کار ایکسیڈنٹ میں پہلی بیوی کے انتقال کے بعد جوبائیڈن کی ڈاکٹر جل سے شادی کیسے ڈرامائی انداز میں ہوئی ؟ بی بی سی کی خصوصی رپورٹ

” >
واشنگٹن (ویب ڈیسک) سنہ 1990 کی دہائی میں جس کمرہ جماعت میں ڈاکٹر جِل بائیڈن انگلش پڑھاتی تھیں، وہاں سے انھوں نے اس وقت ڈیموکریٹک پارٹی کے کنوشن سے خطاب کیا جب ان کے شوہر کو باقاعدہ طور پر صدارتی امیدوار نامزد کر دیا گیا تھا۔جو بائیڈن کے انتخاب کے حق میں دلائل دینے

کے بعد ان کے شوہر نے ممکنہ خاتونِ اول کے طور پر ان کی خوبیاں گنوائیں۔بی بی سی کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق ۔۔۔۔بائیڈن نے کہا: ‘اپنی پسندیدہ ٹیچر کے بارے میں سوچیں، جنھوں نے آپ کو خود پر بھروسہ کرنے کا اعتماد دیا۔ جِل بائیڈن ایسی ہی خاتونِ اول ہوں گی۔’مگر ہم اُن خاتون کے بارے میں کیا جانتے ہیں جو ہوسکتا ہے کہ جلد ہی وائٹ ہاؤس میں اپنے شوہر کے ساتھ متمکن ہوجائیں؟جِل جیکبز جون 1951 میں امریکہ کی ریاست نیو جرسی میں پیدا ہوئیں۔ پانچ بہنوں میں سب سے بڑی جِل فلاڈیلفیا کے نواحی علاقے ولو گروو میں پلی بڑھیں۔جو سے شادی کرنے سے قبل وہ سابق کالج فٹ بال کھلاڑی بل سٹیونسن سے رشتہ ازدواج میں منسلک تھیں۔جو بائیڈن کی پہلی بیوی اور ان کی ایک سالہ بیٹی 1972 میں کار حادثے میں موت کی آغوش میں چلے گئے ۔ ان کے بیٹے بیو اور ہنٹر دونوں ہی اس حادثے میں محفوظ رہے۔جِل کہتی ہیں کہ انھیں 1975 میں جو کے بھائی نے اُن سے ملوایا تھا۔ اس وقت وہ سینیٹر تھے اور وہ اس وقت بھی یونیورسٹی میں تھیں۔وہ کہتی ہیں: ‘میں سینیئر تھی اور میں جینز اور ٹی شرٹ پہننے والوں کے ساتھ ڈیٹ کر رہی تھی۔ وہ میرے دروازے پر آئے، انھوں نے سپورٹ کوٹ اور لوفر جوتے پہن رکھے تھے اور میں نے سوچا: ‘او خدایا، یہ کبھی بھی نہیں ہوسکتا، لاکھوں سالوں میں بھی نہیں۔’ وہ مجھ سے نو سال بڑے تھے۔’انھوں نے بتایا کہ جو نے انھیں پانچ مرتبہ شادی کی پیشکش کی جس کے بعد میں نے اسے قبول کیا۔وہ کہتی ہیں

‘میں نہیں چاہتی تھی کہ وہ [جو کے بچے] ایک اور والدہ سے محروم ہوجائیں، اس لیے مجھے سو فیصد پراعتماد ہونا تھا۔’اس جوڑے نے 1977 میں نیویارک میں شادی کی۔ اُن کی بیٹی ایشلے 1981 میں پیدا ہوئیں۔جو کے بیٹے بیو مئی 2015 میں 46 سال کی عمر میں دماغ کے سرطان کے باعث چل بسے۔مسز بائیڈن نے کنونشن سے اپنے خطاب میں اپنے شوہر کی حمایت کرتے ہوئے اپنے خاندان اور اپنی جدوجہد کے بارے میں گفتگو کی۔انھوں نے کہا: ‘میں جانتی ہوں کہ اگر ہم جو کو اس قوم کی ذمہ داری دیں، تو وہ آپ کے خاندان کے لیے وہی کریں گے جو انھوں نے ہمارے لیے کیا – ہمیں متحد کریں گے اور ہمیں ایک بنائیں گے، ہمیں ضرورت کے وقت آگے لے کر جائیں گے اور ہم سب کے لیے امریکہ کا وعدہ پورا کریں گے۔’انہتر سالہ مسز بائیڈن کئی دہائیوں تک تدریس کے شعبے سے وابستہ رہی ہیں۔ ان کے پاس ایک بیچلرز ڈگری اور دو ماسٹرز کی ڈگریاں ہیں، اور انھوں نے سنہ 2007 میں یونیورسٹی آف ڈیلاویئر سے تعلیم میں پی ایچ ڈی کی۔واشنگٹن ڈی سی منتقل ہونے سے قبل وہ امریکی ریاست ڈیلاویئر کے ایک کمیونٹی کالج، ایک سرکاری ہائی سکول اور ایک نفسیاتی ہسپتال میں پڑھاتی تھیں۔انھوں نے رواں سال ڈیموکریٹک پارٹی کے کنونشن سے اپنا خطاب ڈیلاویئر برینڈی وائن ہائی سکول میں اپنے پرانے کمرہ جماعت سے دیا جہاں وہ 1991 سے 1993 تک انگلش پڑھا چکی ہیں۔جب جو بائیڈن نائب صدر تھے تو جِل بائیڈن ناردرن ورجینیا کمیونٹی کالج میں انگلش کی پروفیسر تھیں۔انھوں نے اگست میں ٹویٹ کی: ‘ٹیچنگ وہ نہیں جو میں کرتی ہوں، یہی میری ذات ہے۔’سنہ 2009 سے سنہ 2017 تک جب جو بائیڈن نائب صدر تھے، تو مسز بائیڈن کو خاتونِ دوئم کا خطاب حاصل تھا۔اس دوران ان کا کام کمیونٹی کالجوں کو فروغ دینا، فوجی خاندانوں کے لیے آواز اٹھانا، اور چھاتی کے سرطان کی روک تھام کے لیے آگاہی پیدا کرنا تھا۔سنہ 2010 میں انھوں نے وائٹ ہاؤس میں کمیونٹی کالجوں پر ایک اجلاس کی صدارت کی جس کا مقصد ‘امریکہ کی افرادی قوت تیار کرنے میں کمیونٹی کالجوں کے کردار پر روشنی ڈالنا’ تھا۔انھوں نے سابق خاتونِ اول مشیل اوباما کے ساتھ جوائننگ فورسز انیشیئٹیوکی بھی بنیاد رکھی جس کا مقصد وار میں حصہ لے چکے سپاہیوں اور ان کے خاندانوں کو تعلیمی پروگراموں اور ملازمتی وسائل تک رسائی دلانا تھا۔سنہ 2012 میں انھوں نے بچوں کے لیے ایک کتاب شائع کی جس میں انھوں نے اپنی پوتی کے ایک فوجی خاندان میں ہونے کے تجربے کو بیان کیا ہے۔وہ سنہ 2020 میں اپنے شوہر کی صدارتی مہم میں ان کی نمایاں حامی رہی ہیں اور انھوں نے ان کے ساتھ متعدد فنڈ ریزنگ ایونٹس اور دیگر تقریبات میں شرکت کی ہے۔

یہاں کلک کر کے شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *