وہ خاتون جس نے کینسر کی مریضہ بن کر اپنے ہی شوہر سے کروڑوں روپے اینٹھ لئے

تازہ خبر 92! لندن(ویب ڈیسک) نوسربازوں کے ہاتھوں اجنبیوں کو لٹتے تو دیکھا سنا تھا لیکن برطانیہ میں ایک بھارتی نژاد خاتون نے اپنے ہی شوہر اور رشتہ داروں کو ایسے طریقے سے لوٹ لیا کہ کوئی سوچ بھی نہ سکتا تھا۔ میل آن لائن کے مطابق برطانوی شہر لفبراکی رہائشی 36سالہ جیسمین مستری نامی اس خاتون نے کینسر کی مریض ہونے کا ڈرامہ رچایا اور کہا کہ اس

کا علاج صرف امریکہ میں ہوسکتا ہے جس کے لیے 5لاکھ پاؤنڈ درکار ہیں۔ جیسمین نے ایک خفیہ سم کارڈ خریدا جس سے اپنے ہی فون پر ڈاکٹر بن کر پیغامات بھیجے۔ ان پیغامات میں یہ لکھا تھا کہ اس کے دماغ میں کینسر کے ٹیومر کی تشخیص ہوئی ہے اوراس کے پاس صرف 6ماہ کا وقت ہے۔ جیسمین

نے یہ جعلی پیغامات اپنے 40سالہ شوہر وجے کاتیچیا کو دکھائے جس کے پاس ان پر اعتبار کرنے کے سوا کوئی چارہ ہی نہ تھا۔اس کے ساتھ جیسمین نے بیمار ہونے کی بھرپور اداکاری بھی کی۔ وہ گھر میں ادھر ادھر جانے کے لیے کسی فرد کا سہارا لیتی۔ بار بار ٹوائلٹ جاتی اور قے کرنے کی اداکاری کرتی۔ رفع حاجت کے بعد اپنے شوہر کو یہ بھی بتاتی کہ اس کے پاخانے میں خون آ رہا ہے۔ اس کا شوہر اس صورتحال پر بہت متفکر ہوا اوراس نے خاندان کے لوگوں سمیت دوردراز کے رشتہ داروں تک سے مالی معاونت طلب کر لی اور سب نے جیسمین کو رقم دینی شروع کر دی۔ بعدازاں معلوم ہوا کہ جیسمین اس رقم سے برانڈڈ بیگ، کپڑے اور جوتے خریدتی پھر رہی تھی۔جیسمین کا بھانڈا اس وقت پھوٹا جب اس کے شوہر کو ایک دن اتفاق سے وہ خفیہ سم کارڈ مل گیا جس سے جیسمین ڈاکٹر بن کر خود کو میسجز کرتی تھی۔ وجے نے جب اس حوالے سے جیسمین سے پوچھ گچھ کی تو اس نے جھوٹ بولنے کا اعتراف کر لیا۔ جیسمین نے بیماری کے بہانے اپنے شوہر، خاندان والوں اور شوہر کے دوستوں سے مجموعی طور پر 2لاکھ 53ہزار پاؤنڈ(تقریباً 4کروڑ 43لاکھ روپے) کی رقم ہتھیائی۔ جیسمین نے صرف اپنے شوہر اور رشتہ داروں کو ہی نہیں لوٹا بلکہ وہ ڈیٹنگ ایپلی کیشن پر غیرشادی شدہ لڑکی بن کر اجنبی مردوں کو بھی محبت کے جال میں پھنسا کران سے رقوم ہتھیا رہی تھی۔ جب اس کے خلاف پولیس کو رپورٹ کی گئی اور پولیس نے اسے گرفتار کرکے تفتیش کی تو تمام معاملات سامنے آ گئے۔ جیسمین کو سنیرس بروک کراؤن کورٹ میں پیش کیا گیا جہاں سے اسے 4سال قید کی سزا سنا کر جیل بھجوا دیا گیا ہے۔

Sharing is caring!

یہاں کلک کر کے شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *