مریم نواز نے شہباز شریف کے بیانیہ کی مخالفت کردی

لاہور: (آسٹریلین اردو ٹی وی) شریف خاندان میں اختلافات کھل کرسامنے آگئے، مریم نوازنےشہبازشریف کی میثاق معیشت کی تجویز مسترد کردی۔ میری ذاتی رائے ہے میثاق معیشت مذاق معیشت ہے۔

مریم نواز نے کہاکہ جس شخص نےمعیشت کابیڑاغرق کیا اس کےساتھ کوئی بات نہیں کرنی چاہیے، جو چور دروازے سے اقتدار میں آیا اس کے ساتھ کیا میثاق جمہوریت کریں گے۔اسٹاک مارکیٹ گرگئی، ڈالراوپرچلاگیا، قرضوں کابوجھ بڑھ گیا، ایسےشخص سےمیثاق معیشت کامطلب این آراوکےمترادف ہوگا، وہ چاہتاہےاس پراپوزیشن کابھی لیبل لگ جائے، حکومت کاساتھ دینےوالی اپوزیشن کی کوئی بھی پارٹی مجرم ٹھہرائےگی۔

ملک اور عوام کی خاطر تمام سیاسی قوتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونا چاہیے، اے پی سی میں ن لیگی وفد کی قیادت شہباز شریف کریں گے۔ جعلی طریقےسےووٹ چوری کرکے آنے والے کو عبرت کانشان بنایاجاتاہے، عمران خان کسی چیزپرراضی نہیں ہوتےکمیٹی بنانےپرفوری راضی ہوگئے، اس سےپتہ چلتا ہے عمران  خان راہ فرارچاہتے ہیں۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کی صحت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا میاں صاحب کی صحت کا معاملہ 22 کروڑ عوام کے سامنے رکھنا چاہتی ہوں، ان کا دل کا عارضہ 20 سال پرانا ہے اور انہیں تین بار ہارٹ اٹیک ہو چکے ہیں۔

مریم نواز نے بتایا کہ میاں صاحب کو تیسرا ہارٹ اٹیک اڈیالہ جیل میں قید کے دوران ہوا جس سے ہمیں لاعلم رکھا گیا، ان کا کیا علاج کیا گیا مجھے علم نہیں لیکن بعد میں معالج نے بتایا کہ میاں صاحب کو اٹیک ہوا تھا۔

انھوں نے مزید کہا میاں صاحب کی بیماری کا کیس خطرناک اور پیچیدہ ہے، ایک ڈاکٹر نے ہاتھ پکڑ کر کہا ہم کچھ نہیں کرسکتے، ہماری نوکری کامسئلہ ہے۔

میاں صاحب کا بائی پاس ان کی وزارت عظمیٰ کے دوران کیا گیا، انہیں ایک اور بائی پاس کی ضرورت ہے کیونکہ میاں صاحب کی بڑی شریان 95 فیصد بند ہے اور کڈنی کا اسٹیج تھری کا مسئلہ ہے۔

مریم نواز نے کہا کیوں عدلیہ کادروازہ باربارکھٹکٹھانےکےباوجودضمانت نہیں دی گئی، میاں صاحب کوخدانخواستہ کچھ ہواتواس کی ذمہ دارتمام شامل افراد پر ہوگی۔

ن لیگ کی نائب صدر کا کہنا تھا کہ نہتی لڑکی اور بیٹی بیمار باپ سے کیا بات کر رہی ہے اس پر بھی پہرا ہے، نالائق اعظم کو سمجھنا چاہیے کہ وہ شکست کھا گیا ہے۔

نائب صدر مسلم لیگ ن کا کہنا تھا نوازشریف سےفیملی اورجماعت کےلوگوں کی ملاقات پر پابندی لگادی گئی، فون آیا خونی رشتہ رکھنے والے صرف نوازشریف سےمل سکتےہیں، شہبازشریف اورمجھےملاقات کی اجازت دی گئی، نوازشریف کی بہن گیٹ سےواپس گئیں،والدہ ملاقات نہ کرسکیں۔ یہ کون سا اخلاق اور تہذیب ہے؟ ان کو شرم آنی چاہیے۔

مریم نواز نے کہا نواز شریف کہتے ہیں انہیں ووٹ کو عزت دو کے مؤقف کی سزا مل رہی ہے، نواز شریف سیاسی قیدی ہیں، وہ آئین و قانون اور سویلین بالادستی کی سزا بھگت رہے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں مریم نواز نے کہا کہ یہ مصر ہے اور نہ ہی نواز شریف کو مُرسی بننے دیں گے، جعلی حکومت سے ریلیف مانگ رہی ہوں نہ وہ دے سکتے ہیں، آخری حد تک نواز شریف کا مقدمہ لڑوں گی۔

وزیراعظم کی جانب سے اعلیٰ اختیاراتی تحقیقاتی کمیشن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ مجھ پر تو جے آئی ٹی بن جاتی ہے علیمہ خان پر نہیں، عمران خان اور علیمہ خان نے ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھایا اس پر بھی جے آئی ٹی بننی چاہیے۔

مریم نواز نے کہا کہ کمیشن قرضوں کا نہیں گرانٹس کا بھی حساب لے گا، کمیشن کولیشن سپورٹ فنڈز کی بھی تحقیقات کرے گا، سوال ان قرضوں پر بھی ہو گا جو نالائق وزیراعظم کی نااہلی پر خرچ ہو گئے۔عالمی آڈٹ فرم قرضہ کمیشن کی نگرانی کرے، کمیشن ضرور بنے تاکہ عوام کے سامنے دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے۔

دوستوں سے شیئر کریں

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں