طاقت کا غرور۔۔۔نواز شریف کونسا حرف سننا پسند کرتے تھےاور بھٹو خاندان کو کونسا تاریخی جملہ لے ڈوبا؟ رؤف کلاسرا کے سنسنی خیزانکشافات

لاہور (ویب ڈیسک)1999 کے واقعات کے بعد جب نواز شریف صاحب کو باہر بھجوا دیا گیا تو وہاں جدہ میں بھی وہ خود کو وزیر اعظم ہی کہلوانا اور سنسنا پسند کرتے تھے۔سینئر کالم نگار رئوف کلاسرا اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ ۔۔۔۔ جدہ کے سرور پیلس میں ان کےملٹری سیکرٹری انہیں تب بھی مسٹر

وزیر اعظم کہہ کر بلاتے تھے۔ نواز شریف صاحب وہ لفظ سننا چاہتے تھے‘ جن سے وہ آشنا تھے۔ وہ برسوں تک اس حقیقت کو تسلیم نہ کر سکے کہ وہ ملک کے وزیر اعظم نہیں رہے‘ لیکن ان کے ارد گرد موجودلوگ انہیں یہی احساس دلاتے تھے۔ بینظیر بھٹو بھی اسی رومانس کا شکار تھیں۔نصرت بھٹو کا وہ جملہ سب کو آج بھی یاد ہو گا کہ بھٹوز حکمرانی کے لیے پیدا ہوئے ہیں۔ یہ حکمرانی کا تصور پورے بھٹو خاندان کو ختم کر گیا‘ لیکن حکمرانی کا راستہ پھر بھی ترک نہ کیا گیا۔ انسان جلا وطنی کا دکھ سہہ لیتا ہے اور ایک ہیرو کی زندگی ترک کر کے اپنے لیے مسلسل عذاب خرید لیتا ہے۔ وہ زندگی جس میں اگر ایک کروڑ بندہ آپ کے لیے زندہ باد کے نعرے لگاتا ہے تو ایک کروڑ مردہ باد بھی بولتا ہے۔ آپ دن رات اپنے دشمن کے بارے میں سوچتے ہیں‘ یہ کہ آپ اسے کیسے نقصان پہنچا سکتے ہیں اور کیسے اپنی برتری ثابت کر سکتے ہیں۔ دوسروں سے ممتاز اور نرالا ہونے کا یہ شوق جہاں انسانوں کو تخت پر بٹھاتا ہے‘ وہیں یہ تختے پر بھی لے جاتا ہے۔سینئیر صآحافی رؤف کلاسرا سیاست کے حوالے سے انکشافات کرتے رہتے ہیں اس سے پہلے انہوں نے بتایا تھا کہ فردوس عاشق اعوان کی اقتدار کی راہداریوں میں واپسی کا سارا عمل اس قدر خفیہ رکھا گیا ہے کہ صرف 3 افراد اس کے متعلق جانتے تھے۔انہوں نے بتایا کہ اسے خفیہ رکھنے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ فیاض الحسن چوہان کو بھی معلوم نہیں تھا کہ انہیں وزارت کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔رؤف کلاسرا نے انکشاف کیا کہ گزشتہ کئی دنوں سے عمران خان اور فردوس عاشق اعوان رابطے میں تھے، وزیراعظم ہاؤس کے بجائے انہیں بنی گالہ میں بلایا گیا تاکہ ملاقات کی خبر باہر نہ آئے۔ان کا کہنا ہے کہ عمران خان اپنے ترجمانوں کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں، انہوں نے گزشتہ دنوں ایک کابینہ میٹنگ میں بھی کہا ہے کہ وزرا میڈیا پر حکومت کی درست ترجمانی نہیں کر رہے۔رؤف کلاسرا کے مطابق وزیراعظم کا خیال ہے کہ ٹی وی اسکرین پر مخالفین کا بیانیہ چھا رہا ہے، حکومت کی کارکردگی اور اچھے کام بھی عوام کو سامنے نہیں آ رہے۔

یہاں کلک کر کے شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *