×

ہم کچھ نہیں کرئیں گے لیکن اگر کوئی حادثہ پیش آیا ۔۔۔!!!گوجرانوالہ جلسے سے پہلے اسٹبلشمنٹ نے مریم نواز کو کیا پیغام پہنچایا تھا ؟سہیل وڑائچ نے بڑا دعویٰ کر دیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک )سینئر صحافی سہیل وڑائچ نے کہاہے کہ گوجرانوالہ جلسے سے پہلے اسٹبلشمنٹ نے مریم نواز اور دیگر لوگوں کو پیغام پہنچایا تھا کہ ہم راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں دالیں گے اور اسٹبلشمنٹ کی طرف سے کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی گئی ، جتنی رکاوٹیں آئیں وہ حکومت کی جانب سے ڈالی گئی تھیں ۔

سینئر صحافی سہیل وڑائچ نے مریم نوازشریف کے بیان پر تجزیہ کرتے ہوئے کہاہے کہ ظاہر ہے کہ ابھی حکومت کے جانے کی کوئی بات نہیں ہو رہی ،وہ تو یہ کہہ رہی ہیں کہ اگلا کوئی سیٹ اپ ہے تو اس بارے میں مذاکرات ہوں یا اس سیٹ اپ کے رخصتی کے بارے میں بات ہو گی تو پھر ہم مذاکرات کرنے کو تیار ہیں ۔جب برطانیہ کی حکومت تھی تو اس پر الزام بھی لگتا تھا اور کانگرس کے مذاکرات بھی ہوتے تھے ، مسلم لیگ کے مذاکرات بھی ہوتے تھے ، جنرل ضیاءالحق کے خلاف پیپلز پارٹی الزام بھی لگاتی تھی اور بینظیر بھٹو کی واپسی پر ڈائیلاگ بھی کرتی تھی ، 88 کے الیکشن بھی اسی اسٹبلشمنٹ کے ساتھ مل کر ہوئے ۔ان کا کہناتھا کہ سوال یہ ہے کہ آخری نتیجہ کیا ہو گا ، آج سٹیٹس کو سے معاملہ چل کر گفت و شنید تک آ گیاہے ، اس کا مطلب ہے جو نوازشریف کے بیان تھے اس نے مذاکرات کیلئے سہولت کاری کی ہے ، پہلے تو کوئی ڈائیلاگ کی بات نہیں ہو رہی تھی ماسوائے اس کے کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کا احتساب ہو رہا تھا ان کی کوئی بات نہیں سنی جارہی تھی اب اپوزیشن کی بات بھی سنی جارہی ہے اور ڈائیلاگ کیلئے بھی تیار ہیں ،ظاہر ہے اس بیانیے کو سامنے رکھیں گے اس کا سیاسی فائدہ ہوا ہے ۔سہیل وڑائچ کا کہناتھا کہ میرا خیال ہے کہ گنجائش نکلے گی ، ہم سب کا اور پورے ملک کا فائدہ ڈائیلاگ میں ہے ،

اگلے الیکشن کے بارے میں مذاکرات ہوں اور حکومت بھی چلے ، بطور جموریت پسند میں سمجھتا ہوں کہ اس حکومت کو بھی اپنا وقت پورا کرناچاہیے ہاں اگر تبدیلی آنی ہے تو جمہوری اور پالیمانی طریقے سے آئے اور اس کا راستہ ہر وقت کھلا ہے ۔پیپلز پارٹی اس نے ایک درمیانی راستہ اپنایا تھا ، درمیانی راستہ اپنانے کا مقصد یہ تھا کہ ڈائیلاگ کے راستے بھی کھلے رکھے جائیں اور پی ڈی ایم کے ساتھ سرگرمی بھی جاری رکھی ، ابھی مریم کی بلاول سے ملاقات بھی ہوئی ہے ، میرا خیال ہے کہ اس بیانیے میں انہوں نے کچھ چیزیں مان لی ہیں کہ آپ ڈائیلاگ بھی کریں اور اپوزیشن کا کردار بھی ادا کریں ۔انہوں نے کہا کہ کئی معاملات چل رہے ہوتے لیکن بڑا ایشو یہ ہے کہ کیا اپوزیشن ، حکومت اور اسٹبلشمنٹ میں کوئی ڈائیلاگ ہو گا ، کیا ان کے درمیان ڈیڈ لاک ہے اور کیا وہ ختم ہو گا؟ پھر ثانوی ایشوز ہیں جیسے کورٹ آف انکوائری ہے ، جلسے ہیں ، پہلا ضروری ڈیڈ لاک جو ٹوٹا ہے دونوں طرف سے بات آ رہی ہے کہ مذاکرات کا سلسلہ شروع ہونا چاہیے ۔سہیل وڑائچ کا کہناتھا کہ ہر وقت اسٹبلمشنٹ کے سیاستدانوں سے رابطے رہتے ہیں اور سیاستدان اسٹبلشمنٹ سے رابطے رہتے ہیں ، اس بات سے انکار نہیں ہو سکتا ۔میرا خیال ہے کہ لاہور اور گوجرانوالہ کا جو جلسہ تھا اس سے پہلے اسٹبلشمنٹ نے مریم اور دیگر لوگوں کوپیغام پہنچایا تھا کہ ہم کوئی راستے میں رکاوٹ نہیں ڈالیں گے ، اور اسٹبلشمنٹ کی طرف سے کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی گئی جتنی رکاوٹیں ڈالی گئیں وہ حکومت کی طرف سے ڈالیں گئیں ۔سینئر صحافی کا کہناتھا کہ گوجرانوالہ میں نوازشریف کی تقریر سے کشیدگی آئی لیکن پر میرا خیال ہے کہ دوبارہ سے ڈائیلاگ شروع ہوا ، ن لیگ کے پانچ کے قریب افراد ہیں وہ تو اسٹبلشمنٹ کیلئے نرم ہیں ،وہ کہتے ہیں کہ ہمیں ڈائیلاگ کا راستہ اپنا نا چاہیے ، نوازشریف کا بیانیہ ضرورت سے زیادہ سخت ہے ۔میرا خیال ہے کہ مریم نواز کا رسپانس مثبت ہے ، اس کے مثبت اثرات ہوں گے ۔

یہاں کلک کر کے شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں