اوریا مقبول جان کی پوری دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دینے والی تحریر –

لاہور (ویب ڈیسک) گیلپ ورلڈ پول (Gallup World Poll) کے مطابق اس وقت پوری دنیا، جس میں تمام براعظم شامل ہیں، ہر سو میں سے 13کمسن بچیوں کے گھر میں ایسے بچے موجود ہیں جو ان غلط تعلقات کے نتیجے میں پیدا ہوئے اور ان کے ’’والد محترم‘‘ انہیں چھوڑ کر چلے گئے اور

بیچاری مائیں انہیں پال رہی ہیں۔نامور کالم نگار اوریا مقبول جان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ یہ اعدادوشمار ایک سو چالیس ممالک سے حاصل کیئے گئے ہیں۔ ان تمام براعظموں میں صرف امریکہ اور کینیڈا ریجن میں ایسی اکیلی غیر شادی شدہ ماؤں کی تعداد 19فیصد ہے۔ یعنی ہر پانچویں بچی ایک ایسے ’’ناجائز‘‘ بچے کو پال رہی ہے جس کا باپ اسے چھوڑ کر کسی دوسری محبوبہ کے قدموں میں اپنا دل نچھاور کرنے جا چکا ہے۔ جنوبی امریکہ کے ممالک میں یہ تعداد مزید خوفناک ہے، یعنی 30فیصد، یعنی ہر تیسری کمسن بچی ایسی اولاد پالتی ہے جس کے خانۂ ولدیت میں نام لکھنا بھی کئی ملکوں میں قانونی نہیں ہے۔ یہ خوفناک رجحان دنیا بھر میں بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ امریکہ کے تمام تحقیقی ادارے غیر شادی شدہ ماؤں کے بارے میں جو اعداد وشمار جمع کرتے ہیں ، انہیں ایک ادارے ’’Child Trend data Bank‘‘نے جمع کیا ہے۔ اس کے مطابق 1960ء میں غیر شادی شدہ ماؤں کی تعداد 5فیصد تھی جبکہ 1995ء میں یہ تعداد 33فیصد ہوگئی اور 2008ء میں41فیصد ہوگئی۔ اس کے بعد کے بارہ سالوں کے اعدادو شمارا بھی تک میسر نہیں، لیکن اندازہ ہے کہ امریکہ کی ہر دوسری عورت ایک ’’ایسے‘‘ بچے کو پال رہی ہے۔ اپنی مرضی سے غلط تعلقات استوار کرنے کے لیئے ان مہذب ممالک میں عمر کی بھی کوئی پابندی نہیں ۔ ایک ساٹھ سالہ بڈھا کھوسٹ ایک چودہ سالہ بچی کے ساتھ اس کی مرضی کے مطابق رہ سکتا ہے اور بغیر شادی کے بچے بھی پیدا کرسکتا ہے۔ اگر کوئی شوبز یا فیشن انڈسٹری والا ستر سالہ بوڑھا ایسا کر لے تو دنیا کے ہر اخبار اور چینل میں ایک لذت بھری سنسنی خیز خبربن جاتی ہے۔ اس سارے ’’کاروبارِ جذبات‘‘کو جائز رکھنے کے لیئے تیرہ سال سے انیس سال تک کی ٹین ایج بچی کی صرف ایک گواہی کافی ہے کہ ’’میں اپنی مرضی سے یہ سب کچھ کر رہی ہوں‘‘لیکن دنیا بھر کے تمام ممالک، بلکہ عالمی ادارۂ صحت کے ڈاکٹر اس بات پر متحد اور متفق ہیں کہ کسی کمسن بچی کی شادی اسکے والدین نہیں کر سکتے، خواہ وہ اس کی مرضی کے مطابق ہی کیوں نہ ہو۔ ایک لڑکی کسی بڈھے سے عشق لڑا کر اولاد لے سکتی ہے لیکن اگر وہ شادی کرنے کے لیئے کسی عدالت یا چرچ چلی جائے گی تو گرفتار کر لی جائے گی۔ یہ ہے وہ دنیاجو غلاظت سے لتھڑے ہوئے پھل کھانا پسند کرتی ہے اور صاف ستھرے پاکیزہ پھل سے نفرت کرتی ہے۔

یہاں کلک کر کے شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *