اپوزیشن کی حکومت کیخلاف فائنل راؤنڈ کی تیاریاں

اسلام آباد:(آسٹریلین اردو ٹی وی) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے 26 جون کو اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) بلانے کا اعلان کر دیا۔

چند روز قبل قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے مولانا فضل الرحمان سے اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی تھی جس میں حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے لیے اے پی سی بلانے کا اعلان کیا گیا تھا۔

ان ملاقاتوں میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ اپوزیشن کی کوشش ہوگی کہ عوام دشمن بجٹ منظور نہ ہو، اور جون کے آخری عشرے میں اپوزیشن کی اے پی سی بلائی جائے۔

مولانا فضل الرحمان نے مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف سے مشاورت کے بعد26جون کو اے پی سی بلانے کا اعلان کردیا۔

ترجمان جے یو آئی (ف) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آل پارٹیز کانفرنس 26 جون کو صبح 11 بجے اسلام آباد میں منعقد ہو گی جس میں پیپلز پارٹی اور ن لیگ سمیت اپوزیشن جماعتوں کے رہنما شرکت کریں گے۔

مولانا فضل الرحمان اے پی سی کی سربراہی کریں گے جس میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف بھی شریک ہوں گے۔

اے پی سی میں چیئرمین سینیٹ کی تبدیلی، بجٹ منظوری روکنے سے متعلق معاملات پر مشاورت ہو گی۔ اس کے علاوہ اے پی سی میں حکومت مخالف تحریک اور لاک ڈاؤن کے فیصلے پر غور ہو گا۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اگر ملک کو بچانا ہے تو ایکشن پلان کے بجائے معاشی ایکشن پلان بنانا ہوگا۔ دنیا میں ریاستوں کی بقا کا ذمہ دار معیشت پر ہے، موجودہ حکومت جعلی ہے اورمعاشی مسائل کی وجہ بھی  حکومت ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ الیکشن کمیشن ناکام ہوچکا ہے انھیں مستعفی ہونا چاہیے، پچیس جولائی 2018 کو ایک ہفتے کے دوران متفقہ بیانیہ وجود میں آیا کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے، اگر اس وقت ہم اپنے اقدامات کرتے ہماری کوتاہیاں تھیں کہ نظام کو مسترد بھی کیا اور اس کے ساتھ چلے بھی،  ہم کہتے ہیں نئے الیکشن کراؤ اور منصفانہ الیکشن کراؤ لیکن ایک مرتبہ پھر فاٹا میں فوج کی نگرانی میں ووٹ ڈالے جانے کا نوٹی فکیشن جاری کردیا گیا ہے۔

جے یو آئی (ف) کے سربراہ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں علمائے کرام کو ملکی نظام سے باہر رکھا گیا ہے، 70 سال تک جن قوتوں نے حکومت کی ہے وہ دینی مدارس نہیں بلکہ کالج اور یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہیں، مانتا ہوں معاشرے میں مختلف مکاتب فکر ہیں ہم ان سے انکار نہیں کرسکتے  جب کہ یہ فرقہ واریت مقتدر اداروں کی ضرورت ہے یہ کبھی بھی دینی قیادت کی ضرورت نہیں ہے۔

مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی مذہبی اور سیاسی قیادت نے ہمیشہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے کردار ادا کیا ہے  اور اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر ہمیشہ اتفاق رائے رہا ہے، اب ہمیں سر جوڑ کر پھر سوچنا ہے پاکستان کی نظریاتی شناخت خطرے میں ہیں۔

دوستوں سے شیئر کریں

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں