میکڈونلڈ کی جہاں بھی کوئی نئی برانچ کھلتی ہے ، پہلے دن یہ بچوں بالخصوص یتیم بچوں کو فری برگر کھلاتے ہیں ، اس روایت کے پیچھے 1948 میں پیش آنے والا کونسا واقعہ ہے ؟جان کر آپ کو اس ریستوران کی کامیابی کا راز سمجھ آ جائے گا

لاہور (ویب ڈیسک) میکڈونلڈ دو بھائیوں رچرڈ میکڈونلڈ اور موری میکڈونلڈ نے1948میں کیلی فورنیا میں بنایا تھا‘ یہ ایک نیا آئیڈیا تھا اور یہ شروع میں بری طرح فیل ہو گیا تھا‘ یہ دونوں بھائی ایک دن گاہکوں کا انتظار کرتے کرتے تھک گئے اور ریستوران بند کر دیا لیکن پھر اچانک ایک چھوٹا سا بچہ آیا‘

نامور کالم نگار جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ کھڑکی بجائی اور ایک برگر مانگا‘ رچرڈ نے انکار کر دیا لیکن موری نے بچے کو رکنے کا کہا‘ چولہا جلایا‘ گوشت گرم کیا اور برگر بنا کر بچے کو دے دیا‘ بچے نے پیسے دیے مگر اس نے اس سے پیسے نہیں لیے‘ بچے نے سڑک پار کی اور جنگل میں غائب ہو گیا۔بس بچے کے جانے کی دیر تھی میکڈونلڈ کے سامنے گاڑیوں کی لائین لگ گئی اور پھر میکڈونلڈ پوری دنیا میں میکڈونلڈ ہو گیا‘ وہ بچہ کون تھا اور کہاں سے آیا تھا؟ کمپنی آج تک اسے تلاش کر رہی ہے لیکن وہ نہیں ملا‘اس کے بعد میکڈونلڈ کی روایت ہے یہ اپنے ہر ریستوران کے پہلے دن بچوں بالخصوص یتیم بچوں کو فری برگر دیتے ہیں اور سوچتے ہیں شاید وہ بچہ ان بچوں میں شامل ہو کر دوبارہ آ جائے۔

یہاں کلک کر کے شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *