خودی کو شرم آتی ہے مسلماں کہتے ۔ تصور اکرم

خودی کو شرم آتی ہے مسلماں کہتے کہتے ۔

تصور اکرم : طوطل پتوکی , قصور

Ramazan

کچھ پل کے لیے حال سے رشتہ جوڑو ان بھاگتی دوڑتی گاڑیوں اور ترقی یافتہ دور پر نظریں جمال کر دیکھیں دنیا میں کیا ہورہا ہے ظلم کا اندھیرا ہےظلم وستم اور شراب نوشی اور زناکاری معیوب سمجھی جارہی ہے چوری اور ڈاکہ زنی پر فخر کیا جارہا ہےظلمت اندھیرے کا دورہ ہے انسان دوسرے انسان کے خون کا پیاسا ہے جس کی لاٹھی بھینس کا قانون ہے انتقام در انتقام کا سلسلہ چل رہا ہے ہرطرف افراتفری اضطراب کا عالم ہے بدی کا راج ہے بے حیاٸی کا غلبہ ہے ہر طرف مسلمان اپنے مقصد کو بھول چکا ھے اپنے رب چاہی زندگی کو چھوڑ کر من چاہی پر اُتر چکا ھے ہر سمت نفرت وعداوت کے شعلے بھڑک رہے ہیں غرض یہ کہ انسان وحشی درندہ بن چکا ہے اور انسانیت تباہی کے آخری دہانے پر پہنچ چکی ہے گویا عالم انسانیت سسک رہی ہے
جس طرح شاعر کہتا ہے۔

قدم قدم پہ خوف رہزن زمین بھی دشمن فلک بھی دشمن
زمانہ ہم سے ہواہے بدظن تم ہی محبت سے کام لے لو
یہ کیس منزل پہ آگٸے ہیں نہ کوٸی اپنا نہ ہم کسی کے

آخر ایسا کیوں ہورہا ہے کس لیے ہو رہا ہے تواس کا ایک ہی جواب ہے یہ سب اس لیے ہورہا ہے کہ ہم حضورﷺ کی اتباع اور ان کی تعلیمات کی پیروی چھوڑ چکے ہیں یہں ہمارا سب سے بڑا مرض ہے اس کا علاج صرف اور صرف دامن مصطفٰی ﷺ کے طریقوں سے وابستگی ہے
اگر ہم اللہ ﷻ کی طرح طرح کی بےشمار نعمتوں کو دیکھیں آسماں کو ایک محفوظ چھت بنارکھا ہے زمیں کو بہترین فرش بنارکھا ہے آسماں سے بارش برسا کر زمیں سےمزےمزےکےپھل کھیتیاں باغات تیار کردیتا ہے اسی کے حکم سے کشتیاں پانی کے اوپر تیرتی ہیں ان کے زریعے تم یہاں کا مال وہاں اور وہاں کا یہاں لے آو اور نفع حاصل کرو نہریں بھی اسی نے تمہارے کام میں لگا رکھی ہیں تم انکا پانی پیو پلاو اور طرح طرح کے فاٸدے حاصل کرو چلتے پھرتے کبھی نہ تھکتے سورج چاند تمہارے فاٸدے کے کاموں میں مشغول ہیں ستارے اسی کے حکم کے ماتحت ہیں وہ رب العلمین بابرکت ہے کبھی دنوں کوبڑا کردیتا ہے کبھی راتوں بڑا کردیتا ہے گویا ہرچیز اپنے کام میں سرجھکاۓ مشغول ہے مانگنے پر بھی وہ دیتا ہے اور بن مانگے بھی اس کا ہاتھ رُکتا نہیں وہ رب خزاں میں بہار پیداکرتا ہے وہ رب جو ظلمت شب کے بعد نور سحرا پیدا کرتا ہے وہ رب جو قحط سالی میں کہلاتے انسانوں بلبلاتے حیوانوں اور تڑپتے کیڑوں مکوڑوں پر رحم کرتے ہوۓ بارش برساتا ہے اسی رب نے جو میرا اور آپ کا اور ہرشےکارب ہے ۔

اس نے پیغمبر ﷺ کو قرآن کی صورت میں انسانیت کا دستور دیا ہے ہدایت کا منشور دیا ہے راہ زندگی کا نور دیا ہے قرآن کی انقلابی تعلیمات نے انقلاب برپا کردیا ہے ایسا انقلاب اگر ہمارا معاشرہ اس پر عمل کرے دنیاں اس کی مثال دینے سے قاصر ہو قرآن شہر بدل دے گا گاٶں بدل دے گا عقاٸد بدل دے گا سوچنے کے انداز بدل دے گا راستے بدل دے گا منزل بدل دے گا معیشت بدل دے گا تجارت بدل دے گا معاشرت بدل دے گا ثقافت بدل دے گا سیاست بدل دے گا زندگی بدل دے گا ظاہر بدل دے گا باطن بدل دے گا انسان بدل دے گا ڈاکو اور لٹیرے محافظ اور نگہبان بن جاٸیں گے ظالم اور ستم گر عادل اور ہمدردانسان بن جاٸیں گے یہ انقلاب قرآن کو سمجھنے اور اس پر عمل سے ہی برپا ہوگا

شاعر کہتا ہے

اصلاح عالم کا اب سامان ہونا چاہیۓ
سب کا دستورالعمل قرآن ہونا چاہیۓ

یہی ہے آرزو تعلیم قرآن عام ہو جاۓ
ہر اک پرچم سے انچا پرچم اسلام ہو جاۓ

اللہ ﷻ مجھے اور آپ کو اور ساری دنیا کو قرآن حکیم پڑھنے پڑھانے سمجھنے اور سمجھانے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرماٸیں آمین

دوستوں سے شیئر کریں

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں