اقوام متحدہ نے پاکستان کو اپنے ملازمین کیلئے”فیملی اسٹیشن” قرار دے دیا

نیویارک:(آسٹریلین اردو ٹی وی) اقوام متحدہ کے غیر ملکی اہلکاروں کی فیملیز کے پاکستان میں قیام کرنے پر عائد پابندی اٹھالی گئی۔

مسلح افواج کی قربانیوں اور امن کی کوششیں رنگ لانے لگی ہے، بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے تشخص کو پذیرائی ملنے لگی  ہے،اقوام متحدہ نے اپنے اہلکاروں کے لئے پاکستان کو فیملی اسٹیشن یعنی خاندان کے ہمراہ رہنے کے لیے محفوظ ملک  قرار دیدیا ہے ۔

اقوام متحدہ کے ادارے انٹر نیشنل سول سروس کمیشن نے پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی کو خط کے ذریعے آگاہ کیا کہ 14 جون سے پاکستان کے لیے”نان فیملی اسٹیشن”کا درجہ ختم کردیا گیا ہے۔

خط کے مطابق فیصلہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل ادارہ برائے سیفٹی و سیکیورٹی کی سفارشات کی روشنی میں کیا گیا جس نے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی سیکیورٹی صورتحال کا مکمل جائزہ لیا۔

عالمی ادارے اور ممالک سیکیورٹی صورتحال جاننے کے لیے اقوام متحدہ سے رابطہ کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے فیصلے سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان میں امن وامان کی صورتحال بہتر ہے۔

پاکستان گزشتہ دوسال سے پابندی کے خاتمے کے لیے کوششیں کررہا تھا۔ اس فیصلے سے پاکستان میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور مثبت نتائج نکلیں گے۔

خط میں کہا گیا کہ اقوام متحدہ کے اہلکاروں کی فیملی پر عائد کی گئی پابندی کو ختم کیا جاتا ہے جس کے بعد اہلکاروں کی فیملی اب پاکستان میں قیام کرسکتی ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے اس حوالے سے اقوام متحدہ کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ یہ ایک مثبت عمل ہے جس کے لیے ہم سب نے ساتھ کام کیا ہے۔

خیال رہے کہ کسی بھی ملک میں سیکیورٹی صورتحال کے جائزے کے لیے کئی ممالک اور بین الاقوامی تنظیمیں، اقوام متحدہ کی سفارشات پر عمل کرتی ہیں۔

اقوام متحدہ کے فیصلے کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ دیگر ممالک بھی اپنے سفارتکاروں کے لئے عالمی ادارے کے فیصلے کی پیروی کریں گے ۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کی طرف سے پاکستان کو ’’فیملی اسٹیشن‘‘ قرار دینے کو کامیابی گردانتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی اداروں نے ہمارے ملک پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان کے سیکیورٹی اداروں اوردفتر خارجہ کو مبارکباد پیش کرتے ہیں، اس اقدام کے بہت مثبت اثرات برآمد ہونگے۔2008 میں اسلام آباد کے میریٹ ہوٹل میں بم دھماکہ ہوا،اس واقعے کے رونما ہونے کے بعد اسلام آباد میں واقع مختلف ممالک کے سفارت خانوں اور اقوام متحدہ کے دفاتر میں خاصہ اضطراب پایا جا رہا تھا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا اقوام متحدہ نے2008میں سیکیورٹی کی صورتحال کو نامناسب سمجھتے ہوئے، اسلام آباد کو “نان فیملی اسٹیشن” قرار دے دیا جو دس سال تک جوں کا توں رہا۔

انہوں نے کہا اس دوران فارن آفس ،اقوام متحدہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہا جیسے ہی سیکیورٹی صورتحال کو سنبھالنے اور دہشت گردی کو شکست دینے میں ہمیں کامیابی حاصل ہوئی تو وزارتِ خارجہ نے اقوام متحدہ اور ان کی ایجنسیز پر زور دیا کہ اب سیکیورٹی کی صورتحال بہتر ہو چکی ہے لہذا اب اقوام متحدہ کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وہ  اقوام متحدہ کے اس اقدام کا خیر مقدم کرتے ہیں  ،امید ہے کہ اس فیصلے سے اعتماد سازی کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ ہم سرمایہ کاری کو اور دو طرفہ تجارت کو بڑھائیں ، پہلے کیونکہ سیکیورٹی صورتحال آڑے آتی تھی اب چونکہ اقوام متحدہ کے نیویارک آفس نے اپنا تجزیہ دے دیا ہے اس سے مزید بہتری کے آثار پیدا ہونگے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ویزہ دینے میں آسانیاں پیدا کرنے سے مجھے امید ہے کہ انشاء اللہ اقتصادی نقل و حرکت میں بھی بہتری پیدا ہو گی۔ہمارے کاروباری طبقے کو گاہک سے ملنے دبئی جانا پڑتا تھا اور اب وہ پاکستان آ سکیں گے۔

اس سے پہلے نائن الیون کے بعد پاکستان میں اپنی فضائی سروس بند کرنے والی برٹش ائرویز نے بھی گزشتہ ماہ پاکستان کے لئے پروازیں دوبارہ بحال کی تھیں ۔

دوستوں سے شیئر کریں

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں