پختون قوم PTM

پختون قوم

تحریر ریاض علی خٹک

پختون کو اللہ رب العزت نے بہت چوڑے کندھے دیے۔ بڑا سا دل دیا خشک و سبز بلند و بالا پہاڑوں کا خطہ بطور مسکن دیا. قبائلی نظم و ضبط کی ایک تاریخ دی. مہمان نوازی کا اکرام دیا دین کی غیرت دی. قناعت میں خوش رہنے کا حوصلہ دیا. سب کچھ ملا شعور کی تلاش بہرحال ہم پختونوں پر چھوڑ دی.

Car Insurance Quotes

دور سے لوگوں کو ہمارے یہ چوڑے کندھے نظر آتے ہیں. ان پہاڑوں وادیوں میں بستی بے بسی کسی کسی کو ہی شائد نظر آتی ہو. اس لئے ہر کچھ عرصہ بعد کچھ لوگ اٹھتے ہیں ہمارے کندھوں پر اپنی خواہشات کی بندوقیں رکھ کر ہمیں استعمال کر جاتے ہیں. اور ہم چاہتے نہ چاہتے استعمال ہو جاتے ہیں.

قریب کی تاریخ ہی دیکھ لیں. کتنی جنگیں ہوئیں کتنی نسلیں برباد ہوئیں. ازلی بے بسی کتنی پھیل گئی کتنی بڑھ گئی اس پر کم ہی کسی کی نظر جاتی ہے. نظر آتے ہیں تو ہمارے یہ چوڑے کندھے. آج بھی ہمارے پاس کوئی ہماری بے بسی کا چارہ گر بن کر نہیں آتا. آتا ہے تو ان کندھوں پر اپنی مرضی کی بندوقیں رکھنے ہی آتا ہے.

آج کے پختون نوجوان میں اگر شعور کچھ آگیا ہو تو کندھوں سے غیر کی بندوقیں پھینک کر ہی ثبوت دے سکتا ہے. ایک طرف بیٹھ کر ہی یہ بتاسکتا ہے. ہم نہیں لڑنا چاہتے. ہم نہیں لڑیں گے. یہ بندوقیں ہماری نہیں یہ بندوقوں والے ہمارے نہیں. آو لڑے بغیر ہمارے پیچھے اس ناچتی بے بسی کو دیکھو. کچھ لوگ ہماری اسی بے بسی کو اپنا نعرہ بنا کر ہمارے کندھوں پر جو اپنی بندوقیں سجا رہے ہیں. یہ جھوٹے ہیں. یہ جنگ جھوٹی ہے. ہماری پشت سے جنگ کی آوازیں دیتی یہ زبانیں جھوٹی ہیں.

سچ بس ہماری بے بسی ہے. ہماری غربت ہے. ہمارا تباہ کھنڈر وطن ہے. ہماری بھوک سچی ہے. یہی تسلیم کرنا سچ ہے. ہماری وطن سے محبت سچی ہے.

دوستوں سے شیئر کریں

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں