے ہوں گے‘‘ میں نے کہا’’ بی بی میں تو لیتا ہی نہیں، تم کیسے دوں گی؟ ‘‘ وہ بولی ’’آپ نے کچھ بھی نہیں کرنا۔ میں گھر والوں کو سمجھا دوں گی، آپ نے صرف لفافہ پکڑنا ہے جو گھر والے آپ کو دیں گے۔ میں بعد میں آ کر اپنا حصہ یا کمیشن لے لوں گی‘‘ اس کے بعد مجھے بے شمار ایسی عورتیں اور مرد مل چکے ہیں جو مختلف جعلی پیروں اور بنگالی بابوں کیلئے کمیشن پر کام کرتے ہیں۔ طریقہ واردات ان کا یہ ہوتا ہے کہ یہ مختلف گھروں میں کام کرتے ہیں اور معصوم عورتوں کو جعلی پیروں کی مختلف کرامتیں بیان کرتی ہیں کہ فلاں کا مشکل کام فلاں پیر نے کیا،

وہ بہت پہنچے ہوئے، بڑے مقام کے پیر صاحب ہیں۔ میں جب بھی کسی کو لے کر ان کے پاس گئی ہوں، ہمیشہ کام ہوا ہے۔ ظلم کی حد تو اس وقت ہوتی ہے جب یہ عورتیں نوجوان لڑکیوں کو پیروں کے پاس لے جاتی ہیں اور ان سے کہتی ہیں کہ اگر پیر صاحب تمہارے ننگے جسم پر تعویذ لکھنا چاہیں تو انکار نہیں کرنا۔ اگر تم پیر صاحب کو راضی کر دو گی تو تمہارا کام فوری ہو جائے گا۔ میرے پاس بے شمار ایسی نوجوان لڑکیاں آ چکی ہیں جن کے ساتھ ان عیاش پیروں نے زنا کئے اور برباد کیا۔ ان حالات کا شکار ایک میاں بیوی میرے پاس آئے۔ میں نے جب کہا کہ فلاں پیر کی تمہاری بیوی پر بری نظر ہے تو وہ مجھ سے ناراض ہو گیا کہ وہ تو بہت پہنچے ہوئے ہیں۔ خدا کیلئے ان جعلی پیروں،عاملوں ، فقیروں کو جاگتی آنکھوں سے دیکھا کریں اور اندھا یقین نہ کریں۔ میں لاہور میں ایک ایسے بنگالی بابا کو بھی جانتا ہوں جو پانچ مختلف جگہوں پر مختلف ناموں کے ساتھ بیٹھتا ہے اور سرعام لوگوں کو لوٹ رہا ہے۔ ہمارے لوگوں کی ذہنی حالت کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ وہ یہ کہتے ہیں کہ ہمارے اوپر کالا جادو ہوا ہے، یہ نوری علم یعنی قرآن پاک سے ختم یا علاج نہیں ہو سکتا، اس کا توڑ بھی کوئی بابا یا عیسائی کر سکتا ہے، لہٰذا وہ مجھ سے بھی پوچھتے ہیں کہ آپ کسی پہنچے ہوئے بنگالی بابا یا عیسائی کو جانتے ہیں یا ایسے کالے عامل کو جو کالے علم کا توڑ کر سکتا ہو۔ اللہ ہی ایسے بے وقوف لوگوں کو سمجھائے کہ اگر وہ بنگالی بابا یا عیسائی اتنے ہی ماہر یا پہنچے ہوئے ہوں تو سب سے پہلے اپنا پیٹ بھریں۔ یہ اعزاز تو اللہ والوں، صوفیوں، فقیروں اور درویشوں کو حاصل ہوتا ہے۔ جو کسی بھی قسم کے لالچ سے آزاد ہو کر صرف قرب الہٰی اور خدمت خلق کے جذبے سے سرشار دکھی انسانیت اور پریشاں حال لوگوں کی خدمت کرتے ہیں۔

Sharing is caring!

یہاں کلک کر کے شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *