پاکستان میں آن لائن شاپنگ اور شکایات

پاکستان میں آن لائن شاپنگ اور شکایات

تحریر : ہارون ملک

پاکستان میں آن لائن شاپنگ

آن لائن خریداری

پاکستان میں آن لائن شاپنگ آہستہ آہستہ فروغ پا رہی ہے۔ بیوپاری اپنا سامان بیچ رہے ہیں ، خریدار خرید رہے ہیں۔ لیکن کسٹمرز سیٹسفیکشن لیول بُہت کم ہے ۔ اِس کی چند وجوہات ہیں ۔ایک تو وُہی ہماری پاکستانیوں کی بُنیادی عادتِ بد کہ جو چیز تصاویر میں دِکھاتے ہیں وُہ ہوتا نہیں ، یا گار منٹس وغیرہ میں سائزز کا مسئلہ ہوتا ہے ، آپ ایک چیز خرید لیں تو اُس کے پیسے ڈائیریکٹ سیلرز کو چلے جاتے ہیں اور واپسی قریب قریب نامُمکن ہی سمجھیں ۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ سب بیچنے والے غیر معیاری اشیاء بیچتے ہیں لیکن سچ یہی ہے کہ شکایات بُہت زیادہ ہیں ۔

دُوسرا پاکستان میں اب پے پال PayPal سسٹم بھی نہیں رہا یا شاید ابھی تک یہاں پے پال متعارف ہی نہیں ہوا ، پے پال ایک تھرڈ پارٹی ہے ، آپ یُوں سمجھیں کہ آپ بیچنے والے کو نہیں جانتے اور بیچنے والا خریدنے والے کو نہیں جانتا ہوتا تو ایسی صُورت میں پے پال ایک مڈل مین کا کام کرتا ہے یعنی آپ سے پیسے لیکر اپنے پاس رکھتا ہے اور بعد ازاں بیچنے والے کو ادا کرتا ہے اور اپنی معمولی سی فیس کاٹ لیتا ہے جو کہ بیچنے والا پے کرتا ہے ۔ اب اگر آپ کو ایک خریدی ہُوئی شے پسند نہیں یا ویسی نہیں جیسی بیان کی گئی تھی تو آپ اپنے خرچے پر وُہ آئٹم واپس سیلر کو بھیجتے ہیں اور پے پال آپ کو آپ کی رقم واپس کردیتا ہے ۔

بعض آئٹمز کی خریداری پر پہلے سے لکھا ہوتا ہے کہ واپسی مُمکن نہیں ، لیکن ایسی صورت میں بھی شے ٹوٹی ہُوئی ملنے یا نہ ملنے وغیرہ کی صُورت میں پے پال آپ کو آپ کے پیسے واپس کرتا ہے ، اگر سیلر نہ بھی دے تو پے پال اپنے پاس سے پیسے واپس کرے گا ۔

اب پاکستان میں پے پال تو ابھی تک ہے نہیں، ایک تو پتہ نہیں ہم لوگ کیوں دُنیا سے الگ تھلگ سیارہ بنا کر بیٹھے ہیں ، لیکن جب تک نہیں ہے اگر سٹیٹ بینک یا حکومت چاہے تو اپنے بینکس کو اِس بابت پابند کرسکتی ہے کہ کسٹمر سیٹسفیکشن اور اِس طرح کے فراڈ سے بچنے کے لئے کوئی نہ کوئی لائحہ عمل بنائے ۔ جیسا کہ ہر آن لائن سیلر کا ایک نیا اکاؤنٹ کُھلے اور اُس میں آنیوالی ہر پیمینٹ دو سے تین ہفتے تک روکی جائے اور شکایت کُنندہ کی شکایت پر وُہ رقم یا اُس آئٹم کا تصفیہ کرایا جائے ، اِس سے حکومت کو بھی فیس وغیرہ کی مد میں رقم مِلے گی اور آن لائن شاپنگ فراڈ سے بھی جان چُھوٹ جائیگی ۔
تجاویز اور بھی ہوسکتی ہیں لیکن عمل کون کریگا؟؟

دوستوں سے شیئر کریں

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں