ہنی البیلا اور آغا ماجد کو کرپشن کی وجہ سے نکالنے کی خبریں۔۔!! آفتاب اقبال نے دونوں کو اپنے شو سے کیوں نکالا؟ خود ہی سب کچھ بتا دیا

لاہور(نیوزڈیسک)طنز و مزاح سے بھرپور معروف کامیڈی شو کرنے والے اینکر پرسن آفتاب اقبال نے حال ہی میں اپنے شو کی ٹیم سے کچھ لوگوں کو نکالا جس کے بعد سوشل میڈیا پر افواہیں اڑنے لگیں اور کہا گیا کہ انہوں نے بہت برا کیا اور اب یہ شو اس طرح سے نہیں چل سکے گا۔آفتاب اقبال نے ایک اور آرٹسٹ سلیم البیلا

کے ڈیجیٹل چینل البیلا ٹی وی پر بتایا کہ کچھ لوگ ان کے سابق پروڈیوسر حسیب سے متعلق کہہ رہے ہیں کہ انہیں کرپشن کی وجہ سے نکالا گیا مگر ان باتوں میں کوئی سچائی نہیں انہوں نے کہا کہ بس اس کے لیے میرے دل میں جو چاہت تھی وہ ایک دم سے ختم ہوئی اور اسے دوشعبوں میں سے کسی ایک میں کام کرنے کا کہا جس پر اس نے کام چھوڑ دیا۔اس کے بعد انہوں نے ہنی البیلا سے متعلق بتایا کہ وہ بیماری کے باوجود پروگرام میں شرکت کرتے رہے اور انہوں نے خود ہنی البیلا کو علاج کے لیے ڈاکٹروں کے نمبر دیئے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ہنی البیلا کو پروگرام کی ریکارڈنگ کیلئے بلایا تو وہ سہارےکیلئے چھڑی لیکر آئے اور کہا کہ وہ پروگرام میں شرکت نہیں کر سکتے مگر پھر بھی زبردستی کہہ کہلوا کر پروگرام کے دو سیگمنٹ ریکارڈ کرا لئے۔آفتاب اقبال نے بتایا کہ ہنی البیلا نے کہا کہ وہ اپنی بیماری کے باعث بہت تکلیف میں رہتے ہیں اور پروگرام میں شرکت نہیں کر سکتے حالانکہ وہ فیصل آباد میں کریم کمپنی کا پروگرام کر رہے تھے اور انہوں نے وہاں کسی تکلیف کا ذکر تک نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ اگر ہنی سیدھی بات کہہ دیتے تو ان کو اجازت دے دیتا مگر انہوں نے غلط بیانی کی جس کی وجہ سے وہ میرے دل سے اتر گئے اور میں ان کو شو سے علیحدہ ہونے کا کہہ دیا۔ مگر ہنی البیلا نے معذرت کرنے اور اپنی غلطی تسلیم کرنے کی بجائے شو کو خیر باد کہہ دیا۔ان کا کہنا تھا کہ ہنی البیلا اگر دس سال بعد بھی شو میں واپس آنا چاہیں تو ان کے لیے دروازے ہمیشہ ہمیشہ کھلے رہیں گے۔آفتاب اقبال نے اپنے بنائے گئے چینل “آپ نیوز کے حوالے سے بھی بتایا کہ جن ملازمین کے بقایا جات رہتے ہیں وہ ضرور ملیں گے اور اس حوالے سے انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جب تک کم تنخواہ والے ملازمین کو پیسے نہیں مل جاتے تب تک وہ خود اپنے پیسوں کا مطالبہ نہیں کریں گے۔

یہاں کلک کر کے شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *