گستاخ رسولؐ کی سزا کیا ہونی چاہیے ؟ محمد ؐ کی شان میں بے مثال اشعار کہنے والے زبیر بن ابی سلمیٰ کے بیٹے نے رسول ؐ کی شان میں گستاخی کی تو اس کے حوالے سے کیا حکم جاری ہوا تھا ؟ جانیے

لاہور (ویب ڈیسک) سیدنا عمر فاروقِ اعظمؓ شاعری کے دلدادہ تھے۔ زہیر بن ابی سلمیٰ کے معترف۔ انہیں اشعر الشعرا کہتے۔ فرماتے: کسی کی مدح کرتاہے تو انہی اوصاف پر، جو اس میں موجود ہوں۔ ایک بار ارشاد کیا تھا: جب تک عربی زبان زندہ ہے، اس کا کلام باقی رہے گا۔ ہاں، اس میں دانائی ہے،

نامور کالم نگار ہارون الرشید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ خودداری بھی بہت، جو عرب شاعروں کا وتیرہ نہ تھا۔زہیر کے ممدوح حرم بن سنان وفورِ محبت میں جذبات سے اتنے مغلوب ہوئے کہ فدا ہو گئے۔ کہا: آج کے بعد زہیر جب بھی مجھے سلام کرے گا، یعنی ملاقات ہو گی، میں اسے ایک اونٹ یا گھوڑا، ایک کنیز یا غلام پیش کروں گا۔اس کے بعد زہیر جب سردار سے ملے تو یہ کہا: تم سب پر سلام ہو، سوائے اس کے جو تم میں سب سے بہتر ہے۔ پھر کبھی کوئی تحفہ قبول نہ کیا۔ وفات سے پہلے زہیر نے ایک خواب دیکھا: آسمان سے لٹکتی ہوئی رسی، کچھ لوگ جسے تھام سکے۔ اس نے ہاتھ بڑھایا تو رسی سمٹ گئی۔ سو کر اٹھا تو اپنے بیٹوں سے یہ کہا: خدا کی قسم یہ نبوت کے سوا کچھ بھی نہیں۔ میں اس مشعل بردار کو دیکھ نہ پاؤں گا مگر تم اس پر ایمان لانا۔زہیر کا فرزند کعب بن زہیرگستاخی کا مرتکب ہوا۔ اس کی جان لینے کا حکم جاری کر دیا گیا مگر پھر وہ بھیس بدل کر حاضر ہوا اور ایمان لایا۔عالی جنابؐ اس وقت شاید عفو درگزر کے باب میں کچھ ارشاد فرما رہے تھے۔ عقب سے آواز آئی: کیا گستاخی کا مرتکب بھی معاف کر دیا جائے گا؟پلٹ کر نہیں دیکھا مگر فرمایا: ہاں، خواہ وہ کعب بن زہیر ہی کیوں نہ ہو۔ مشہور قصیدہ’’بانت سعاد‘‘ اس کے فوراً بعد لکھا گیا۔ اوّلین اور اعلیٰ ترین قصائد میں سے ایک، جو سرکارؐ کی خدمت میں پیش کیے گئے۔ ایک شعریہ ہے جئت رسول اللہ معتذراً والعفو عند کراما الناس مقبولُ اللہ کے رسولؐ کی خدمت میں معذرت کے لیے حاضر ہوا۔جو اہلِ کرم ہیں، معذرت وہ قبول کرتے ہیں۔ 1400بر س سے سرکارؐ کی مدح جاری ہے اور ہمیشہ جاری رہے گی۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے: ورفعنا لک ذکرک۔ہم نے تیرے لیے تیرا ذکر بلند کر دیا۔ ابتلا کا زمانہ ابھی جاری تھا، جب یہ آیت نازل ہو ئی تھی۔تیرہ سو برس بعد امتی نے لکھا چشمِ اقوام یہ نظارہ ابد تک دیکھے رفعتِ شانِ ’’ورفعنا لک ذکرک‘‘ دیکھے اس آدمی کا نام اقبالؔ تھا۔

یہاں کلک کر کے شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *