پاکستان کا پرچم کس نے تیار کیا ؟

‏‎
پاکستان کا پہلا پرچم کس نے تیار کیا؟

تحریر : ثنااللہ خان احسان

  1. Pakistan 1st Falg maker

    ماسٹر الطاف حسین

زیر نظر تصویر میں ٹیلر ماسٹر الطاف حسین دھلی میں موجود اپنی ٹیلر شاپ پر پاکستان کا پہلا جھنڈا تیار کررہے ہیں- وہ غالبا” ترپائ یا سفید اور سبز حصوں کو ٹانکوں سے جوڑنے کے بعد اپنے دانتوں کی مدد سے آخری ٹانکے کا دھاگہ توڑ رہے ہیں- یہ تصویر لیاقت علی خان کی فرمائش پر ایک امریکی خاتون فوٹو گرافر نے لی تھی اور یہ امریکہ کے لائف میگزین میں بھی چھپی تھی-
‏‎3 جون سن 1947 ‎قائد اعظم کی ھدایات پر امیر الدین قدوائ نے پاکستانی پرچم کو ڈیزائن کے مطابق ایک نمونہ تیار کر کے دیا اور پھر اس ڈیزائن کے مطابق پرچم کی سلائ و تیاری کا کام حسین برادرز ٹیلرنگ شاپ کو سونپا گیا جو قائد اعظم اور دیگر کئ رہنمائوں کے کپڑے سیتے تھے۔ سرکاری طور پر ماسٹر الطاف حسین کو ہی پہلا پاکستانی پرچم تیار کرنے والے کا اعزاز حاصل ہے۔

‏‎ یہ دو بھائ تھے۔ بڑے بھائ کا نام ماسٹر افضال حسین اور چھوٹے کا ماسٹر الطاف حسین تھا۔ نئ دہلی میں واقع ان کی ٹیلرنگ شاپ کا نام حسین برادرز تھا۔ تین جون1947 کو ماسٹر الطاف حسین نے اپنی دکان واقع نیو دہلی میں یہ پرچم تیار کیا۔ اسی دوران لیاقت علی خان ایک خاتون امریکی فوٹو گرافر کے ساتھ دکان پر پہنچے جس نے جھنڈا سیتے ہوئے ماسٹر الطاف حسین کی تصاویر بھی لیں اور ‏‎ان میں سے ایک تصویر امریکہ کے لائف میگزین کی 18 اگست 1947 کی اشاعت میں چھاپی بھی گئ۔ یہ تصویر اب باقاعدہ پاکستان کی تاریخ کے ریکارڈ کا حصہ ہے۔

‏‎ سن 1979 میں ماسٹر افضال حسین نے پریس کانفرنس میں دعوی کیا کہ پہلا پاکستانی پرچم انہوں نے بنایا تھا۔ ماسٹر افضال حسین کے انٹرویو کا یہ جملہ قابل غور ہے کہ ’’میں نے جلدی سے پیمائش اور رنگوں کے تناسب سے کپڑے کی تراش خراش کرکے الطاف حسین کو دیا جسے انھوں نے سی دیا‘‘، یکم دسمبر1979ء کے روزنامہ جسارت میں مرحوم ماسٹر الطاف حسین کی بیوہ شکیلہ بیگم کی جانب سے بیان شایع ہوا کہ ’’پاکستان کا پہلا پرچم میرے مرحوم شوہر نے تیار کیا تھا‘‘ ۔ماسٹر افضال کا سن 1987 میں انتقال ہوگیا۔

‏‎یہ معاملہ ابھی تک کنفیوژن کا شکار ہے۔ سن1996 میں اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے ماسٹر افضال حسین کو سرکاری طور پر پاکستان کا پہلا پرچم بنانے والے کا اعزاز عطا کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن اس کے جواب میں ماسٹر الطاف حسین کے بیٹے ظہور حسین نے بطور ثبوت اپنے والد کی وہ تصویر پیش کردی جو لائف میگزین میں شائع ہوئ تھی۔ ماسٹر الطاف حسین اور ماسٹر افضال حسین کا انتقال ہو چکا ہے لیکن ان کے لواحقین محض مراعات اور مالی فوائد حاصل کرنے کے لئے اب تک برسر پیکار ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ ماسٹر افضال حسین نے ڈیزائن کے مطابق کپڑے کی تراش خراش کر کے چھوٹے بھائ الطاف حسین کو سینے کے لئے دے دیا۔ جس وقت الطاف حسین وہ پرچم سی رہے تھے اس وقت لیاقت علی خان امریکی فوٹو گرافر کے ہمراہ وہاں پہنچے تھے جس نے الطاف حسین کی پرچم سیتے ہوئے تصویر لے لی۔ اب یہ فیصلہ قارئین پر چھوڑتے ہیں کہ یہ اعزاز کس کو دیا جانا چاہئے۔

دوستوں سے شیئر کریں

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں