عمران خان کے بڑے پرستار جنرل حمید گل مرحوم انہیں میدان سیاست میں کیوں اتارنا چاہتے تھے ، اسکے پیچھے انکی کیا خواہش تھی ؟ جانیے

لاہور (ویب ڈیسک) میں نے سنا ہے، آپ نے بھی سنا ہوگا، بلکہ ہم سب نے سنا ہے کہ مرحوم جنرل حمید گل،عمران خان سے بہت متاثر تھے۔ مرحوم جنرل حمید گل بذاتِ خود کرکٹ کے کھلاڑی نہیں تھے اور نہ ہی وہ اس بات سے متاثر تھے کہ تب عمران خان کا شمار دنیا کے

تین بہترین فاسٹ بالرز اور دنیا کے تین اعلیٰ آل رائونڈرز میں ہوتا تھا۔نامور کالم نگار امر جلیل اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔مرحوم جنرل حمید گل عمران خان کی بین الاقوامی شہرت سے متاثر تھے۔ عمران خان ہینڈسم تھےاور اب بھی ہینڈسم ہیں۔ آپ ان کی بے پناہ شہرت کا اندازہ اس بات سے بھی لگا سکتے ہیں کہ بالی ووڈ اور ہالی ووڈ کے شوبز Showbiz والے عمران خان کو اپنی طرف کھینچنے کی کوشش کرتے تھے۔ورلڈ کپ جیتنے سے بہت پہلے عمران خان دنیا بھر میں مشہور ہو چکے تھے۔ ورلڈ کپ نے ان کی شہرت کو سرخاب کے پر لگا دیئے تھے۔وہ پاکستانی قوم کے ہیرو بن چکے تھے۔ اس دور میں دس پیدا ہونےوالے بچوں میں سے نو بچوں کا نام عمران رکھا جاتا تھا۔ نام کے بعد اپنی ولدیت، ذات پات لگا دیتے تھے۔ جیسے، عمران علی، عمران بٹ، عمران خاصخیلی، عمران مدراسی، عمران بروہی، عمران نقوی، عمران شنواری وغیرہ۔ایک سیاسی پارٹی والے بھی عمران خان کی شہرت سے بہت متاثر تھے۔ ان کے ہاں عمران ٹنڈا، عمران لنگڑا، عمران کن کٹا، عمران بچھو ہوتے تھے۔ اپنے ڈیل ڈول کی وجہ سے ان کے پاس ایک عمران ہاتھی بھی ہوتا تھا۔نامور شخص کے نام پر اپنے بچوں کا نام رکھنے کا رجحان پاکستان میں ایک مرتبہ پہلے بھی دیکھا گیا تھا۔ تب سعودی عرب کے فرماں روا شاہ فیصل اسلامی سربراہی کانفرنس میں شرکت کرنے کیلئے پاکستان آئے تھے۔ یہ بات تقریباً پینتالیس برس پرانی ہے۔اسلامی سربراہی کانفرنس کے بعد کئی برس تک پاکستان میں پیدا ہونے والے ہر دوسرے بچے کا نام والدین فیصل رکھتے تھے۔

روڈ، راستوں، کالونیوں کے علاوہ ایک صدیوں پرانےشہر کا نام تبدیل کر کے فیصل آباد رکھا گیا تھا۔سیاست پر گہری نظر رکھنے والے گھسے پٹے سیاستدانوں سے بیزار ہوچکے تھے۔ہندوستان کے بٹوارے سے بہت پہلے ذات پات، برادریوں اور قبیلوں میں بٹے ہوئے موروثی سیاستدان ہندوستان کی سیاست پر چھائے ہوئے تھے؟ بٹوارے کے بعد یہی موروثی نظام پاکستان کو ورثے میں ملا ۔کئی معتبر، پڑھے لکھے لوگ اس دقیانوسی سیاسی نظام کو تبدیل کرنے کا سوچتے تھے، مگر عملاً کچھ کر نہیں سکتے تھے۔وثوق سے کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا۔ کوئی کچھ بتا نہیں سکتا کہ مرحوم جنرل حمید گل کھیل کے میدان سے نکال کر عمران خان کو سیاست کے اکھاڑے میں کیوں لے آئے تھے۔ ہم عام آدمی اس سلسلے میں کچھ نہیں جانتے۔ ہم صرف سوچ سکتے ہیں۔ہم صرف اندازہ لگا سکتے ہیں کہ مرحوم جنرل حمید گل ایک کھلاڑی کو سیاسی دنگل میں کیوں اتارنا چاہتے تھے؟ عمران خان کی کس بات سے مرحوم جنرل حمید گل بہت متاثر تھے؟ مرحوم جنرل حمید گل بظاہر عمران خان کی عالمی شہرت سے متاثر تھے۔غالباً وہ سمجھ رہے تھے کہ جس قوم نے ایک کھلاڑی کی حیثیت میں عمران خان کو اپنی سر آنکھوں پر بٹھائے رکھا ہے۔ وہی قوم عمران خان کو سیاستدان کے طور پر قبول کرلے گی۔ یہ منطقی سوچ نہیں ہے۔اس وقت امیتابھ بچن ہندوستان میں سب سے زیادہ ہر دلعزیز شخص ہیں۔ ان کی شہرت ان کی بے مثال اداکاری کی وجہ سے ہے۔ کیا بے پناہ شہرت سیاست میں امیتابھ بچن کے کام آسکتی ہے؟ اداکاری کرنا اور لوگوں سےروٹی، کپڑے اور مکان کے وعدے کرنا دو قطعی مختلف باتیں ہیں۔

محمد علی کلےکو اگر کبھی امریکا کا صدر بنا دیتے توکیا وہ امریکہ کو نظم و ضبط سے چلا سکتا تھا؟ شہرت رکھنےوالے کھلاڑی، فنون لطیفہ اور شوبز پر چھائے ہوئے آرٹسٹ، نامور لکھنےوالے اور دانشور قطعی طور پر سیاستدانوں سے طبعاً مختلف رویوں کے لوگ ہوتے ہیں۔سرِ دست مجھے اس وقت صرف ایک آرٹسٹ کا نام یاد آرہا ہے جن کا تعلق ہالی ووڈ سے تھا۔ انکا نام رونالڈ ریگن تھا۔ وہ 1981ء سے 1989ءتک امریکہ کے چالیسویں صدر رہے۔عمران خان بنیادی طور پر کرکٹر ہیں۔ وہ بھی فاسٹ بالر۔ اسکول سے لے کر ٹیسٹ کرکٹ سےریٹائر ہونے تک عمران خان تیس پینتیس برس Competitive کرکٹ کھیلتے رہےہیں۔زندگی کے یہی ابتدائی برس انسان کی شخصیت کو نکھارتے اور سنوارتے ہیں۔ وہ اپنی باقی ماندہ زندگی ابتدائی برسوں کی تربیت، کشاکش، عادات و اطوار کے ساتھ، بغیر کسی لچک کے گزارتا ہے۔ میں عمران خان کو ان کے ابتدائی کرکٹ کے دور سے دیکھتا آرہا ہوں۔ آپ پرانے ویڈیو چلا کر ان کو کھیل کے میدان میں کھیلتے ہوئے دیکھیں۔ان کی چال ڈھال وہی دکھائی دیتی ہے جو آج کل سیاستدان بننے کے بعد دکھائی دے رہی ہے۔ کرکٹ گرائونڈ میں ان کی باڈی لینگویج Body Languageہو بہو آج کی باڈی لینگویج جیسی دکھائی دیتی ہے۔سیاست میں اونچ نیچ ہوتی رہتی ہے۔ اچھا سیاستدان اپنی دانشمندی اور تحمل کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ مگر ایک فاسٹ بالر ایسا نہیں کرتا۔ اسےمیچ میں چوکا یا چھکا لگ جائے تو غصہ سے تلملا اٹھتا ہے۔کچھ ایسا ہی عمران خان کے ساتھ آج کل ہو رہا ہے۔ ایک جملہ نواز شریف کے ساتھ نتھی کر دیا گیا تھا۔ ’’مجھے کیوں نکالا‘‘۔ آج کل اسی قسم کا ایک جملہ عمران خان سے جوڑا جا رہا ہے۔ ’’کسی کو نہیں چھوڑوں گا، کسی کو نہیں چھوڑو ںگا۔‘‘ مجھے خدشہ ہے کہ کیریکیچرCaricature میں عمران خان کو مچھر مارتے ہوئے ، چوہوں کے پیچھے دوڑتا دکھاتے ہوئے ان کی آواز سپر امیوز نہ کر دی جائے۔’’کسی کو نہیں چھوڑوں گا، کسی کو نہیں چھوڑوںگا۔‘‘

یہاں کلک کر کے شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *