ہماری کامیابی اور ناکامی کی وجہ

ہماری کامیابی اور ناکامی کی وجہ

مزمل شیخ بسملؔ

قاسم علی شاہ اردو لیکچرز

کامیابی

برٹرینڈ رسل نے کہا تھا کہ میں اپنے نظریات کے لیے مرنا نہیں پسند کروں گا۔ کیونکہ میرے غلط ہونے کا پورا امکان موجود ہے۔
یہ بات کہنے کو بہت چھوٹی ہے لیکن اس کی ایپلیکیبلٹی آپ کی زندگیوں میں وہ انقلاب برپا کر سکتی ہے کہ جس کا آپ تصور بھی نہیں کرسکتے۔

کچھ بڑا کرنے کی خاطر بہت کچھ چھوڑنا پڑتا ہے۔
زندگی میں ایسے بہت سے مقامات آتے ہیں جب آپ کو اپنی خواہشات، جذبات اور احساسات سے وابستہ بہت سی چیزوں کی قربانی دینی پڑتی ہے۔ عموماً دیکھا گیا ہے کہ لوگ کسی ایک چیز، کسی ایک موضوع یا کسی ایک بیٹھک کے عشق میں مبتلا ہو کر اپنی زندگی کے اُن وسیع تر مواقع کو ضائع کردیتے ہیں جو ترقی کے لیے بہت زیادہ ضروری ہوں۔ کچھ لوگ اپنی پرانی نوکری صرف اس وجہ سے نہیں چھوڑتے کیونکہ یہاں کولیگ اچھے ہیں۔ سب کے ساتھ انڈرسٹینڈنگ ہے۔ کچھ لوگ گھر سے قریب ہونے کی وجہ سے ایک ہی آفس میں ساری زندگی گزار دیتے ہیں۔

ایک بات ہمیشہ یاد رکھیے گا۔
زندگی ہر شخص کو موقع دیتی ہے آگے بڑھنے کا۔ ترقی کرنے کا۔ کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں جو اپنی عمر کا ایک بڑا حصہ گزار چکا ہو اور پورے اعتماد کے ساتھ کہہ سکے کہ اسے زندگی نے آگے بڑھنے کا کبھی موقع نہیں دیا۔ یہ ہم ہوتے ہیں جو مواقع ضائع کرتے ہیں اور پھر قصوروار زمانے کو ٹھہراتے ہیں۔ سوسائٹی کو لعن طعن کرتے ہیں۔ زندگی تو چلتے رہنے کا نام ہے۔ اگر آپ کا ایک آئیڈیا ورک آؤٹ نہیں کرتا تو دوسرے کی تلاش کریں۔ تیسرے کو دیکھیں، چوتھے کو پرکھیں۔ لیکن تلاش کو ختم نہ کریں۔ کیونکہ جہاں آپ تلاش چھوڑ دیں گے وہیں آپ کی ترقی رُک جائے گی۔ اطمینان سے بیٹھ جانے والا شخص مرے ہوئے آدمی کے مترادف ہوتا ہے۔ مرا ہوا آدمی کبھی بھی دائیں، بائیں اور اوپر کی جانب نہیں دیکھتا۔ وہ دیکھ ہی نہیں سکتا۔

بد قسمتی سے ہمارے یہاں سوسائٹی میں تعلیم کے نام پر بھی یہی کچھ ہوتا ہے۔ میٹرک اور انٹر کرنے والے لڑکے لڑکیاں زیادہ بڑا وژن اور زیادہ امکانات کو ویلکم کرتے ہیں۔ جبکہ یونیورسٹی میں آنے کے بعد تمام عزائم معدوم ہو کر صرف ایک اچھی نوکری کے حصول میں تبدیل ہو کر ہمیشہ کے لیے ترقی کو اپنے ہاتھوں سے قتل کر بیٹھتے ہیں۔

اب اس تمام تر وضاحت کے بعد برٹرینڈ رسل کا قول دوبارہ پڑھیں تو یہ بات سمجھ میں آجائے گی کہ تمام عمر ایک ہی نظریے، اور ایک آئیڈیا سے عشق کرنا کیسی بے معنی بات ہے اور یہ آپ کا کتنا نقصان کرتی ہے۔
غلط فیصلے کرنا غلط نہیں۔ ان فیصلوں پر ڈٹ جانا اور انہیں سینے سے لگا کر ساری عمر گزاردینا جرم ہے۔

دوستوں سے شیئر کریں

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں