ریاست مدینہ قائم ہونے سے پہلے ہی اس پر ہل چلا دیا گیا ؟ تبدیلی والوں کا ایک اور افسوسناک کارنامہ منظر عام پر –

لاہور (ویب ڈیسک) یہ نوٹس حکومتِ پاکستان کی طرف سے جاری ہواجس میں کسی گرے پڑے معمولی ادارے کے نہیں، بلکہ ملک کی قومی نشر گاہ ، ریڈیو پاکستان کے سینکڑوں ملازموں سے کہا گیا: آپ کو برطرف کیا جاتا ہے۔ماہانہ تنخواہ پر گزارا کرنے والے ملازموں کوخبر سنائی گئی کہ آپ کی مزید خدمات کی ضرورت نہیں،

نامور کالم نگار رضا علی عابدی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ کل سے کام پر نہ آئیے گا۔نوٹس بالکل یوں دے دیا گیا جیسے ناک پر بیٹھنے والی مکھی کو لاپروائی سے اڑا دیا جاتا ہے۔ ہزار سے زیادہ ملازموں کے گھروں میں فاقے کی شروعات ہوگئی۔مدینے کی ریاست پر قائم ہونے سے پہلے ہل چلادیا گیا اور وہ بھی اس شان سے کہ معمول کے بر خلاف کارکنوں کو بھیڑ بکری کی طرح برخاست کئے جانے کا سبب بھی نہیں بتایا گیا۔تھوک کے بھاؤ بر طرفیاں کوئی چھوٹی سی کارروائی نہیں، دکھ کی بات یہ ہے کہ جن سینکڑوں ملازموں کو کھڑے کھڑے ملازمت سے نکال دیا گیا، ان میں بڑی بڑی شان دار تنخواہیں پانے والے افسر شامل نہیں۔یہی چھوٹی چھوٹی اجرتوں پر گزارہ کر نے والے وہ افراد ہیں جو ادارے کے وہ معمولی کام سرانجام دیتے ہیں جنہیں اعلیٰ افسر اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں۔میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ایک ہزار سے زیادہ ملازموں کو نکال کر جتنا پیسہ بچایا جائے گا، اتنی بچت پانچ چھ اعلیٰ افسروں کو فارغ کرکے کی جاسکتی ہے جن میں کتنے ہی سفارشی ہوں گے، کتنے ہی جعلی ڈگریاں لے کر آئے ہوں گے اور کتنے ہی دیہی کوٹے او رشہری کوٹے کے نام پر بھرتی کئے گئے ہوں گے۔اگر یہ اعلیٰ صلاحیتوں کے مالک ہوتے تو ریڈیو پاکستان یوں خوار نہ ہوتا کہ اب گنتی کے لوگ اس کی نشریات سنتے ہوں گے۔وہ دن بہت قدیم نہیں ہوئے جب کیسے کیسے اعلیٰ پائے کے لوگ،

بے پناہ خوبیوں کے مالک لوگ ریڈیوپاکستان کا نام اونچا کیاکرتے تھے۔اب حال یہ ہے کہ بے روزگار لوگ سڑکوںپر نکل آئے ہیں۔ نشر گاہوں کو چلانے والے لوگ گلی کوچوں میں ’دھرنا ہوگا، دھرنا ہوگا‘ جیسے نعرے لگا رہے ہیں۔ ان میں ستم رسیدہ خواتین بھی نظر آئیں جو ریڈیو میں خدمات انجام دے کر اپنے گھر چلار ہی ہوں گی۔اب وہ بھی اسلام آباد کی سڑکوںپر مٹھیاں لہرا لہرا کر آواز لگا رہی ہیں کہ ملازمین کو بحال کرو۔ وہی اسلام آباد ، مملکت کا دارالحکومت، جہاں سائنس اور ٹیکنالوجی کے فربہ وزیر ریڈیو کی وسیع عمارت کو کرائے پر اٹھانے چلے تھے اور وہ بھی یہ کہتے ہوئے کہ ریڈیو اسٹیشن تو ایک کمرے میں بھی قائم ہوسکتا ہے جس پر میں نے لکھا تھا کہ وزیر صاحب نے تکلف سے قائم لیا، ریڈیو اسٹیشن تو باتھ روم میں بھی قائم ہو سکتا ہے اور یہ کہ وہاں سے گونجتی آوا ز وزیر موصوف کو ’نوائے سروش‘ لگے گی۔ابھی کسی نے بتایا کہ اسکردو کے ریڈیو اسٹیشن کی آواز کم زور پڑگئی ہے جب کہ لکیر کی دوسری طرف ریڈیو کارگل کی آواز بہت بلند او رتوانا ہے۔ وہاں بھارت کا انتظام و انصرام ہے، وہ ہمارے کانوں میں کیا کیا نہیں بھریں گے۔ میںنے اسکردوکا ریڈیو اسٹیشن دیکھا ہے ،کبھی بڑے چاؤ سے قائم کیا گیا ہوگا، عملہ بھی دوڑ دھوپ میں منہمک تھا۔سوچتا ہوں کیا ان لوگوں نے گھر جاکر بیوی بچوں کو خبرسنائی ہوگی کہ ان کی ملازمت ختم کردی گئی ہے؟قدرت انسان کو اختیار دے

مگر ساتھ میں عقل بھی دے۔ میں نے بہاول پور کی نشر گاہ بھی دیکھی ہے۔ لوگ کتنے سکون سے کام کر رہے تھے۔اب خیال آتا ہے کہ ان میں سے نہ جانے کتنوں کو بال بچوں کی تعلیم ، دوا علاج، مکان کے کرائے اور دو وقت کی روٹی کی فکر کھائے جارہی ہوگی۔مجھے ملتان کی نشر گاہ بھی دیکھنے کا موقع ملا تھا۔ وہاں راہ داریوں میں اندھیرا تھا۔ اب سوچتا ہوں کہ وہاں سے روزی کمانے والوں کی زندگیاں اندھیروں میں ڈوب رہی ہوں گی۔میں ان تحریروں میں لاکھ کوشش کرتا ہوں کہ سیاست کے بکھیڑوں میں نہ الجھوں اور سیاسی حکومت کو کام کرنے اور کچھ کر دکھانے کا موقع دوں مگر بات گھوم پھر کر ان ہی لوگوں کی طرف جاتی ہے جنہیں زمانے کے اتفاقات نے لے جاکر مسند ِاقتدارپر بٹھا دیا ہے مگر غضب یہ کیا ہے کہ ایسے اعلیٰ منصب کے ساتھ ساتھ دو چار خوبیاں عطا کرنے کی ضرورت تھی، زمانے کے اتفاقات نے ان لوگوں کو ان خوبیوں سے محروم رکھا۔ میں جانتا ہوں اور تمام با خبر افراد جانتے ہیں کہ ریڈیو پاکستان کی املاک، جائیدادیں ، پراپرٹیز ملک بھر میں پھیلی ہوئی ہیں۔سنا ہے ان کو ایک ایک کرکے ٹھکانے لگایا جا رہا ہے اور یہ لوگ اپنی دانست میں سرکاری خزانے پر بڑا احسان کر رہے ہیں۔یہ لوگ یا تو بھولے ہیں یا کچھ اور ہیں۔ ان کا حال دیکھ کرایک احساس ہے جو چٹکیاں لئے جاتا ہے کہ کہیں کچھ غلط ہوگیا۔ایک یقین ہے جو مستحکم ہوتا جاتا ہے کہ شاید زمانے کو ایک نوٹس اور دینے کی ضرورت ہے۔وہی نوٹس جو وقت کے پلے کارڈ پر بڑا بڑا لکھا ہوا ہے۔

یہاں کلک کر کے شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *