استاد راحت فتح علی خان”ڈاکٹر”بن گئے

لندن: (آسٹریلین اردوٹی وی) برطانیہ کی مشہور آکسفورڈ یونیورسٹی کی جانب سے لندن میں قوالی اور موسیقی میں نمایاں خدمات انجام دینے پر استاد راحت فتح علی خان کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نواز دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق نامور قوال و گلوکار راحت فتح علی کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری دینے کی تقریب لندن میں منعقد ہوئی جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے شرکت کی۔

استاد راحت فتح علی خان پہلے ہی برطانیہ میں  موجود تھے جہاں گزشتہ روز ان کو آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک تقریب میں”ڈاکٹر آف میوزیک”کی اعزازی ڈگری حاصل کی۔

راحت فتح علی خان کا اس موقع پر کہنا تھا کہ دنیا کے نامور تعلیمی ادارے سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری ملنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے اور مجھے بے انتہا خوشی ہے کہ موسیقی سے لگاؤ نے آج مجھے بلندیوں تک پہنچا دیا۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کی طرف سے اعزازی ڈگری ملنے پر راحت فتح علی خان نے کہا کہ وہ اس اعزاز کو اپنے خاندان اور قوال گھرانے کے نام کرتے ہیں۔ یہ دن میرے اور میرے خاندان کیلئے بہت خاص ہے اور اس کے ساتھ ساتھ میرے مداحوں کیلئے بھی جنہوں نے میرا اس سفر میں ساتھ دیا۔

راحت فتح علی خان کا کہنا تھا کہ میں بنیادی طور پر ایک قوال ہوں اور مجھے گلوکار سے زیادہ خود کو قوال کہلوانا پسند ہے۔ میرے 1200 سے زیادہ شاگرد ہیں جو قوالی سیکھ رہے ہی اور یہ فن 600 سال سے موجود ہے۔ وہ سب سے پہلے پاکستان اور پھر دوسرے ممالک کو ترجیح دیتے ہیں۔

راحت فتح علی خان کا شمارایشیا کے بہترین گلوکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے پاکستان کے ساتھ بھارت میں بھی اپنی خوبصورت آواز سے لوگوں کودیوانہ بنا رکھا ہے۔

تقریب سے قبل آکسفورڈ یونیورسٹی لندن کے چانسلر کی جانب سے استاد راحت فتح علی خان کے اعزاز میں عشائیہ دیا گیا اور انہیں شاندار الفاظ میں خراج تحسین بھی پیش کیا۔

آکسفورڈ یونیورسٹی چانسلر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے استاد راحت فتح علی خان نے کہا کہ انسان اگر سچی لگن اور محنت سے کسی بھی شعبے میں کام کرے تو ایک دن بڑی کامیابی ضرور حاصل ہوتی ہے۔ قوالی کا فن دنیا کے چپے چپے میں مقبول ہورہا ہے۔ 6 سو سال سے ہم قوالی گار ہے ہیں، ہمارے خاندان نے اس فن کی آبیاری میں کئی سال لگائے۔

انہوں نے کہا کہ صوفیانہ کلام میری روح میں بسا ہوا ہے، قوالی ہمارا خاندانی کام ہے اور قوالی کا فن کبھی ماند نہیں پڑا، تا قیامت درگاہوں اور درباروں میں قوالی کی محفلیں ہوتی رہیں گی۔

آکسفورڈ یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق راحت فتح علی خان نے ایسے خاندان میں آنکھ کھولی جوجنوبی ایشیائی موسیقی کی پہچان بن گیا، انہوں نے موسیقی کی ابتدائی تعلیم  سات سال کی عمر سے لینی شروع کی اور اب تک 50 سے زائد البم ریلیز کرچکے ہیں۔

راحت فتح علی خان کے ساتھ ساتھ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے مزید 7 اور افراد کو یونیورسٹی کی جانب سے یہ اعزاز ملا۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس آکسفورڈ یونیورسٹی نے راحت فتح علی خان کو ایک اور اعزاز دیتے ہوئے ریہرسل روم اُن کے نام سے منسوب کردیا تھا جس کے بعد وہ جنوبی ایشیاء کے پہلے گلوکار بن گئے جسے برطانوی یونیورسٹی کی جانب سے یہ اعزاز حاصل ہوا۔2016 میں انہیں آکسفورڈ یونیورسٹی کی جانب سے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا۔

راحت فتح علی خان نے سال 2010 میں برطانیہ کے ایشیائی موسیقی اعزازات میں ’’بہترین بین الاقوامی ایکٹ‘‘ کا اعزاز جیتا تھا۔

واضح رہے کہ راحت فتح علی خان نے دنیا بھرمیں بے شمارکنسرٹ میں پرفارم کیا ہے اس کے علاوہ وہ اب تک 50 ڈراموں کے ٹائٹل سانگ اوربالی ووڈ، ہالی ووڈ اور پاکستانی فلموں کے لیے پلے بیک گلوکاری کرچکے ہیں۔

راحت فتح علی خان اعزازی ڈگری ملنے کے بعد آج 27 جون کوآکسفورڈ ٹاؤن ہال میں پر فارم بھی کریں گے۔

دوستوں سے شیئر کریں

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں