مردانہ معاشرہ اور عورت گردی

مردانہ معاشرہ اور عورت گردی

تحریر : مظہر حسین بودلہ

رات کے آخری پہر فلیٹ کا دروازہ دھڑام سے کھلا اور شہزاد کپڑوں سے لدا پھندا اندر داخل ہوا (شہزاد ہمارا سابقہ روم میٹ ہے، اک ماہ قبل ہی ازدواجی بندھن میں بندھ کر اپنی بیوی کے ساتھ رہنا شروع ہوا ہے) میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔۔ کیوں پھر کپڑے دھونے والی مشین خراب ہوگئی ہے یا بھابھی نے کپڑے دھونے سے منع کر دیا جو سارے ان دھلے کپڑۓ ادھر اٹھا لائے ہو؟۔۔۔۔ شہزاد پھیکی سی ہنسی کے ساتھ یہ کہتے ہوئے کارپٹ پر بیٹھ گیا کہ ۔۔۔بیوی کو طلاق دے دی ہے"۔۔۔۔ ۔ ہائیں؟۔۔۔ کیا مطلب طلاق؟۔۔۔ ابھی مہینہ پہلے ہی تو تمہاری شادی ہوئی ہے۔۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے"؟۔۔۔ شہزاد کے چہرے پر اک کرب کی لہر سی دوڑ گئی لیکن اس نے خود کو سنبھالتے ہوئے کہا۔۔۔" بس یار کیا بتاوں، میں جیسے ہی گھر گیا میرے ساتھ بدتمیزی شروع کر دی گئی اور میرا سامان اٹھا کر باہر پھینک دیا کہ مجھے طلاق دو۔ بجائے کوئی الٹی سیدھی حرکت کرنے کےمیں نے سامان اٹھایا اور ادھر آگیا"۔

مردانہ معاشرہ اور عورت گردی

عورت گردی

میری حیرانی برقرار رہی۔۔۔"یار بات کچھ سمجھ نہیں آئی، آخرایسی بھی کیا بات ہوگئی کہ اک ماہ پہلے ہوئی شادی کو اس طرح لپیٹنا پڑے"؟۔۔۔۔ شہزاد نے چھت کی طرف گھورتےہوئے آہ بھری ۔۔۔"میرے ابو اتوار بازار میں دکان لگاتے ہیں۔ لڑکی کی امی میرے ابو کی کلائنٹ تھی، انکو میں پسند آگیا۔ لڑکی بھی ملازمت کرتی تھی، بات چلی تو اتفاق سے میری ملازمت بھی اسی کمپنی میں ہوگئی جہاں وہ ملازم ہے۔ لڑکی مجھ سے کچھ زیادہ تنخواہ لیتی ہے، کچھ عرصے بعد لڑکی کے اصرار پر ہماری منگنی ہوگئ۔ میں نے اس لڑکی سے سے کچھ نہیں چھپایا تھا، میں کتنا کماتا ہوں، گھر میں کتنے دیتا ہوں، میرا خرچہ کتنا ہے وغیرہ۔ میں نے آج تک کوئی افئیر نہیں چلایا۔ ہمیشہ یہی سوچا کہ شادی کرنی ہے۔ ہم دونوں نے یہ طے کیا تھا کہ ہم دونوں کماتے ہیں اور مل جل کر گھر چلائیں گے، اس نے کہا تھا کہ۔۔۔۔ "میں تمہارے ہر دکھ سکھ میں کام آونگی، تمہارے ہر اچھے برے وقت میں تم مجھے اپنے ساتھ پاوگے"۔

میرے گھر والے کچھ تذبذب کا شکار تھے کہ لڑکی اپنی والدہ ، بڑی بہن اور بہنوئی کے ساتھ دبئی رہتی ہے جبکہ والد پاکستان میں، پتہ نہیں کیا معاملات ہیں، کون اور کیسے لوگ ہیں کچھ پتہ نہیں ۔ میں نے اک دو بار اپنے والدین کے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میرے گھر والے نہیں مان رہے"۔۔۔۔ بقول اسکے اسے مجھ سے شدید محبت ہے اور وہ میرے لئے کچھ بھی کر سکتی ہے، زندگی کے ماہ سال مل کر گزریں گے، جب جب میں انکار کرنے کی کوشش کرتا وہ رونے لگتی اور کہتی ۔۔۔" شہزاد تمکو خدا کا واسطہ ہے، مجھے کبھی مت چھوڑنا، پلیز تم میرے ساتھ شادی کر لو، میں تمکو کبھی دھوکہ نہیں دونگی، تم مجھے بھوکا بھی رکھو گے تو رہونگی"۔۔۔ ظاہر ہے انسان کسی کے ساتھ بھی منسوب ہو تو اک وابستگی ہو جاتی ہے، میں نے جیسے تیسے گھر والوں کو منا لیا، ابو پہلے ہی دبئی ہوتے ہیں، پاکستان سے والدہ کو بلایا اور شادی کر لی۔ گھر کا ٹوٹل رینٹ، بجلی، گیس پانی، ٹیلیفون کے بلز میں نے دیے، زیادہ تر کھانا بازار سے آتا رہا ہے وہ بھی میں نے پے کیا ہے۔ اس نے کبھی گھر میں کھانا نہیں بنایا اور نہ ہی کپڑۓ دھوئے، انسان شادی اس لئے کرتا ہے کہ زندگی میں کچھ آسانیاں پیدا ہوں لیکن یہاں صرف بستر کی حد تک میں شادی شدہ تھا باقی سب کچھ بیچلزر لائف کی طرح ہی چلتا رہا، خود کپڑۓ دھونا، کھانا بازار سے کھانا، اپنا ہر کام خود کرنا، میں بھی کام سے تھکا ہارا آتا ہوں ، کافی بار کہا کہ گھر کے کام ہم دنوں مل جل کر کر لیتے ہیں لیکن ایسا کبھی ہو نہیں سکا۔ بیگم صاحبہ اپنی تنخواہ کا کثیر حصہ والدہ اور بہن کو تھما دیتی ہیں اور ماندہ رقم گاوں بھیج دیتی ہیں۔ سمجھانے کی کوشش کی تو ہر بار تماشہ لگا اور کہا گیا تم مرد ہو، میرے تمام اخراجات پورے کرنا تمہاری ذمہ داری ہے، میں پیسے گھر پر کیوں خرچ کروں؟ تم مجھے افورڈ نہیں کر سکتے تو مجھے طلاق دے دو۔ اس اک ماہ میں مجھے میری ساس، سالی، اسکے شوہر اور کئی رشتہ داروں کے سامنے زلیل کیا گیا کہ یہ ایک کنگال انسان ہے، یہ مجھے جیب خرچ نہیں دیتا۔
میں کئی بار رو دیتا، اسے کہتا کہ میری تنخواہ تمہارے سامنے ہے، پہلے دن سے تمکو ہر چیز کا علم ہے، کرایہ، بلز اور دیگر تمام اخراجات بھی میں کر رہا ہوں تو ایسے میں اضافی رقم میرے پاس کہاں سے آئے گی ؟ آج پھر اسی بات پر پھڈا ہوا، میں نے پرس کھول کر دکھا دیا کہ صرف سو درہم موجود ہیں، یہ بھی تم رکھ لو لیکن خدارا لڑائی جھگڑہ کر کے گھر کا ماحول خراب مت کرو۔ تم بھی تو کماتی ہو یار، ہم نے طے کیا تھا کہ دونوں مل جل کر گھر چلائیں گے جبکہ تم اک پیسہ بھی لگانے پر تیار نہیں ہو۔ میرا گریبان پکڑتےہوئے مجھے کمرے سے باہر دھکیل دیا گیا ، میرا سامان پہلے ہی پیک کر کے رکھا ہوا تھا، اٹھایا اور گلی میں پھینک دیا کہ یہاں سے دفع ہو جاو ورنہ میں پولیس بلا لونگی، مجھے طلاق دو اور میری جان چھوڑو۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان دونوں کے درمیان برابری کا معاہدہ نہیں ہوا تھا؟
پاک و ہند میں کہنے کی حد تک مرد کا راج چلتا ہے، یہاں مرد گھر سے باہر جاکر کماتا ہے۔ دس ہزار ہو یا دس لاکھ، ایک کروڑ ہو یا دس کروڑ وہ تمام رقم گھر میں لاتا ہے، کوئی کاروبار کرے تب بھی اسکا یہ پیسہ کہیں نہ کہیں گھر میں ہی لگتا ہے۔ گاڑی خریدے تب بھی ہر صورت میں گھر کے لئے ہی خریدتا ہے، مرد سرکاری افسر ہو، سیاستدان ہو یا کاروباری ہوگھر کے لئے بنا تنخواہ کا ڈرائیور بنا ہوتا ہے۔ مرد کی آمدن قلیل سے قلیل ہو یا کثیر سے کثیر، گھر کی قیمت، کرایہ، راشن، کپڑوں، جوتوں کی قیمت، ہوٹل، بجلی، پانی، گیس اور موبائل کے بل اور بچوں کی سکول کی فیسیں بھرنے میں خرچ ہوتی ہے۔

میں نے دیہاتی معاشرے میں آنکھ کھولی ہےجہاں عورت گھر کی سربراہ ہوتی ہے۔ خاندان برابری میں کس کو کیا دینا ہے، کس سے کیا لینا ہے یہ گھر کی عورت کی مرضی کے بننا طے ہونا ممکن ہی نہیں ۔ مرد اگرچہ تھوڑی بہت اکڑ ضرور دکھاتا ہے لیکن آخر کار ہوتا وہی ہے جو عورت کی پسند ہو۔ سیدھی سی بات ہے گھر بھی جانا ہوتا ہے صاحب، کھانا بھی کھانا ہوتا ہے اور سب سے اہم جنسی تسکین بھی پوری کرنا ہوتی ہے۔ شہروں کی طرف نظر دوڑائیں تو عورت ہاوس وائف ہے یا ورکنگ لیڈی ، دونوں صورتوں میں مرد بھلے سو بار تیور دکھائے، اکڑے یا کبھی بدتمیزی بھی کر لے لیکن ہوتا وہی ہے جو عورت چاہتی ہے۔

ہم جس عہد میں رہ رہے ہیں وہاں مرد و زن کو برابر مانا جاتاہے۔ یہ ڈیمانڈ عورت کی طرف سے ہی ہے، کیونکہ عورت نے صدیوں محکومی برداشت کی ہے اس لئے اب اسے برابری چاہیے۔ ہر ایک بات میں برابری، اسے شادی ، طلاق، تھپڑ مارنا، اونچا بولنا، سیکس کرنا ہر ایک چیز اور معاملے میں برابری کا حق چاہیے۔ لیکن کیا عورت کو پیسوں کے معاملات میں بھی برابری چاہیے؟ کیا وہ پیسوں کے معاملات میں اتنی ہی برابری کی قائل ہے جتنی برابری وہ اپنی ذات کے لئے طلب کرتی ہے؟ افسوس کے ساتھ کہنا پڑے گا کہ ایسا نہیں ہے۔

پاکستان ہو، پڑوسی ملک ہو یا مڈل ایسٹ ، میں نے ایک بات بہت شدت سے محسوس کی ہے، جو خواتین ملازمت کرتی ہیں انکی بہت بڑی تعداد غیر شادی شدہ رہنے پر ترجیح دیتی ہے، شوہر سے لڑائی چل رہی ہے، علیحدہ رہ رہی ہے یا طلاق یافتہ ہے۔ عورت جب پیسہ کمانے لگتی ہے تو اسے اچانک لگنے لگتا ہے کہ اسکا استحصال ہو رہا ہے۔ وہ اپنے پیسوں میں شراکت برداشت نہیں کرتی، شوہر کے لاکھوں کروڑوں روپے استعمال کر تی ہے کیونکہ وہ برابری کی قائل ہے لیکن اپنا ایک سو روپیہ بھی خرچ کرنا مناسب نہیں سمجھتی بلکہ جب عورت کمانے لگے تو وہ خود کو برہمن مان لیتی ہے اور شوہر صرف ایک شودر بن کر رہ جاتا ہے۔ عورت شوہر کی کمائی کا ننانوے فیصد استعمال کرے تو اسکا حق ہے۔ شوہر کسی مجبوری یا ضرورت کے وقت عورت سے پیسے مانگے تو وہ عورت کی کمائی کھانے والا دلال ہے کیونکہ عورت کی کمائی کھانے والے کو دلال ہی کہا جاتا ہے۔ ہاں جسکی کمائی کھائی جا رہی ہے اسے طوائف کہتے ہیں یہ بات ظاہر ہے عورت کیوں سمجھنا چاہے گی۔ عورت شوہر کو عورت کی کمائی کھانے والا کہہ کر حقیقت میں خود کو طوائف کہتی ہے۔

تعلق شروع ہونے سے پہلے عہد و پیماں ہوتے ہیں، ہمارا جو کچھ بھی ہے وہ سانجھا ہے لیکن میا ں بیوی بنتے ہی عورت کو شوہر کمائی کھانے والا لگنے لگتا ہے اور چند ہی دنوں میں نوبت طلاق تک آجاتی ہے ۔ کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ عورت بطور جنس خود مختار ہوکر مرد سے انتقام لینا شروع کر دیتی ہے۔ اصولی طور پر پڑھی لکھی اوربرسرروزگار خواتین میں طلاق کا تناسب کم ہونا چاہیے لیکن یہ تناسب انپڑھ خواتین کی نسبت کہیں زیادہ ہے۔

میں درجنوں پڑھی لکھی اور خودمختار خواتین کو جانتا ہوں جو شادی شدہ تھیں مگر اب اکیلی رہ رہی ہیں۔ وجہ تقریبا ایک جیسی ہے کہ شوہر جاہل ہے یا کمائی کھانے والا دلال ہے۔ ان میں سے اکثریت مردوں سے نفرت کرتی ہے۔ مردوں کو کتا اور سور تک کہتی ہے لیکن جب ان سے انکے رومانوی معاملات پر بات ہو تو جواب ملتا ہے کہ اپنی پسند کا مرد چنتی ہیں اور اپنی جنسی تسکین پوری کرلیتی ہیں، ہم آزاد ہیں، برابر ہیں کوئی غلام تھوڑی ہیں۔ تب میں ٹوک دیتا ہوں، محترمہ مرد نہیں، سور اور کتا۔ آپ سور اور کتے کے ساتھ بستر گرم فرما رہی ہیں۔

اک مرد کمائے تو وہ عورت کا سامان گھر سے باہر نہیں پھینکتا لیکن اگر اک عورت کمانے لگے تو اسی مرد کا سامان باہر پھینک دیتی ہے جو اس گھر کے تمام اخراجات ایڈوانس میں ادا کر چکا ہوتا ہے۔ اک مرد اپنے والدین پر صرف ایک ہزار روپیہ خرچ کرے تو عورت طلاق لینے تک پہنچ جاتی ہے لیکن وہی عورت جب خود کما رہی ہو تو اپنی کمائی کا ننانوے فیصد حصہ اپنے گھر والوں پر نچھاور کرتی ہے ۔ ہاں پھر وہاں کوئی سر پھرا اسکے والد ، والدہ اور بہن بھائیوں کو عورت کی کمائی کھانے والے یعنی کہ دلال کہنے کے لئے موجود نہیں ہوتا۔

مسلہ جنس سے نہیں ہے، مسئلہ مرد کے کمانے اور عورت کے گھر بیٹھنے سے نہیں ہے، مسئلہ عورت اور مرد کے برابر کمانے سے بھی نہیں ہے بلکہ مسئلہ ہے جھوٹی برابری کا چورن بیچنے کا۔ مسئلہ منافقت اور دہرے معیارات کا ہے۔ اگر ہم برابری کا جھوٹا چورن بیچنے کے بجائے پہلے اپنے رشتوں کو رشتہ مان لیں تو یہ مسائل کبھی جنم ہی نہ لیں۔ مرد و زن مل کر کمائیں اور ایک دوسرے کو اتنی ہی عزت دیں جتنی کسی بھی نہ کمانے والے کو پہلے مل رہی ہوتی ہے۔ جتنی عزت آپ اپنے خونی رشتوں کو دیتے ہو۔ یاد رہے کہ خونی رشتے آپکی بیماری کی حالت میں آپکا گند صاف نہیں کر سکتے۔ میاں اور بیوی کرتے ہیں۔
لیکن سوال پھر بھی وہیں موجود ہے۔۔۔۔۔۔۔ کیا ہمارے نام نہاد پڑھے لکھے معاشرے کی پڑھی لکھی، برسرروزگار خواتین حقیقی طور پر برابری کرنا بھی چاہتی ہیں ؟ افسوس کہ ہم پڑھ لکھ کر، بیرون ملک آکر، بھی منافقت اور دوہرے معیارارت اپنے ساتھ لانا نہیں بھولتے۔

نوٹ: آپ کو اس تحریر سے مکمل اختلاف ہو سکتا ہے جو کہ آپ کا حق ہے۔ لیکن زرا اپنے گرد و پیش دیکھ کر یہ ضرور بتا دیجئے گا کہ دوستی، رشتہ داری، فلرٹ، محبت اور سیکس میں اختیارات مرد کے ہاتھ میں ہے یا عورت کے؟ عورت اک سیٹی مارے درجنوں گاڑیاں رکیں گی ، اچھا کھانا ، مہنگا لباس ، بہترین ہوٹل میں قیام اور اعلی قسم کا کنڈوم دستیاب ہوجائے گا، وہیں اک مرد بن ٹھن کے کھڑا ہو سو میں سے دو خواتین صرف دیکھ کر نکل جائیں گی کیونکہ اپن کو روکڑا مانگا۔ ہینڈسم تو سالا پھپھو کا بیٹا بھی ہے۔ برابری۔۔۔۔۔۔ ہی ہاہاہاہاہا۔

دوستوں سے شیئر کریں

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں