کیچز ڈراپ کرنے کا منفی ریکارڈ پاکستان ٹیم کے نام

لارڈز:(آسٹریلین اردو ٹی وی) انگلینڈ میں جاری کرکٹ ورلڈکپ میں پاکستان ٹیم جنوبی افریقا کے خلاف میچ تو جیت گئی لیکن روایتی فیلڈنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے میچ میں 7 کیچز ڈراپ کیے تھے۔

اس میچ میں فاسٹ بولر محمد عامرنے4 کیچز، وکٹ کیپر سرفراز احمد ، وہاب ریاض اور شاداب خان بھی کیچز ڈراپ کیے۔

اگر اعداد وشمار کو دیکھا جائے تو ریکارڈ کے مطابق پاکستانی فیلڈرز کی جانب سے رواں ورلڈکپ میں 14 کیچز ڈراپ ہوئے، صرف جنوبی افریقا کے خلاف میچ میں ہی7کیچز اُن کے ہاتھوں میں نہ آسکے۔سب سے زیادہ کیچز ڈراپ کرنے کی فہرست میں اس طرح پاکستان کا پہلا نمبرہے۔

پاکستان کے بعد اس فہرست میں دوسرا نمبر ہے میزبان اور ایونٹ کی فیورٹ ٹیم انگلینڈ کا۔ انگلینڈٹیم نے 12 کیچ ڈراپ کیے۔ انگلینڈ کی طرف سے بعض فیلڈروں نے ناقابل یقین کیچ پکڑے ہیں جن میں بین سٹوکس ہیں لیکن وہ تقریباً ہر میچ میں کیچ ڈراپ کر رہے ہیں۔

نیوزی لینڈ بھی ٹورنامنٹ میں 9 کیچ ڈراپ کر کے فہرست میں تیسرے نمبر پر ہے۔ فاسٹ بائولر ٹرینٹ بولٹ نے جنوبی افریقہ کے بلے باز مارکرم کا کیچ ڈراپ کیا لیکن اسی میچ میں بولٹ نے ایک انتہائی شاندار کیچ پکڑ کر اپنی غلطی کی تلافی کر دی۔

جنوبی افریقہ رواں ٹورنامنٹ میں 8 کیچ ڈراپ کر کے فہرست میں چوتھے نمبر پر ہے۔ جنوبی افریقہ نے نیوزی لینڈ کے خلاف میچ میں اوپر تلے کین ولیمسن کے دو کیچ ڈراپ کیے اور جب کیچ پکڑ لیا تو وکٹ کیپر کو یہ معلوم ہی نہیں ہو سکا کہ گیند بلے کو چھو کر آئی ہے۔ ڈیوڈ ملر اور پاکستانی نژاد عمران طاہر نے شاید سب سے زیادہ کیچ ڈراپ کیے ہیں۔

ویسٹ انڈیز نے رواں ٹورنامنٹ میں چھ کیچ ڈراپ کیے۔ ویسٹ انڈیز نے اس ٹورنامنٹ میں کچھ ایسے شاندار کیچ پکڑے ہیں جو عرصے تک لوگوں کو یاد رہیں گے۔ فاسٹ بائولر شیلڈن کوٹرل نے سٹیو سمتھ کا بائونڈری پر جو کیچ پکڑا وہ ابھی تک ٹورنامنٹ کا سب سے شاندار کیچ تصور کیا جا رہا ہے۔

آسٹریلیا اور بنگلادیش نے چار، چار، سری لنکا نے تین اور افغانستان کے فیلڈرز دو کیچ تھامنے میں ناکام رہے ہیں۔

میگا ایونٹ میں فیلڈنگ میں سب سے بہترین کارکردگی بھارتی ٹیم کی ہے۔ بھارتی فیلڈرز نے صرف ایک ہی کیچ گرایا ہے ۔

پاکستان کا اگلا معرکہ کل نیوزی لینڈ سے ہوگا، ٹیم کو پیش قدمی جاری رکھنے کیلیے لازمی فتح درکار ہے،اس مشکل سفر میں فیلڈنگ کی اہمیت سے ہیڈ کوچ مکی آرتھر بھی آگاہ اور تشویش میں مبتلا ہیں۔

انھوں نے کہا کہ سخت محنت اور ٹریننگ کے باوجود کیچز ڈراپ ہورہے ہیں،سیمی فائنل تک رسائی کا مشن مکمل کرنے کیلیے فیلڈرز کو خواب غفلت سے جاگنا ہوگا،پروٹیز کیخلاف فتح کی بدولت ہمارا ورلڈکپ میں کم بیک ہوا ہے،تمام کھلاڑی آگاہ ہیں کہ تینوں میچز میں کامیابی سے کم کچھ درکار نہیں،گرین شرٹس کی بیٹنگ اور بولنگ نے تو توقعات کے مطابق کھیل پیش کیا، مسئلہ یہ ہے کہ ہم ایک ساتھ تینوں شعبوں میں یکساں معیار کی کارکردگی پیش نہیں کرپا رہے۔

انھوں نے کہا کہ فیلڈنگ میں مسائل ہیں،فیلڈرز بھی کم غلطیاں کریں تو ہم غیر معمولی ٹیموں میں شمار ہونگے،عالمی نمبر ون انگلینڈ کیخلاف فتح ثابت کرتی ہے کہ تینوں شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کے مطابق کھیل پیش کریں تو کسی بھی حریف کو زیر کرسکتے ہیں، اگلے تینوں میچز میں ایسا ہی کرنے کی کوشش کریں گے۔

آرتھر نے کہا کہ نیوزی لینڈ کی ٹیم مستقل مزاجی سے بہتر کھیل پیش کررہی ہے۔ اس کیلیے شاندار فیلڈنگ کا مظاہرہ بھی کرنا ہوگا،گذشتہ مشکل ہفتہ گزر گیا،عوام، میڈیا اور سوشل میڈیا میں تنقید کی وجہ سے نیندیں حرام ہوئیں تاہم کھلاڑیوں نے مایوسی کو ہمت سے امید میں بدلا، اب اعتماد بحال اور سب سیمی فائنل تک رسائی کی امیدیں برقرار رکھنے کیلیے بیتاب ہیں۔

کوچ نے کہا کہ محمد عامر کی فارم میں واپسی بڑی حوصلہ افزا ہے،مہارت میں ان کا کوئی جواب نہیں، رفتار بہتر ہونے کے ساتھ وہ گیند کو سوئنگ بھی کررہے ہیں، وہاب ریاض بھی 2سال قبل سے قطعی مختلف بولر کے روپ میں ابھرے اور کنڈیشنز کا بہتر استعمال کررہے ہیں،حارث سہیل پلیئنگ الیون سے باہر رہے، واپسی پر شاندار کارکردگی دکھائی، کوئی اپنے کم بیک کو یادگار بنائے تو مجھے بڑے خوشی ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ٹیم کو کسی کی ففٹی یا 80رنز سے زیادہ اس بات کی ضرورت ہے کہ اننگز میچ میں فتح کا راستہ بنانے والی ہو اور حارث نے اسی طرح کی بیٹنگ کا مظاہرہ کیا۔

ایک سوال پر مکی آرتھر نے کہا کہ انگلینڈ کی پچز خشک ہوتی جا رہی ہیں، اگلے میچز میں بھی ٹاس اہم کردار ادا کرے گی، دوسری اننگز میں اسپنرز زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں، اس لیے ٹیمیں پہلے بیٹنگ کو ترجیح دیں گی۔

دوستوں سے شیئر کریں

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں