2 روز قبل کورونا سے انتقال کر جانیوالے جسٹس سیٹھ وقار نے یہ فیصلہ دراصل کیوں دیا تھا ؟ جانیے

” >
لاہور (ویب ڈیسک) جسٹس وقار احمد سیٹھ جمعرات کو اسلام آباد کے ایک نجی ہسپتال میں کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کے باعث وفات پا گئے۔ جمعے پشاور کے آرمی سٹیڈیم میں ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی اور انھیں ان کے آبائی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا ہے۔

نامور صحافی عزیز اللہ خان کی بی بی سی کے لیے ایک رپورٹ کے مطابق ۔۔۔۔۔۔سابق صدر پرویز مشرف کے بارے میں ان کے فیصلے پر متضاد رائے سامنے آئی تھی اور حکومتی اراکین کی جانب سے جسٹس وقار احمد سیٹھ کے فیصلے پر کڑی تنقید بھی کی گئی تھی۔ پاکستان کے سابق فوجی صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کو آئین شکنی پر تختہ دار کی سزا سنانے والی خصوصی عدالت کے تفصیلی فیصلے کے مطابق جسٹس سیٹھ وقار اور جسٹس شاہد کریم نے پرویز مشرف کو آئین شکنی اور سنگین غداری کا مجرم قرار دیا جبکہ جسٹس نذر اکبر نے فیصلے سے اختلاف کیا اور کہا کہ استغاثہ اپنا کیس ثابت کرنے میں ناکام رہا۔خصوصی عدالت نے سربراہ جسٹس سیٹھ وقار نے اپنے فیصلے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو حکم دیا کہ وہ جنرل (ر) پرویز مشرف کو گرفتار کرنے اور سزا پر عملدرآمد کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں اور اگر وہ انتقال کر چکے ہوں تو ان کا بے جان جسم اسلام آباد کے ڈی چوک پر لایا جائے جہاں اسے تین دن تک ہینگ کیا جائے ۔ جسٹس وقار نے اپنے اس حکم کی توجیہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ چونکہ ماضی میں کسی بھی فرد کو پاکستان میں اس جرم میں سزا نہیں دی گئی اور عدالت نے اپنا فیصلہ مجرم کی عدم موجودگی میں سنایا ہے۔ اس لیے اگر مجرم سزا پانے سے قبل اگر وفات پا جاتا ہے تو یہ سوال اٹھے گا کہ آیا فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔ان کے دور میں پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے ضلعی سطح پر 83 ججوں کو نوکریوں سے نکالنے کی فیصلے پر تنقید کی گئی تھی اور وکلا کی جانب سے یہ کہا گیا تھا کہ اس سے ضلعی سطح کی عدلیہ پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔سینیئر وکیل شیر افضل ایڈووکیٹ نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ضلعی سطح پر عدلیہ کو اپنا کھویا ہوا مورال بحال کرنے میں وقت لگ سکتا ہے۔

یہاں کلک کر کے شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *