پچھلی ایمینسٹی سکیم اور اس ایمنیسٹی سکیم میں فرق کیا تھا

پچھلی ایمینسٹی سکیم اور اس ایمنیسٹی سکیم میں فرق کیا تھا؟

تحریر: عاصم چوہدری

ایمنیسٹی اسکیم

ایمنیسٹی سکیم

30 تاریخ گزر گئی ایمنیسٹی سکیم کی ڈیٹ گزر گئی تو بہت سے لوگ اچھل کود کررہے ہیں کہ اس ایمنیسٹی سکیم کا حکومت کو کیا فائدہ ہوا یا پچھلی ایمینسٹی سکیم اور اس ایمنیسٹی سکیم میں فرق کیا تھا؟

ماضی کی ایمنیسٹی سکیم اور اس ایمنیسٹی سکیم کے بہت سے فرق میں کئی پوسٹس میں بتاچکا ہوں- لیکن جو سب سے بڑا فرق میں پچھلی پوسٹس میں نہیں بتایا تھا وہ بتانے لگا ہوں ذرا کان کھول کر سنیئے ہوسکتا ہے کہ بہت سے لوگوں کو ہارٹ اٹیک بھی ہوجائے-

ماضی کی جتنی بھی ایمنیسٹی سکیمیں آئی ان میں حکومت کی طرف سے یہ شرط ہوتی تھی کہ آپ 1 یا 2 فیصد کالا دھن گورنمنٹ کو جمع کروادیں اور یوں آپکا باقی کا مال وایئٹ ہوجائے گا-اب ایک آدمی اٹھا اور بولا کہ جی میرے پاس 10 ارب روپے ہے اور میں نے اس کو وایئٹ کرنا ہے اور مجھے اس پر ایمنیسٹی سکیم چاہیئے تو 10 ارب کا 1 فیصد 10 کروڑ بنتا ہے لہذا اس آدمی نے 10 کروڑ جمع کروایا اور بدلے میں اس کا 10 ارب کا مال وایئٹ ہوگیا- اب میرا آپ سے سادہ سا سوال یہ ہے کہ وہ 10 ارب کہاں ہے؟؟ کیا حکومت نے وہ 10 ارب دیکھا جو اس نے وایئٹ کروایا؟؟ یا اس آدمی نے وہ 10 ارب کسی کو شو کروایا؟؟ اس ایمنیسٹی سکیم میں تو یہ بھی کوئی شرط شامل نہیں تھی کہ وہ شخص فائلر بنے گا یا نہیں؟؟ اب یہاں ہوتا کیا تھا کہ لوگ ایویں جا کر جھوٹ بول دیتے تھے کہ ہمارے پاس اتنے پاس پیسے ہیں اور 1 فیصد گورنمنٹ کو دیتے تھے اور اس کے بدلے اربوں روپے جو کہ فزیکلی انکے پاس ہوتے ہی نہیں تھے انکو وایئٹ کروالیتے تھے- اور یوں مستقبل میں انکے پاس کرپشن کرنے کا ایک قانونی ذریعہ انکے ہاتھ آجاتا تھا- اور ادارے انکو کچھ کہہ نہیں سکتے تھے اور یوں اس چور راستے سے حکومت کی مدد سے بڑے بڑے مگرمچھوں کو یہ ایمنیسٹی سکیم دیکر ان کو مستقبل میں کرپشن کرنے کا باقاعدہ لائسینس دے دیا جاتا تھا- اس لیئے عمران خان اس کے خلاف ہوتا تھا-

اس ایمنیسٹی سکیم میں یہ ہوا کہ آپ نے جتنے پیسے اپنے وایئٹ کروانے انکو بینک میں رکھنے کی شرط لازمی قرار دی گئی- کہ جب تک وہ آدمی اپنے اکاؤنٹس میں پیسے رکھ کر بینک سٹیٹمینٹ نہیں دے گا تو اس کو ایمنیسٹی نہیں ملے گی- اس سے بینک میں پیسے کی سرکیولیشن ہوئی دوسرا مستقبل میں کرپشن کرنے کا جواز جو پرانی ایمنیسٹٰ سکیموں میں ملتا تھا وہ ختم ہوا- تیسرا اس میں یہ شرط بھی شامل تھی کہ وہ ایمنیسٹی لینے والا شخص فائلر بھی بنے گا تاکہ مستقبل میں وہ ٹیکس ادا کرسکے-یہ شرط بھی پچھلی ایمنیسٹی سکیم میں شامل نہیں تھی- اس سکیم کے تحت تقریبا 1 لاکھ اور 35 ہزار افراد نے اس سے فائدہ اٹھایا اور 3 کھرب کے قریب کالا دھن سفید ہوا- جو ایمنیسٹی سے ہمیں ریونیو اکٹھا ہوا پلس 1 لاکھ اور کچھ ہزار لوگ ٹیکس نیٹ میں بھی شامل ہوئے-

حضور یہ تھے وہ ذرائع جن کو 45 فیصدی گروتھ والا طبقہ سمجھنے سے بلکل قاصر ہے- اور وہ طبقہ اس کو کبھی سمجھ نہیں پائے گا- پاکستان کے ٹیکس سسٹم کے اس قدر پچیدہ ہونے کی وجہ سے ہر ٹیکس کنسلٹنٹ کی یہی رائے ہے کہ اس ایمنیسٹی سکیم کو کم از کم 6 مہینے تک جاری رہنا چاہیئے- کیونکہ 1 مہینے میں جتنے لوگوں نے اس سے فائدہ اٹھایا وہ تقریبا زیادہ کاروباری حضرات افراد تھے- عام آدمی کو ابھی سمجھ لگنا شروع ہوئی تھی- لیکن وقت ختم ہوگیا- ورنہ ایسے عوام میں انتشار پھیلے گا-چونکہ پبلک آفس ہولڈر اس سکیم سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا تھا لہذا پورے ملک میں ہر پبلک آفس ہولڈر چاہے وہ سرکاری ملازم ہو یا ایم این اے یا ایم پی اے سب کے خلاف بلا تفریق کاروائی ہونی چاہیئے- لیکن عام جنتا کو مزید وقت دینا چاہیئے- ابھی 1 ہزار ارب سے زائد کے اثاثے ڈکلیئرڈ کیے گئے- تو سوچیں 6 مہینوں میں کتنے اثاثے ڈکلیئرڈ کیئے جاتے- پھر عام آدمی خود کو کسی قسم کی رعایت کا مستحق بھی نہیں سمجھے گا کیونکہ اس کو بہت سا وقت دیا گیا تھا- آئی ایم ایف کا قرضہ منظور ہوگیا اب اس سکیم کو مزید ٹائم دیا جانا چاہیئے- کیونکہ ابھی تک یہ سکیم بہت فائدہ مند رہی-

دوستوں سے شیئر کریں

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں