عید شاعری ۔ عید نظمیں Eid Mubarak Poem

عید

وہی شام کہر سی شام پھر
تیرے نام ہو تو غزل کہیں
وہی شام جس کی رگوں میں تھے
تیری خواب آنکھوں کے رتجگے
وہی صبح ،دھوپ کی لاڈلی
تیرے عارضوں پہ کھلے تو پھر
رگ جاں سے نظم کشید ہو
وہی سماعتوں کا جلوس ہو
وہی رنگ ہو وہی روشنی
وہی خوشبوؤں کا ہجوم ہو
وہی ایک پل تیری دید کا
جو ملے تو اشک چمک اٹھیں
جو بجھے ہیں داغ چمک اٹھیں
وہی ایک پل تیری دید کا
جو ملے تو درد کی اوٹ سے
سبھی قہقہے سے چھلک پڑیں
سر لوح شام فراق پھر
غم عشق موج نوید ہو
اے ستارہ شب زندگی
ادھر آ کہ جشن ہو معتبر
نظر آ کہ ڈھنگ سے " عید " ہو۔

Eid Poem

عید

نظم

اب کے دوستو آٶ
عید یوں مناتے ہیں
سب ملول چہروں سے
گرد یہ اداسی کی
مل کے سب ہٹاتے ہیں
ایک ایک منظر میں
سات رنگ خوشیوں کے
رنگ بھرتے جاتے ہیں
اپنے ہر ایک آنگن میں
کھلکھلاتی کلیوں کا
مسکراتے پھولوں کا
باغ اک لگاتے ہیں
آٶ روتی آنکھوں کو
ہنسنا بھی سکھاتے ہیں
نفرتوں کی دنیا میں
پیار ہی اگاتے ہیں
بے چراغ لمحوں میں
دھڑکنوں کی لے پر ہی
خوشنما امیدوں کے
گیت گنگناتے ہیں
دکھ کے سب کناروں پر
آس بوتے جاتے ہیں
دھوپ ہی نہیں یارو
چھاٶں بانٹتے ہیں اب
آٶ زندگی کے غم
مل کے کاٹتے ہیں اب
دوریاں مٹاتے ہیں
آج عید کا دن ہے
دل سے دل ملاتے ہیں
اب کے دوستو آٶ
عید یوں مناتے ہیں
عید یوں مناتے ہیں ۔۔!!

دوستوں سے شیئر کریں

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں