عمران خان کی نئی خطرناک دھ مکیاں! فوجی قیادت نئی مشکل کا شکار، پاکستان میں سیاسی انتشار اپنے عروج پر جا پہنچا،سینئر صحافی رؤف کلاسرا کے تہلکہ خیز انکشافات

لاہور(نیوز ڈیسک) سینئر صحافی اور معروف اینکر رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ اس وقت فوجی قیادت مشکلات کا شکار ہے

جبکہ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ کا پارٹی چھوڑنے کا اعلان اس بات کو ظاہر کرتا ہے

 کہ مسلم لیگ (ن) کی ٹوٹ پھوٹ کا عمل شروع ہو گیا ہے۔رؤف کلاسرا کا اپنے وی لاگ میں کہنا ہے کہ اگرچہ ثنااللہ

زہری کا واقعہ بھی عبدالقادر بلوچ کے استعفیٰ کی وجہ ہو سکتا ہے مگر یقینی بات ہے

 کہ آرمی قیادت پر اس طرح کھلی تنقید کے بعد ان پر بھی بطور ایک ریٹائرڈ جنرل اور سابق کورکمانڈر اس کے خلاف ردعمل ظاہر کرنے کے لیے دباؤ ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ اس سے قبل چھوٹے موٹے ایم پی اے وغیرہ کے نون لیگ کو چھوڑنے کی بات چل رہی تھی

لیکن عبدالقادر بلوچ کا پارٹی سے الگ ہونا ایک بڑا پیغام ہے۔رؤف کلاسرا کے مطابق اسٹیبلشمنٹ اگر نون لیگ کو توڑنا چاہتی ہے

 تو ضروری ہے کہ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ جیسے لوگوں کے چھوڑنے کو بارش کا پہلا قطرہ قرار دیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ جس طرح جنرل مشرف نے نون لیگ کو توڑ کر ق لیگ بنائی تھی،

 یوں لگتا ہے جیسے وہی کام دہرایا جا رہا ہے۔رؤف کلاسرا نے اندر کی خبر دیتے ہوئے بتایا کہ ایاز صادق دو تین روز تو دباؤ میں رہے

لیکن پھر نوازشریف نے انہیں لندن سے کال کر کے تھپکی دی ہے۔سینئر صحافی کے مطابق نواز شریف نے انہیں کہا ہے کہ اپنی بات سے پیچھے نہ ہٹیں،

مریم نواز کو بھی کہا گیا ہے کہ جا کر انہیں سپورٹ کریں۔ اس لیے غالب امکان ہے کہ اگلے ایک دو روز میں مریم نواز بھی ان کے گھر جائیں گی

اور انہیں تھپکی دیں گی کہ آپ اپنی بات پر ڈٹے رہیں۔انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے ایاز صادق کے گھر جانے کے پیچھے بھی نوازشریف کا ہاتھ بتایا جا رہا ہے۔رؤف

کلاسرا کا کہنا ہے کہ ایاز صادق نے وزیراعظم عمران خان کو انتخابات میں شکست دی تھی اس لیے وہ بھی اس معاملے پر سختی کا مظاہرہ کر رہے ہیں،

سیاست کے ساتھ ساتھ ذاتی مخالفت کا عنصر بھی اس میں شامل نظر آ رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ آج عمران خان نے گلگت میں تقریر کے دوران غداروں کی فہرست میں میر جعفر اور میر صادق کے ساتھ ایاز صادق کو بھی جوڑ دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سے قبل سابق اسپیکر کے خلاف مقدمہ درج کرنے یا ان کی قومی اسمبلی کی نشست خالی کرنے کی باتیں ہو رہی تھیں،

 اچانک یہ سب باتیں پس پشت چلی گئی ہیں کیونکہ وہ ایک مختلف ایاز صادق کے روپ میں سامنے آئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پارٹی کو خصوصی ہدایات دی گئی ہیں کہ ایاز صادق کو مکمل سپورٹ دینی ہے اور جو بیانیہ انہوں نے چلایا ہے وہی جاری رہے گا۔

رؤف کلاسرا نے مریم نواز کے لاہور میں خطاب کے متعلق کہا کہ ان کی تقریر بہت اہم تھی اگرچہ اس میں زیادہ لوگوں نے شرکت نہیں کی۔

رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ مریم نواز نے اپنی توپوں کا رخ ڈی جی آئی ایس پی آر کی طرف موڑا ہے اور انہیں مخاطب کر کے کہا ہے

 کہ آپ عمران خان کے پیچھے کھڑے ہیں اور پارٹی بن چکے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ فوج کے لیے بہت مشکل پیدا ہو گئی ہے

 کیونکہ روز کوئی نہ کوئی اس کی قیادت کو ہدف تنقید بنا رہا ہے، عمران خان نے بھی اپنے ایک دو انٹرویوز

میں یہ تاثر دیا ہے کہ وہ اپوزیشن کے ساتھ آرمی چیف کے رابطوں سے خوش نہیں ہیں۔

رؤف کلاسرا نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج وزیراعظم نے ایک عجیب سا بیان دیا ہے،

انہوں نے حضرت عمر (رض) کی جانب سے حضرت خالد بن ولید (رض) کو سپہ سالاری کے عہدے سے ہٹانے کی بات کی ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس وقت جنگ کے حالات بھی نہیں ہیں تو وہ کس لیے یہ بات کر رہے ہیں

 اور کسے پیغام بھیجا جا رہا ہے؟ان کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں فوجی ادارہ سینڈوچ بنتا جا رہا ہے،

اس پر ہر طرف سے تنقید آ رہی ہے۔رؤف کلاسرا کے مطابق شاید فوجی قیادت عمران خان کے کہنے پر بہت زیادہ معاملات میں دخیل ہو گئ تھی،

 تاجروں سے ملاقات سے لے کر نیب کو ہدایات دینے اور سیاستدانوں سے ملاقات کرنے تک ان کا عمل دخل نظر آ رہا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس وجہ سے ان کے لیے مسائل بن رہے ہیں، آرمی قیادت پھنسی ہوئی لگ رہی ہے،

ایک طرف عمران خان خالد بن ولید کی مثالیں دے رہے ہیں تو دوسری طرف مریم نواز ڈی جی آئی ایس پی آر اور نواز شریف آرمی چیف

اور ڈی جی ایس آئی ایس کو ہدف تنقید بنا رہے ہیں۔رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ عموماً حکومت سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کی کوشش کرتی ہے جبکہ اپوزیشن اسے بڑھانے میں لگی رہتی ہے

 لیکن یہاں حکومتی وزیر خود معاملات کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔ اس لیے پاکستانی سیاست بہت خطرناک دور میں داخل ہو چکی ہے۔

یہاں کلک کر کے شیئر کریں

Articles You May Like

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *