نیب کا فواد چوہدری کے”متنازع بیان”کا نوٹس، کارروائی کا اعلان

اسلام آباد:(آسٹریلین اردو ٹی وی) قومی احتساب بیورو (نیب) نے وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری کے حکومتی احتساب سے متعلق بیان کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی جی نیب کو کارروائی کی ہدایت کر دی۔

دو روز قبل وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نےحامد میر کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ احتساب نیب نہیں ہم کر رہے ہیں۔ نیب نے وفاقی وزیرکے بیان کو مسترد کرتے ہوئے حقائق کے منافی قرار دے دیا۔

ترجمان نیب کے مطابق فواد چوہدری کا یہ کہنا کہ احتساب ہم کر رہے ہیں نیب نہیں، حقائق کے منافی ہے اور وفاقی وزیر کے بیان سے نیب کا تشخص مجروح ہوا۔

نیب کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے ڈی جی نیب راولپنڈی کو فواد چودھری کے بیان کی مصدقہ کاپی حاصل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ وفاقی وزیر کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔

احتساب کے ادارے کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق نیب نے اس بیان کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزیرکے بیان سے نہ صرف نیب کا تشخص مجروع ہوا بلکہ فرائض اور محنت سے بدعنوانی کے خاتمے کے لیے کام کرنے والے افسران و اہلکاروں کے کام کی بھی نفی ہوئی ہے۔

نیب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ فواد چوہدری کا بیان نیب میں جاری تحقیقات پر اثر انداز یا تحقیقات میں رکاوٹ پیدا کر سکتا ہے۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ حکومت پاکستان نے آج تک نیب کو کوئی ریفرنس نہیں بھیجا، فواد چودھری کا بیان نیب تحقیقات پر اثر انداز ہو سکتا ہے، وفاقی وزیر کے بیان سے قومی احتساب بیورو کے افسران کے کام کی نفی ہوئی اور نیب کا تشخص مجروح ہوا۔

خیال رہے کہ وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے یہ بیان نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں دیا تھا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ “ہم نے وعدہ کیا تھا ہم احتساب کریں گے، الحمد اللہ تمام وہ جن کا احتساب کرنا تھا ہم نے کامیابی سے کیا”۔

صحافی حامد میر نے سوال کیا کہ آپ احتساب کر رہے یا نیب؟ جس پر فواد چوہدری نے کہا کہ”ہم کر رہے ہیں، اس سے پہلے نیب کہا تھا”۔

بعد ازاں سینئر صحافی حامد میر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر یہ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ”اگر کسی کو یہ غلط فہمی ہے کہ احتساب کا اہم فریضہ نیب سرانجام دے رہی ہے تو وہ اپنی غلط فہمی دور کرلے کیونکہ وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ احتساب تو ہم کر رہے ہیں اور ہم کا مطلب سب سمجھتے ہیں”۔

حامد میر کے ٹوئٹ پر فواد چوہدری نے جواب دیا تھا اور لکھا تھا کہ”جی بالکل عمران خان نے اس ملک میں کرپشن کے خلاف بیانیہ بنایا ورنہ یہاں تو کرپشن کوئی معاملہ نہیں تھا”۔

انہوں نے مزید لکھا کہ جلسوں تک میں کہتے تھے کہ”کھاتا ہے تو لگاتا بھی ہے”، یہ میراث پی ٹی آئی نے ختم کی اور احتساب کا کلچر لے کر آئی، ورنہ ادارے تو پہلے بھی تھے لیکن کرپشن کو کوئی برائی سمجھتا ہی نہیں تھا”۔

یاد رہے کہ فواد چوہدری کی جانب سے اس طرح کا بیان پہلی مرتبہ سامنے نہیں آیا بلکہ اس سے قبل بھی انہوں نے ایسا بیان دیا تھا، جس پر نیب نے نوٹس لیا تھا۔

رواں سال اپریل میں فواد چوہدری نے آمدن سے زائد اثاثے کیس میں گرفتار علیم خان کے حوالے سے بیان دیا تھا کہ”علیم خان کا مقدمہ کم سنگین ہے، اگر اربوں روپے کھانے والے ملزموں کو اتنی اآسانی سے ضمانت مل سکتی ہے تو ایک کاروباری آدمی کو جس پر سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے کا کوئی الزام نہیں ضمانت دینی چاہیے”۔

انہوں نے کہا تھا کہ”عام تاثر یہ ہے علیم کو اپوزیشن کے شور کی وجہ سے ناکردہ جرم کی سزا دی جارہی ہے”۔

بعد ازاں نیب نے فواد چوہدری کے علیم خان کے مقدمے کے حوالے سے بیان کا نوٹس لیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اگر ان کے بیانات میں کوئی خلاف ورزی سامنے آئی تو قانون کے مطابق کارروائی کرسکتے ہیں۔

دوستوں سے شیئر کریں

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں