جنگ ہوئی تو ایران کا مکمل خاتمہ ہوجائے گا، ٹرمپ کی دھمکی

واشنگٹن:(آسٹریلین اردو ٹی وی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ کی صورت میں ایران کو نیست و نابود کرنے کی دھکمی دے دی۔

امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ جنگ نہیں چاہتے لیکن ایران سے تصادم ہوا تو اسے نیست و نابود کردیں گے۔ ایران سے بات چیت کو تیار ہیں لیکن جوہری ہتھیار نہیں بنانے دیں گے۔  اگر وہ پھر جوہری ہتھیار بنانا چاہتے ہیں تو انہیں ایک عرصے تک تباہ حال معیشت کے ساتھ رہنا پڑے گا۔

گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا تھا کہ ایک ڈرون گرانے پر جواب دینے کے لیے ہمیں جلدی نہیں ہے، ہم لوگ ایران پر حملے کے لے تیار تھے ہمیں تین اطراف سے اسٹرائیک کرنا تھی ، میں نے پوچھا کتنے لوگ مریں گے تو جواب ملا 150 افراد مریں گے، آپریشن سے دس منٹ پہلے حکم واپس لے لیا۔

امریکی صدر نے کہا کہ ایران پر پابندیوں کے نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں، گزشتہ رات مزید پابندیاں لگائی گئیں، ایران کبھی ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا، اوباما حکومت نے ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کا راستہ دکھایا، شکریہ کرنے کے بجائے ایران شور مچا رہا ہے۔

ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے امریکا نے مشرق وسطیٰ میں نہ صرف بحری بیڑے تعینات کررکھے ہیں بلکہ 1500 امریکی فوجیوں کے بعد مزید ایک ہزار فوجی مشرق وسطیٰ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے خلیج اومان میں جاپان اور ناروے کے آئل ٹینکرز کو مبینہ طور پر نقصان پہنچا اور امریکا نے دعویٰ کیا کہ ایران کی جانب سے آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا گیا۔

یاد رہے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے انکشاف کیا تھا کہ امریکی ڈرون گرائے جانے کے بعد ٹرمپ نے ایران پر حملے کا حکم دیا تھا، امریکی طیارے فضاؤں میں  آگئےتھے اور بحری جہازوں نے پوزیشن لےلی تھی تاہم آپریشن کے آغاز سے چندگھنٹے قبل ہی صدرٹرمپ نے حملے کا فیصلہ اچانک واپس لے لیا

واضح رہے ایران کے پاسداران انقلاب نے گزشتہ روزجنوبی علاقے میں امریکی ڈرون مارگرایا تھا، جس کی فوٹیجز منظرعام پرآگئیں، ایران کا کہنا ہے ڈرون گرانا امریکا کے لئے پیغام ہے۔

جس کے بعد امریکی اہلکار نے غیرملکی خبرایجنسی سے بات چیت میں ایران کی جانب سے ڈرون گرانے کی تصدیق کی تھی ، امریکی اہلکارکا کہنا تھا امریکی بحریہ کا طیارہ آبنائے ہرمز کی عالمی حدودمیں پروازکررہا تھا۔ڈرون پرزمین سے میزائل فائرکیا گیا۔

خیال رہے امریکا نے گزشتہ دنوں خلیج عمان میں دوآئل ٹینکروں پرحملوں کا ذمہ دارایران کوقراردیا تھا۔ایران نے امریکی الزامات کی تردید کی ہے، ایران پرنئی امریکی پابندیوں کے بعددونوں ممالک کے درمیان صورتحال کشیدہ ہے۔امریکی فوجی اوربحری بیڑے مشرق وسطی میں موجود ہیں۔

عالمی برادری نے فریقین پرتحمل سے کام لینے اورمشرق وسطی میں تناؤ کم کرنے کے لئے اقدامات پرزوردیا ہے۔

یاد رہے کہ ایران کی جانب سے امریکی ڈرون گرانے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ “ایران نے ہمارا ڈرون گراکر بہت بڑی غلطی کی ہے”۔

تاریخی لحاظ سے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی اس وقت بڑھی تھی جب مئی 2018 میں صدر ٹرمپ نے ایران، امریکا اور دیگر عالمی طاقتوں کے درمیان ایٹمی معاہدے پر یک طرفہ طور پر دستبردار ہو گیا تھا۔

اس کے بعد واشنگٹن نے ایران پر کئی پابندیاں عائد کردی تھیں اور اس پر “انتہائی دباؤ”ڈالتے ہوئے ایران کو ایٹمی اور میزائل پروگرام سے باز رکھنے کے حربے استعمال کیے تھے۔

دوستوں سے شیئر کریں

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں