لال مسجد کا اصل قضیہ کیا ہے ؟

لال مسجد اصل قضیہ کیا ہے ؟

اجالا/مولانا عبدالقدوس محمدی
ترجمان وفاق المدارس العربیہ پاکستان

لال مسجد کا قضیہ

لال مسجد اسلام آباد

آج اندرون وبیرون ملک سے فون کالز کا تانتابندھا رہا ……ہر ایک کی طرف سے یہ سوال ہے کہ لال مسجد کا قضیہ ہے کیا؟ ہر کوئی اس خدشے کا اظہار کررہا ہے کہ کہیں ہم ایک اور سانحہ لال مسجد کا شکار تو نہیں ہونے لگے?--بعض لوگ لال مسجد کی بچیوں کے لیے رورہے ہیں--ان کی بھوک پیاس کی وجہ سے مضطرب اور بے تاب ہیں ۔اس لیے ہر ایک کو فردََا فردََا جواب دینے کے بجائے یہ خیال آیا کہ لال مسجدکی موجودہ صورتحال کا پس منظر اور پیش منظر بیان کردیا جائے۔
سانحہ لال مسجد پاکستان کی تاریخ کا ایک افسوس ناک اورالمناک باب ہے-اس سانحہ کے اسباب و محرکات,جزئیات و تفصیلات,اثرات و نتائج پر بہت کچھ لکھا اور کہا گیا اور ہمیشہ کہا جاتا رہے گا-

یہ سانحہ 3سے 10 جولائ 2007ء میں پیش آیا-سانحہ لال مسجد کے حوالے سے وفاق المدارس العربیہ پاکستان نے سپریم کورٹ میں رٹ دائر کروارکھی تھی……سپریم کورٹ میں جب لال مسجد کیس پر کارروائ کا آغاز ہوا تو راقم الحروف کو وفاق المدارس کی طرف سے اس کیس کی پیر وی کا حکم ہوا۔اللہ رب العزت کی رحمت و توفیق اور اپنے اکابر اور قائدین کی رہنمائی،مشاورت اور ہدایات کی روشنی میں سپریم کورٹ میں سانحہ لال مسجد کیس کی پیروی کی،لال مسجد کی انتظامیہ کی نمائندگی کو یقینی بنایا،شہداء کے ورثاء کو آن بورڈ لیا,وکلاء کے پینل سے مسلسل رابطہ رہا,انہیں تیاری کرواتے رہے,مطلوبہ مواد و دستاویزات مہیا کرتے رہے اور ایک طویل قانون جنگ لڑی جس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں-

اس موقع پرحسن اتفاق اور خوش نصیبی سے دبنگ چیف جسٹس جسٹس افتخار چودھری تھے اور سانحہ کے اثرات بھی تازہ تازہ تھے اس لیے انہوں نے
جہاں دیگر بہت سے احکامات جاری کیے جن میں سے ایف آئ آر کا اندراج,شہداء کے ورثاء کو دیت کی ادائیگی سمیت دیگر کئ چیزیں شامل تھیں ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ نہ صرف جامعہ حفصہ کو متبادل جگہ الاٹ کی جائے بلکہ اس جگہ پر جامعہ حفصہ کی عمارت سرکاری خرچ پر تعمیر بھی کر کے دی جائے چنانچہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میںH.11 میں جامعہ حفصہ کو تقریبا بیس کنال اراضی الاٹ کی گئی۔

یاد رہے کہ اسلام آباد کا ایچ سیکٹر تعلیمی اداروں کا سیکٹر ہے اور ایچ کی پوری پٹی میں جس طرح دیگر تعلیمی اداروں کو پلاٹ الاٹ کیے گئے اسی طرح جامعہ حفصہ کو بھی پلاٹ الاٹ کیا گیا لیکن سرکار نے سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجودعمارت تعمیر کر کے دی نہ کوئ مالی تعاون کیا جبکہ جامعہ حفصہ کی انتظامیہ وسائل کی قلت کی بناء پر اس پلاٹ پر عمارت تعمیر نہ کرسکی اس عرصے میں مشکل سے اس پلاٹ کی چار دیواری تعمیر کی جا سکی.اس کے بعد وہاں تعلیم کا سلسلہ شروع کرنے کے لیے حفظ کی ایک کلاس شروع کی گئی اورچھوٹی سی ایک عارضی مسجد تعمیر کی گئی……ابھی اس سلسلے کا آغاز ہی ہوا تھا کہ اس سال(2019ء) مارچ کے مہینے میں اس مسجد کو سیل کرکے بچوں کو بے دخل کردیاگیا پھرمحترمہ ام حسان صاحبہ پرنسپل جامعہ حفصہ کو طلب کرکے یہ "مژدہ" سنایا گیا کہ جامعہ حفصہ کو الاٹ کیا گیا پلاٹ کینسل کردیا گیا اور اس کے بدلے شائد چند مرلے کی کوئ چھوٹی سی جگہ دینے کی بات کی گئی جسے ام حسان صاحبہ نے مسترد کر دیا ۔

یہ ایک ایسا غیر متوقع،حیران کن اورسانحہ لال مسجد کے متاثرین کے لیے ناقابل قبول واقعہ تھا جس پر صدائے احتجاج بلند ہونا ایک فطری امر تھا-چنانچہ مولانا عبدالعزیز اورجامعہ حفصہ کی معلمات اور ہمدردوں کی کی طرف سے احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا,ہر کسی نے اس فیصلے پر حیرت کا اظہار کیا اور جامعہ حفصہ کے موقف کو ہر فورم پر پذیرائ ملی اور ہر کسی نے جامعہ حفصہ کی انتظامیہ کے ساتھ ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا۔

یاد رہےکہ اس واقعے تک سب حالات معمول کے مطابق پرامن اور پرسکون طریقے سے چل رہے تھے لیکن جامعہ حفصہ کو دی گئ اراضی کی اچانک کینسلیشن پرسکون تالاب میں ایک ایسا پتھرثابت ہوئ جس نے ہر طرف ارتعاش برپا کر دیا-اس موقع پر مولانا عبدالعزیز جو عملا لال مسجد سے تقریبا لاتعلق ہوگئے تھے اور انہوں نے عرصے سے لال مسجد میں برائے نام آمد و رفت کا سلسلہ بھی منقطع کر رکھا تھا انہوں نے لال مسجد میں جمعہ پڑھانے کا اعلان کیا,صرف جمعہ پڑھانے کا اعلان نہیں کیا بلکہ احتجاجی کیمپ لگانے کی بات بھی کی اور وہ جی سیون میں واقع جامعہ حفصہ سے لال مسجد منتقل ہو گئے اور انہوں نے چند دن لال مسجد میں قیام کیا یہ سب احتجاجی سلسلے کی کڑیاں تھیں-اس موقع پر مولانا کے بہت سے عقیدت مند بھی لال مسجد آ گئے اور طلبہ و طالبات نے بھی آکر لال مسجد میں ڈیرے ڈال لیے اور اپنی تعلیم و تدریس کا سلسلہ شروع کردیا-مولانا کے جمعہ پڑھانے کے اعلان اور ان کی لال مسجد آمد کی وجہ سے ایک کھلبلی سی مچ گئی،مختلف حیلے بہانوں سے مولانا عبدالعزیز کو جمعہ پڑھانے سے باز رکھنے کی کوشش کی گئی۔چند روزہ قیام کے بعد جب مولانا عبدالعزیز دوبارہ واپس جامعہ حفصہ چلے گئے تو نہ صرف یہ کہ ان کی لال مسجد واپسی کے راستے مسدود کر دئیے گئے بلکہ ان کو ٹیلی فونک خطاب سے بھی روک دیا گیا-

مولانا عبدالعزیز اور ان کے متعلقین کا کہنا ہے کہ انہیں لال مسجد سے بے دخل کرنے،جمعہ پڑھانے سے روکنے اور دیگر تمام امور میں اسلام آباد انتظامیہ اور پولیس کے ساتھ ساتھ لال مسجد کے موجودہ خطیب مولاناعامر صدیق بھی ملوث ہیں-

یاد رہے کہ سانحہ لال مسجد کے بعد مولانا عبدالغفار لال مسجد کے قائم مقام خطیب نامزد ہوئے تھے جبکہ محترمہ ام حسان غازی کی طرف سے مولانا عامر صدیق کا نام نائب خطیب کے طور پر پیش کیا گیا اور وہ اس وقت سے اب تک نائب خطیب مگر عملا خطیب کے طور پر خدمات سرانجام دیتے رہے-

مولانا عامر صدیق کو مولانا عبدالعزیز,محترمہ ام حسان,ان کے متعلقین اور جامعہ حفصہ کا آفیشل پیج میر جعفر کے طور پر پیش کرتے ہیں جبکہ مولانا عامر صدیق کا کہنا ہے کہ انہوں نے ہمیشہ مولانا عبدالعزیز کا ساتھ دیا,ان کی طرف سے مولانا کے خلاف کسی قسم کی کوئ چیز نہیں ہوئ وہ ہمیشہ صبر و تحمل سے کام لیتے رہے تاہم اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ دعوی بھی کرتے ہیں کہ وہ لال مسجد کے سرکاری خطیب ہیں اور وہ اپنے ہر فیصلے اورہر معاملے میں آزاد ہیں-یوں یہ ماموں بھانجے کی لڑائ ہے نہ ہی امامت و خطابت کا جھگڑا بلکہ درحقیقت مولانا عبدالعزیز یہ چاہتے ہیں کہ لال مسجد میں خطیب کوئ بھی ہو اس مسجد کے منبر و محراب سے جامعہ حفصہ کی طالبات کے حقوق کے لیے آواز بلند ہو, مسجد کو اپنی سابقہ روایات اور ترتیب کے مطابق دینی اور تعلیمی سرگرمیوں کا مرکز بنایا جائے,لال مسجد کی مرکزی حیثیت برقرار رہے جبکہ مولانا عامر صدیق کا یہ خیال ہے کہ مولانا عبدالعزیز کا اس مسجد میں کوئ عمل دخل نہ ہو اور وہ اپنی مرضی اور ترتیب سے مسجد کے معاملات چلائیں لیکن شاید غیر ضروری طور پر اس معمولی سے اختلاف کو بہت زیادہ نمایاں کیا جا رہا ہے اور اصل ایشوز پس منظر میں چلے گئے ہیں-
یہ سلسلہ یوں تو گزشتہ تین ماہ سے چل رہا ہے لیکن رمضان المبارک اور عید کی وجہ سے اس معاملے میں کچھ خاموشی ہو گئ تھی لیکن عید کے بعد دینی مدارس کے نئے تعلیمی سال کے آغاز پرایک مرتبہ پھر لال مسجد کا قضیہ ایک گرما گرم ایشو بن گیا۔

واضح رہے کہ لال مسجد میں بچوں کا حفظ اور ابتدائی درجات کا مدرسہ مولانا محمد عبداللہ شہید ؒ کے دور سے قائم ہے جبکہ جامعہ حفصہ کی شہادت کے باوجود مسجد کے احاطے میں واقع ہال اور کمروں میں طالبات وفاضلات کی تخصص وغیرہ کی کلاسز بھی کئی برسوں سے چل رہی ہیں- نئے تعلیمی سال کے آغاز پر مبینہ طور پرمولانا عامر صدیق نے پولیس طلب کی اور پولیس نے جبرََا لال مسجد کے اساتذہ کرام،مفتیان عظام کو بے دخل کیا،دارالافتاء کو سیل کیا اور دو علماء کرام کو گرفتار کرکے لے گئے بعد ازاں لال مسجد کے گرد ناکے لگا کر محاصرہ کرلیا گیا ۔

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ مولانا عامر صدیق کوایک مہرے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ بندوق ان کے کندھے پر رکھ کربہت سے مقاصد حاصل کیے جائیں اس دعوے کی تائید کے لیے یہ بات پیش کی جاتی ہےکہ حالیہ تنازعہ کے دوران مولانا عامر صدیق جو لال مسجد کے نائب خطیب تھے ان کے خطیب ہونے کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا اوراس کے ساتھ ساتھ مولانا عامر صدیق کو پولیس اہلکار بطور سیکورٹی دیے گئے-ایک ایسے موقع پر جب مولانا فضل الرحمن اور ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر صاحب جیسی قد آور شخصیات سے سیکورٹی واپس لے لی گئی تھی ایسے میں مولانا عامر صدیق کو سیکیورٹی گارڈ دینا اور ان کے لیے لال مسجد سے ملحقہ کمرہ خالی کرکے ان پولیس اہلکاروں کی رہائش کے لیے مختص کرنامولانا عامر صدیق کے بارے میں شکوک و شبہات میں اضافے کا باعث بنا۔

المختصر یہ کہ مولانا عامر صدیق نے پولیس بلوائ ہو یا عامر صدیق کا کور استعمال کرکے ازخود پولیس آئ ہو یہ ایک غیر ضروری اور غیر متعلقہ بحث ہے اصل بات یہ ہے کہ اس وقت لال مسجدایک مرتبہ پھر پولیس کے محاصرے میں ہے,ہر طرف ناکے لگا دئیے گئے,مسجد کے احاطے سے گیس کنکشن کاٹ لیے گئے اوراندر موجود طالبات تک کھانا نہیں پہنچنے دیا گیااگر کچھ دیر کے لیے یہ مان بھی لیا جائے کہ مولانا عبدالعزیز اور مولانا عامر صدیق کے مابین کوئ اتنی شدید لڑائ ہے تب بھی اس سب کا جواز نہیں یہاں آئے روز محلوں,کمپنیوں,تعلیمی اداروں میں لڑائیاں ہوتی ہیں کیا ہر لڑائ کے بعد اس ادارے کے تمام ملازمین پر کھانا پانی بند کردیا جاتا ہے?کیا کسی کالج اسکول کے اساتذہ کے مابین جھگڑے کی سزا وہاں کے طلبہ و طالبات کو دی جاتی ہے?کسی ہسپتال میں ہونے والی لڑائ کے بعد ایمرجسی یا فارمیسی سیل کر دی جاتی ہے?اگر نہیں اور بالکل نہیں تو لال مسجد میں ایسا کیوں ?

یہاں یہ امر بھی واضح رہے کہ لال مسجد والوں کی طرف سے جب ریاست سے تصادم کی بات کی گئی توسب نے اس سے علی الاعلان اختلاف کیا,جب تشدد یا عسکریت کا راستہ اپنایا گیا تو ہر کسی نے برات کا اظہار کیالیکن اب تو گزشتہ بارہ برسوں کے دوران ایسی کوئ بات نہیں ہوئ,نہ تشدد کا راستہ,نہ ریاست سے جنگ,نہ عسکریت,نہ محاذ آرائ اس کے باوجوددانستہ طور پر اس ایشو کو کیوں ایک مرتبہ پھر ہوا دی جارہی ہے?
چند توجہ طلب امور پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

1-دیکھا جائے تو مولانا عبدالعزیز جامعہ حفصہ کی جس اراضی کے لیے سراپا احتجاج ہیں وہ قوم کی بچیوں کی دینی تعلیم کا جائز حق مانگ رہے ہیں وہ اراضی اپنے کسی محل یا فارم ہاوس کے لیے نہیں مانگ رہے یہاں لوگوں کو ایکڑوں کے حساب سے ریوڑیوں کی طرح اراضی بانٹ دی جاتی ہے اگر ایک ایسا ادارہ جس کی وسیع و عریض اور عالیشان عمارت مسمار کر دی گئ اسے سپریم کورٹ کے آرڈر پر اراضی دے دی گئ تھی تو اسے کینسل کرنے کا کیا جواز? یہ سراسر زیادتی اور ناانصافی ہے- اس معاملے میں ہر کوئ مولانا عبدالعزیز کے موقف کی حمایت کر رہا ہے

2-دارالافتاء کی بندش اور مفتیان کرام کو بے دخل کرنا اور علماء کرام کی گرفتاری ایک اشتعال انگیز کاروائ ہے اور بدترین ناعاقبت اندیشی کا مظاہرہ ہے دارالافتاء کو فی الفور بحال کیا جانا چاہیے-

3-لال مسجد سے ملحقہ قدیمی مدرسہ کو ختم کرنے کی کوشش افسوسناک اور قابل مذمت ہے اگر خدانخواستہ لال مسجد سے ملحقہ مدرسہ ختم کردیا گیا توکل کسی بھی مسجد سے ملحقہ مدرسہ کو ختم کرنے کا جوازپیدا جائے گا-

5-ہماری معلومات کے مطابق مولانا عبدالعزیز اور مولانا عامر صدیق کے باہمی اختلافات اتنے بھی نہیں کہ انہیں پولیس کیس قرار دیا جائے لیکن اگر خدانخواستہ ان دونوں کے مابین کوئ ایسا تنازعہ ہے بھی تب بھی پولیس اور سرکار کی مداخلت معاملے کو مزید پیچیدہ کر دے گی اس تنازعہ کو خاندانی فورم یا ممتاز علماء کرام کے ذریعے حل کیا جائے-

6-لال مسجد کا محاصرہ ختم کیا جائے یہ 2007 نہیں بلکہ 2019ء ہے-ابھی پہلے سانحے کے زخم نہیں بھرے کہ ایک اور حادثے کی راہ ہموار نہ کی جائے-

7-طلبہ و طالبات کا کھانا بند کرنا,گیس بجلی کے کنکشن کاٹنا بدترین فاشزم ہے وفاقی دارالحکومت کے وسط میں اس قسم کے اوچھے ہتھکنڈوں کی کوئ گنجائش نہیں-
اس معاملے میں اسلام آباد کی انتظامیہ اور پولیس دانشمندی سے کام لے اور بات چیت کے ذریعے تمام معاملات حل کروائے جائیں 2007ء کی طرح انتظامیہ اور پولیس ایسی بدترین نااہلی کا مظاہرہ نہ کرے کہ فوج بلانا پڑے اور عسکری اداروں کے ذمہ داران بھی بروقت اس معاملے کو دیکھیں تاکہ پانی سر سے گزرنے سے قبل اس معاملے کو کنٹرول کیا جا سکے اور مولانا عبدالعزیز,ان کے جملہ متعلقین اور مولانا عامر صدیق سمجھداری اور صبر وتحمل سے کام لیں اور دانستہ یا نادانستہ اسلام دشمن عناصر کے لیے جگ ہنسائ اور ملک دشمن عناصر کے لیے شر انگیزی کا باعث نہ بنین-

اورآخری گزارش یہ ہے کہ علماء کرام اور عام قارئین اس معاملے کے حقائق کو سمجھیں,اس قضیے کو حقیقی تناظر میں دیکھیں,سوچے سمجھے بغیر ہر چیز کی حمایت بھی درست نہیں اور ہر جائز و ناجائز امر کی مخالفت بھی بے جا ہے خاص طورپر سوشل میڈیا پرسنی سنائ باتیں پھیلانا اور غلط نتائج اخذ کرنا کسی طرح درست نہیں-اعتدال, انصاف اور دانشمندی سے کام لیا جائے-

اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو اور ہمیں شر و فتنے سے بچائے خاص طور پر وطن عزیز کی ہرطرح سے حفاظت فرمائے-آمین

دوستوں سے شیئر کریں

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں