کس نے گولی پہلے ماری کس نے بعٓد میں ماری،اسے مارو گولی پہلے یہ سوچو Ali Wazir and Mohsin Dawar Facts

کس نے گولی پہلے ماری کس نے بعٓد میں ماری،اسے مارو گولی پہلے یہ سوچو

تحریع ناصر عباس

دو موجودہ ایم این اے پچاس یا سو افراد کے ہجوم کے ساتھ ایک چیک پوسٹ کے سامنے مظاہرہ کرنے کیوں گئے؟
1۔ عام سے قبائلی چند ہفتے پہلے جی او سی سے ملتے ہیں پشاور میں اور اگلے روز ان کے 76 لواحقین گھروں کو واپس آ جاتے ہیں۔کیا یہ دونوں ایم این اے ان عام قبائلیوں سے بھی گئے گزرے ہیں کہ اپنی بات کسی تک نہیں پہنچا سکتے؟
2۔ یہ دونوں ایم این اے وزیرستان میں ہی موجود کسی بٹالین ہیڈکوارٹر میں اپنا مسئلہ حل کروا سکتے تھے۔
3۔ کسی بریگیڈ ہیڈکوارٹر میں بریگیڈئر صاحب سے مل کر اپنا مسئلہ حل کروا سکتے تھے
4۔ کسی ڈویژن ہیڈکوارٹر میں جا کر کسی میجر جنرل سے اپنا مسئلہ حل کروا سکتے تھے۔
5۔ یا یہ بھی نہیں تو پشاور میں جی او سی سے مل کر اپنا جائز مسئلہ حل کروا سکتے تھے
6۔ یہ بھی نہیں تو آرمی چیف کے سامنے اپنا مسئلہ رکھ سکتے تھے۔
7۔ آرمی چیف بھی نا مانتا تو وزیر اعظم کے سامنے اپنا مدعا رکھ سکتے تھے۔یاد رہے یہ دونوں ایم این اے دو دفعہ پہلے بھی ملاقات کر چکے وزیر اعظم کے ساتھ۔
8۔ وہ بھی نا مانتا تو قومی اسملی/پارلیمنٹ میں اپنا احتجاج ریکارڈ کروا سکتے تھے۔
9۔ یہاں سے بھی کچھ نا بن پاتا تو اپنے نئے نئے اتحادی ن لیگ،پیپلز پالٹی اور تقربیا ساری اپوزیشن پارٹیوں کے ذریعے حکومت اور فوج پر دباؤ ڈالا جا سکتا تھا۔
10۔ وہاں بھی انہیں نا سنا جاتا تب بھی جی ایچ کیو،ڈی چوک یا بلیو ایریا میں جلسہ،مظاہرہ یا دھرنا دے سکتے تھے۔

لیکن ہوا کچھ یوں کہ یہ دونوں سرکار سے 4 لاکھ تنخواہ اور 40 لاکھ کی مراعات پانے والے مظاہرہ کرتے ہیں چیک پوسٹ کے سامنے۔کن لوگوں کے سامنے؟ وہ سپاہی جن کی تنخواہ پچیس ہزار روپے ہے۔زیادہ تر ان چیک پوسٹوں پر جونئر لیول کا افسر یعنی حوالدار یا صوبیدار تک نہیں ہوتا۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ پچیس ہزار تنخواہ پانے والے سپاہی ان کروڑ پتی ایم این ائز کو کیا کیا دے سکتے تھے؟

1۔ ان ایم این اےز کو یہ امید ہو سکتی تھی کہ پچیس ہزار تنخواہ والا سپاہی میرے ایم این اے ہونے سے مرعوب ہو کر میرا مطالبہ پورا کر دے گا۔
2۔ اگر ایم این اے والا وار کارگر نا رہا تو سو افراد کے ہجوم سے ڈر کر یہ چند سپاہی میرا مطالبہ پورا کر دیں گے۔
3۔ اگر اس سے بھی کچھ نا بن سکا تو میرے گرگوں کے ہاتھوں میں موجود اسلحہ کا خوف ہمارا کام پورا کروا د ے گا۔
4۔ اگر ایسے بھی نا کام بن پایا تو چیک پوسٹ پر چڑھائی کر کے ہی اپنا کام کروا لیں گے جو کہ حالات کو دیکھ کر لگتا ہے کہ واقعی ایسا ہوا۔

اب یہ قاری کی اپنی کامن سینس پر منحصر ہے کہ وہ کیا یہ سمجھتا ہے کہ وہ واقعی جائز،قانونی اور آئینی کام تھا جس کے لئے دو موجودہ ایم این اےز کو یہ سارا کھڑاگ رچانا پڑا۔

دوستوں سے شیئر کریں

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں