اردو نیوز

ایک کسا ن کے پاس تین گدھے تھے۔ اسے پیسوں کی ضرورت تھی ۔ اور وہ انہیں بیچنے کے لیے مارکیٹ لے کر جارہا تھا۔ چلتے چلتے وہ ایک نہر کےپاس گذرا۔ گرمی کا موسم تھا۔ اس نے سوچا کیوں نا تھوڑی دیر کے لیے نہر میں نہا کر تازہ ہوجائے۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ گدھوں کو باندھنے کے لیے اس کے پاس صرف دو رسیاں تھیں۔

 کسان بیچارا پریشان تھا۔ کہ وہ تیسرے گدھے کا کیا کرے۔ اسے کیسے باند ھے۔ اگر اس کو کھلا چھوڑ کر چلا گیا ۔

تو وہ گدھا بھا گ بھی سکتا ہے۔ قریبی اسے بوڑھا آدمی نظر آیا۔ جو اپنے جانور چرا رہا تھا۔ کسان اس بوڑھے آدمی کے پاس چلا گیا ۔ کہ شاید اسے وہاں سے کوئی رسی مل جائے۔

کوئی مدد مل جائے۔ بوڑھا آدمی بڑا عقل مند تھا۔ اس کے پاس رسی تو نہیں تھی۔ لیکن اس نے کسان کو ایک عجیب اور زبردست خیال دیا۔ اس نے کہا کہ تم دوگدھوں کو اپنے پاس موجو د رسیوں سے باندھ لو۔ لیکن خیال رکھو کہ جب تم دونوں گدھوں کو باندھ رہے ہو تو تیسرا گدھا تمہیں دیکھتا رہے۔

پھر تم تیسرے گدھے کو جھو ٹ موٹ اس درخت کے ساتھ باندھ دو۔ اس کو بالکل ایسے ہی ظاہر کرو۔ جیسے تم اسے ایک رسی کے ساتھ باندھ رہے ہو۔

حالانکہ تمہارے پاس کوئی رسی نہیں ہے۔ خالی ہاتھوں کو اس کی گردن کے گر د گھما کر گرہ لگاؤ۔ پھر اس کو درخت کے ساتھ باندھ دو۔ کسان نے بوڑھے آدمی کی ہدایت پر عمل کیا۔ اور بالکل ویسے ہی کیا۔

جیسے ہی بوڑھے آدمی نے کہاتھا۔ اور نہانے چلا گیا۔ جب وہ واپس آیا ۔ تو دیکھ کر بڑ ا حیرا ن ہوا ور خوش ہوا۔ کہ تینوں گدھے بالکل اسی جگہ پر کھڑے تھے ۔ جہاں وہ انہیں چھوڑ گیا تھا۔ اس نے دل ہی دل میں بوڑھے آدمی کا شکر یہ ادا کیا۔ دونوں گدھوں کی رسیوں سے کھولا۔ اور چھر ی سے تیسرے گدھے کو چلنے کا اشارہ کیا۔ دو گدھے تو چلنا شروع ہوگئے۔

تیسر ا گدھا ٹس سے مس نہ ہوا۔ وہ اپنی جگہ پر کھڑا رہا۔ کسان نے اسے پھر چھری ماری۔ اسے دھکا لگایا۔ لیکن وہ گدھا اپنی جگہ سے ہلنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ کافی دیر کوشش کرنے کے بعد بھی جب وہ گدھا اپنی جگہ سے نہ ہلاتو کسان پریشان ہوگیا۔ اور دوبارہ مشورے کےلیے اس بوڑھے آدمی کے پاس آیا۔ کیا تم اس تیسرے گدھے کی رسی کو کھولا ہے۔

بوڑھے آدمی نے پوچھا ۔کیا مطلب ؟ میں نے تو اسے رسی کے ساتھ باندھا ہی نہیں تھا۔ اسے تو صرف باندھنے کا ڈرامہ کیا تھا ۔ کسان نے جواب دیا۔ بوڑھا آدمی مسکر ایا۔ یہ بات تمہیں پتہ ہے۔ لیکن گدھے کو تو یہ بات نہیں پتہ۔

وہ ابھی تک یہی سمجھ رہا ہے کہ تم نے اسے سچ مچ رسی کے ساتھ باندھا ہوا ہے۔ اس لیے جا کر اس کی رسی کو کھولو۔ کسان حیران و پریشان واپس آیا اور جھوٹ سے گدھے کی رسی کو کھولنا شروع کر دیا۔ اسے حیرت کا شدید جھٹکا لگا جب اس گدھے نے چلنا شروع کردیا۔

اور بھا گ کر باقی کے دو گدھوں کے ساتھ مل گیا۔ دوستو! آپ کو زندگی میں آگے بڑھنےسے ، کامیاب ہونے سے کیا چیز رو ک رہی ہے؟ کیا آپ کے پاس وسائل کی کمی ہے؟ آپ کے پاس مواقع کی کمی ہے؟ یا آپ نے اپنے آپ کو نظر نہ آنے والی ان رسیوں سے باندھا ہوا ہےجن کا کوئی وجود ہی نہیں۔

 جو ڈر کی ، خوف کی رسیاں ہیں۔ ناکامی کے خوف کی رسیاں ہیں۔ ان شک کی رسیاں جو ہمارے ذہن میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ لوگوں کے بٹھائے ہوئے ہیں۔ تم یہ نہیں کرسکتے ۔ تم سے نہیں ہوگا۔ تم ناکام ہوجاؤ گے۔

 یہ تمہارے بس کی بات نہیں ہے۔ کامیاب ہونے کے لیے ایکسٹرنل فیکٹرز پر کام کرنا چاہیے۔ لیکن اپنے ان مینٹل بلاکس کو ضرور توڑنا چاہیے۔ ان رسیوں کو ضرورختم کرنا چاہیے۔ جن کا کوئی وجو د ہی نہیں۔

پروں کو کھول زمانہ اڑان دیکھتا ہے

زمیں پر بیٹھ کر کیا آسمان دیکھتا ہے

یہاں کلک کر کے شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں