ڈی سیون D7 طیارے کا سفر

ڈی سیون D7 طیارے کا سفر

تحریر فاطمہ حورین

چدائی

ایک مرتبہ میں یونیورسٹی روڈ پر کھڑی بس کا انتظار کر رہی تھی گرمیوں کی تپتی دوپہر میں ویسے تو روزانہ بھائی لینے آتا ہے بائیک پر لیکن اس روز بھائی کو کہیں کام سے جانا پڑا تو مجھے بس سے سفر کرنے کا پہلی بار اتفاق ہوا یونیورسٹی کی دوست سے بس کا روٹ پوچھا کے ملیر میں کونسی بس لینڈ کرتی ہے۔

اسنے مسکراتے ہوئے جواب دیا گستاخ بس نہیں ملیر میں D7 نام کا طیارہ لینڈ کرتا ہے میں نے کھلکھلاتے ہوئے سوالیہ نظروں سے ارم کی طرف دیکھا یار مزاح مت کرو سہی بتاو اسنے کہا ہاں D7 نامی گستاخ بس جاتی ہے۔

اللہ کا نام لے کر بیٹھ جانا میں یہی باتیں سوچتی ہوئی یونیورسٹی روڈ کے بس سٹاپ پر ایک گستاخ بس کا انتظار کرنے لگی پیاس سے ہونٹ خشک ہو رہے تھے بیگ سے پانی کی بوتل نکال کر پانی پیتے کیا دیکھتی ہوں گولی کی رفتار سے ایک بس مجھ سے ایک قدم دوری پر بریک لگاتی ہے ۔

بس کا کنڈیکٹر با آواز بلند پکارتا چلو چلو کالا بورڈ ملیر والے میں جلدی سے بس میں سوار ہوئی ابھی ایک پاوں ہی بس کے اندر تھا کہ کنڈیکٹر کی سیٹی بجی اور چلو استاد کی آواز جونہی میرے کانوں سے ٹکرائی ڈرائیور نے بس کو طیارہ ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کی بس میں سیٹ پر بیٹھے ہوئے میری نظر سامنے چلتے ہوئے ٹرک پر پڑی جس پر لکھا تھا۔

"توں لنگ جا ساڈی خیر اے" اس بات کو شائد ڈرائیور نے بھی پڑھ لیا تھا بھرپور کٹ مارتے ہوئے گولی کی طرح ٹرک سے آگے میرے منہ سے بے ساختہ اللہ اکبر نکلا اور میں نے آنکھیں بند کرلینا مناسب سمجھیں تھوڑی دیر بعد سامنے نظر پڑی تو ایک بڑی بس کے پیچھے لکھا تھا۔ "ہم سا ہو تو کوئی سامنے آئے" اس بات کو ڈرائیور نے دل پر لے لیا اور ریس پر پاؤں دبا دیا میں نے اب کی بار اللہ ھو کی تسبیح پڑھنی شروع کردی کچھ ہی دیر میں بس کو کٹ کراتے ہوئے ڈرائیور نے فتح حاصل کی اور میری سانس بحال ہوئی ۔

اب کی بار میری نظر ڈرائیور کی سیٹ کے اوپر پڑی جس کے اوپر واضح حروف میں عبارت تحریر تھی آخری سفر یہ پڑھتے ہی میں نے گھبراہٹ سے بیگ سے موبائل نکالا اور امی کو کال کرتے ہی بولی امی مجھے معاف کر دینا میں آج بس سے آرہی ہوں ہو سکتا ہے یہ میرا آخری سفر ہو امی کی زوردار آواز آئی بکواس بند کر جلدی گھر آ کھانا ٹھنڈا ہو رہا ساتھ ہی کنڈیکٹر کی آواز کانوں میں پڑی چلو ملیر آگیا ملیر والے گیٹ پر پہنچیں ۔

دوستوں سے شیئر کریں

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں