ویب سائٹ بنانا کیوں ضروری ہے ؟

ویب سائٹ بنانا کیوں ضروری ہے ؟

تحریر رحیم بلوچ

ویب سائٹ بنانا

اگر آپ کوئی کاروباری آدمی ہیں اور آپ کے کاروبار کی کوئی ویب سائٹ نہیں ہے تو اس کا مطلب ہے آپ کے کاروبار کا کوئی وجود نہیں ہے۔ آج کے دور میں کاروبار کے لیے ویب سائٹ کیوں ضروری ہے آئیے جائزہ لیتے ہیں۔

مثال کے طور پر آپ ایک فیکٹری کے مالک ہیں اور آپ کی فیکٹری کی کوئی ویب سائٹ نہیں تو کاروباری لحاظ سے آپ کی فیکٹری کا کوئی وجود نہیں کیونکہ اگر آپ کسی سے کوئی ڈیل کریں گے تو سب سے پہلے وہ آپ کی سائٹ کا لنک مانگ کر فیصلہ کریں گے کہ آپ سے ڈیل کرنا ہے یا نہیں۔ زبانی کلامی آپ اپنی فیکٹری کے بارے میں جتنا بتائیں لیکن آپ کی فیکٹری کو فراڈ ہی سمجھیں گے چاہے آپ کتنے ایماندار کیوں نہ ہوں۔

یا اگر آپ آن لائن سوشل میڈیا وغیرہ پہ کوئی فروخت کرنا چاہ رہے ہیں تو فیس بک وغیرہ آپ کو خرید و فروخت کی سہولیات آپشن تو دیتا ہے لیکن خریدنے والے صرف چند لوگ ہی ہوں گے جو یا تو رسک لے کر آپ سے خریدیں گے یا آپ کے پرانے فرینڈ ہوں گے جو کافی عرصے سے آپ کے فرینڈ لسٹ میں ہونے کی وجہ سے آپ پر یقین کر سکیں گے لیکن باقی نئے لوگ رسک بھی نہیں لیں گے اور مطمئن بھی نہیں ہوں گے۔ لہذا سب سے پہلے وہ آپ کا پیج وزٹ کر کے دیکھیں گے کہ آپ کی ویب سائٹ ہے یا نہیں۔ لوگ بھلے آرڈرز فیس بک کے ذریعے دیں ویب سائٹ صرف اور صرف اس بات کی علامت ہے کہ آپ ایک سنجیدہ کاروباری شخصیت ہیں اور چونکہ آپ نے خرچہ کر کے ویب سائٹ بنا لیا ہے تو اس کا مطلب ہے آپ بھاگنے والے فراڈی یا عارضی طور چیزیں فروخت کرنے والے نہیں۔

خود اندازہ کریں کہ آپ سوشل میڈیا کے ذریعے کوئی چیز آرڈر کرتے وقت کس طرح اس پیج کے متعلق تحقیق کر کے لوگوں کے کمنٹس پڑھ کر رائے قائم کرتے ہیں کہ آیا آرڈر دینا چاہیئے یا نہیں۔

اگر آپ کسی سکول یا کسی پرائیوٹ ادارے کے مالک ہیں تو لوگ آپ کی سائٹ دیکھ کر آپ کے ادارے کے متعلق فیصلہ کریں گے کہ ادارہ پر اعتماد ہے کہ نہیں ؟

حتی کہ اگر آپ کوئی ٹرسٹ یا فلاحی کام کر رہے ہوں تب بھی لوگ آپ کے ساتھ تعاون کرنے سے پہلے آپ کی سائٹ دیکھ کر فیصلہ کریں گے کہ آپ کو فنڈز دینے چاہئیں یا نہیں۔ اسی طرح کوئی بھی ملکی یا غیر ملکی کمپنی یا شخص آپ کی ویب سائٹ دیکھ کر فیصلہ کرتے ہیں کہ آپ کے ساتھ ہاتھ ملایا جائے کہ نہیں۔

اب بات کچھ ٹیکنیکل باتیں کہ ویب سائٹ کیسی ہونی چاہئیے۔

کچھ ٹیکنیل باتیں

ویب سائٹ کا خرچہ ؟

ایک پروفیشنل ویب سائٹ کا خرچہ پہلی مرتبہ بیس ہزار سے پچاس ہزار تک ہوتی ہے اس کے بعد سالانہ چھ سات ہزار فیس دینی ہوتی ہے۔

ہمارے ہاں کچھ لوگ مفت یا پھر ہزار پندرہ سو میں کچھ بلاگز بنا کر دوسروں کو لوٹتے رہتے ہیں ۔ فری ڈومین اور ہوسٹنگ وغیرہ کبھی بھی پروفیشنل کام کے لیے نہیں ہوتے۔ فری بلاگز جن میں آپ کے نام کے ساتھ بلاگسپاٹ یا ورڈپریس ڈاٹ کام کا لنک ہوتا ہے ایک عدد ڈائری کے علاوہ اور کوئی کام نہیں دیتے کہ آپ ان فری بلاگز میں کچھ لکھ کر اپنے پڑھنے کے لیے محفوظ کریں۔

پروفیشنل ویس سائٹ کے لیے اعلی درجے کا ڈومین اور ہوسٹنگ خریدنے پڑتے ہیں۔ اعلی درجے کا ڈومین مطلب ڈاٹ کام .com ، ڈاٹ او آر جی .org ، ڈاٹ نیٹ .net یا پھر ملک کے حساب سے ڈاٹ پی کے .pk ، ڈاٹ یو کے .uk وغیرہ یا پھر ادارے کی علامت یعنی .edu .gov وغیرہ اعلی درجے کے ڈومین ہیں۔

باقی کچھ فضول ڈومینز جو مفت ملتے ہیں جیسے .tk یا .ooo وغیرہ غیر معیاری ڈومین ہوتے ہیں۔

اس کے بعد اچھی سی ہوسٹنگ لازمی ہے جس سے آپ کی ویب سائٹ تیزی سے کھلے اور اس کے سرور کبھی ڈاؤن نہ ہوں۔
کیونکہ غیر معیاری اور مفت ہوسٹنگز کے سرور بھی اکثر ڈاؤن ہوتے ہیں اس کے علاوہ چونکہ آپ کا سارا ڈیٹا ہوسٹنگ کے سرورز پہ محفوظ ہوتا ہے اس لیے مفت ہوسٹنگ والی سائٹس اکثر ہیک ہوتے ہیں اور خود ہوسٹنگ کمپنی والے بھی آپ کے صارفین کا ڈیٹا اور تصاویر کو غلط استعمال کر سکتے ہیں۔

اگر ہوسٹنگ اچھی ہوگی تو ہزاروں صارفین پہ آپ کی سائٹ وزٹ کریں تب بھی سرورز ڈاؤن نہیں ہوں گے لیکن غیر معیاری ہوسٹنگ سے ایک دو ہزار لوگ ایک ساتھ وزٹ کریں تو ویب سائٹ سلو یا بند ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ اگر آپ کی سائٹ بند ہوجائے یا کوئی مسئلہ ہوجائے تو معیاری ہوسٹنگ آپ کے ڈیٹا کا بیک اپ اپنے پاس محفوظ رکھتے ہیں اور ڈیٹا ضایع ہونے پر آپ بیک اپ ری اسٹور کر کے اپنی محنت ضایع ہونے سے بچا سکتے ہیں

پروفیشنل ای میل ایڈریس

آپ نے دیکھا ہوگا کہ مختلف کمپنیوں کے ای میل ایڈریس کچھ اس طرح کا ہوتے ہیں

support@ubl.com
complaint@jazz.com.pk
contact@daraz.com

یہ ای میل سروسز ہوسٹنگ خریدنے کے بعد ہوسٹنگ کے کنٹرول پینل سے بنائی جاتی ہیں اگر آپ کا جی میل یا یاہو وغیرہ ہیک ہوجائے تو وہ واپس نہیں ہو سکتا لیکن یہ ای میل اول تو ہیک نہیں ہوتے اگر ہو بھی جائیں تو ہوسٹنگ کمپنی کے پاس آپ کا بیک اپ ڈیٹا موجود ہوتا ہے اور آپ اپنے ای میلز ریکور کر سکتے ہیں۔ اور اس طرح کے جتنے چاہیں ای میل ایڈریس بنا سکتے ہیں یعنی مختلف کاموں کے لیے مختلف ای میل ایڈریس بنا کر شکایات اور دیگر ای میلز علیحدہ علیحدہ ایڈریس سے وصول کر سکتے ہیں وہ بھی بغیر کسی اضافی چارجز کے۔

مزید معلومات یا ویب سائٹ بنوانے کے لیے اس لنک پر کلک کریں

ہم سے ویب سائٹ بنوائیں

دوستوں سے شیئر کریں

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں