مسئلہ پاکستان کی سلامتی کا

مسئلہ پاکستان کی سلامتی کا
تحریر : نعیم منصوری
پاکستان کی سلامتی

نعیم منصوری

ہائے پاکستان ، عوام وہی دیکھتی ہے جو یہ کرپٹ اینکر اور کرپٹ اپوزیشن اسے دکھانا چاہتی ہے لیکن حقیقت سے آنکھیں چراتی ہے اس بیوقوف عوام کو یہ کرپٹ اپوزیشن اور کرپٹ اینکرز جس طرف ڈگڈگی بجاکر گھمانا چاہتے ہیں یہ بلکل اسی طرف گھوم جاتے ہیں لیکن آج تک کسی اینکر نے عوام کو یہ نہیں بتایا اور نہ ٹاک شو میں اس موضوع پر بات کرتے ہیں جوکہ پاکستان کے لئے انتہائی اہم ہے اور عوام کی اکثریت بھی اس بارے میں لاعلم ہوگی کیونکہ ان لوگوں نے انہیں یہ بتایا ہی نہیں اور نہ بتانا چاہتے ہیں کیونکہ اگر اس موضوع پر ٹاک شو کئے گئے تو  عوام کے دلوں میں حکومت کے لئے ہمدردی پیدا ہو جائیگی اور عوام حکومت کی حمایت میں کھڑی ہوجائیگی لیکن کیونکہ اس اینکرز حضرات کو ایجنڈا ہی یہی دیا گیا ہے کہ عوام کو غلط تصویر دکھائی جائے۔
آج تک کتنے اینکروں نے یہ بتایا کہ ن لیگ کے آخری ڈیڑھ سال میں پاکستان میں بے انتہا کرپشن ، منی لانڈرنگ ، ادارے گروی رکھ کر قرض لینے اور اس قرض کو سرمایہ کاری کرکے ملک کے حالات کو بہتر کرنے کے لئے استعمال کرنے کے بجائے اپنے باپ کا مال سمجھ کر اپنی عیاشی اور کرپشن کی نظر کر دینے کی وجہ سے پاکستان گرے لسٹ میں شامل ہوگیا، گرے لسٹ میں رکھ کر پاکستان کو موقع دیا گیا کہ اپنے ملک میں جو کرپشن،  منی لانڈرنگ، منشیات فروشی اور دیگر جرائم ہورہے ہیں اسے کنٹرول کیا جائے ، اس کے خلاف سخت اقدامات کئے جائیں اور مجرموں کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے اور اگر مجرموں کے خلاف کاروائی نہیں کی گئی تو پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کردیا جائیگا اور یہی یہ کرپٹ اینکرز اور کرپٹ اپوزیشن چاہتے ہیں، بلیک لسٹ میں شامل ہوتے ہی پاکستان پر عالمی پابندی لگ جائیگی، پاکستان بینک کرپٹ ہوجائیگا اور ممکن ہے پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر قبضہ کرکے پاکستان کی فوج کو کمزور کردیا جائے جس سے پاکستان پر حملہ کرنا آسان ہوجائیگا اور پاکستان میں موجود آئل اور گیس کے ذخائر پر قبضہ کر لیا جائیگا۔
 عمران خان نے جب حکومت سنبھالی تو اسکے سامنے سب سے بڑا چیلنج پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنا تھا یہی وجہ ہے پاکستان میں مجرموں کے خلاف کاروائی سخت کردی گئی ہے اور کسی بھی کریمنل کا بچنا ناممکن ہے اس کی ابتداء اسی وقت ہوچکی تھی جب الطاف حسین کے خلاف کاروائی کی گئی اور اس پر پاکستان میں پابندی لگ گئی اسکے بعد شریف فیملی اور زرداری فیملی کے خلاف کاروائی سب کے سامنے ہے کیونکہ ان دو فیملی کو پوری دنیا جانتی ہے کہ ان دونوں پارٹیوں نے کرپشن اور منی لانڈرنگ کے ذریعہ بیرون ملک کتنا پیسہ چھپایا ہوا ہے اور زرداری کے بارے میں تو یہ تک مشہور تھا کہ اس سے ہاتھ ملانے کے بعد اپنی انگلیاں گن لیا کرو۔ جب زرداری اور ن لیگ کی حکومت تھی تو غیر ملکی سرمایہ کاروں نے پاکستان سے اپنا بزنس ختم کردیا کیونکہ یہ لوگ ان سے کمیشن مانگتے تھے جبکہ بیرون ملک سرمایہ کار چاہتے تھے کہ آپ ہم سے ٹیکس لے لو جو بنتا ہے لیکن ہم کمیشن نہیں دینگے ۔
ان دونوں کرپٹ پارٹیوں کی حکومت کے بعد جب عمران خان کہ حکومت آئی تو پاکستان کی بہترین خارجہ پالیسی کی بدولت غیر ملکی سرمایہ کاروں نے پھر سے پاکستان کا رخ کیا کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ عمران خان کا کرپشن سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں۔ فروری 2019 میں گرے لسٹ کے متعلق فیصلہ ہونا تھا لیکن جب دیکھا گیا کہ پاکستان نے مجرموں کے خلاف کاروائی تیز کردی ہے تو پاکستان کو اکتوبر 2019 تک مزید مانٹرینگ میں ڈال دیا گیا ، موجودہ صورتحال میں ترکی ، ملائیشیا اور چین نے پاکستان کی حمایت کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ممکن ہے ستمبر 2019 میں روس کے دورے بعد روس بھی پاکستان کا ساتھ دینے کے لئے تیار ہوجائے جس کے بعد امید ہے کہ پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکال دیا جائیگا۔ پاکستان کا گرے لسٹ میں نام ہونے کی وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کاروں نے پاکستان میں سرمایہ کاری روک رکھی ہے کیونکہ اگر کسی وجہ سے پاکستان بلیک لسٹ ہوگیا تو ان کا پیسہ بھی ڈوب جائیگا۔
ا
لئے پاکستان کے بہتر مستقبل کے لئے پاکستان کا گرے لسٹ سے نام نکلنا بہت ضروری ہے جس کے لئے پاک فوج اور عمران خان کی حکومت بھرپور محنت کررہی ہے ، پاکستان کا گرے لسٹ سے نام نکلنے کے بعد ترقی کی طرف پاکستان کا صفر شروع ہوجائیگا لہذا میری تمام پاکستانیوں سے درخواست ہے کہ خدارا پاکستان کا سوچو ان کرپٹ اینکروں اور کرپٹ اپوزیشن کا ساتھ دینے کے بجائے پاک فوج اور عمران خان کا ساتھ دے کر اسے مضبوط کریں کیونکہ یہ پاکستان کی سلامتی کا مسئلہ ہے۔ اب فیصلہ آپ نے کرنا ہے کہ آپ نے کس کا ساتھ دینا ہے ملک بچانے کی کوشش کرنے والوں کا یا ملک کو برباد کرنے والوں کا۔ سوچئے گا ضرور۔
دوستوں سے شیئر کریں

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں