سانحہ مستونگ ۔ ذوالفقار علی زلفی

سانحہ مستونگ

تحریر : زوالفقار علی زلفی

سانحہ مستونگ

سانحہِ مستونگ پر ردعمل کا اظہار اتنا مشکل ہوگا، سوچا ہی نہ تھا ـ نوابزادہ  سراج رئیسانی کے نامہِ اعمال میں شاید ہی کوئی اچھائی برآمد ہو ـ ان کی موت پر خوشی منانا اخلاقی لحاظ سے درست تو نہ ہوگا مگر منافقانہ افسوس بھی ممکن نہیں ـ

درجنوں جانیں گئیں ـ یہ وہ انسان نما بھیڑ بکریاں ہیں جنہیں نوابزادہ کے حکم کی تعمیل میں "مقتل گاہ" لایا گیا ـ "حکم کے غلاموں" کا خون تو عرصہ ہوا بلوچ وطن میں ارزاں ہے ـ اجتماعی قبروں کی دریافت کل کی بات ہے ـ بلوچستان مرغیوں کا فارم ہے، کب، کس کی باری آئے پتہ نہیں چلتا ـ

مستونگ مذہبی شدت پسندوں کا مضبوط ترین مرکز ہے ـ یہاں سے پہلے بلوچ سیاسی کارکن چن چن کر مارے گئے ـ اس منظم قتل میں سراج رئیسانی اہم ترین کردار تھے ـ قوم پرست سیاست کا راستہ روکنے کے لئے مذہبی جنونیت کو ہوا دی گئی ـ مستونگ شیعوں اور ہزارہ برادری کا مقتل بنا ـ زائرین کے درجنوں قافلے مستونگ پہنچ کر "لٹنے" لگے ـ

اب انہی جنونیوں نے اپنے سابقہ مائی "باپ" کے لاڈلے کو جو کبھی ان کا دوست تھا دو سو کے قریب محنت کشوں کے ساتھ قتل کردیا ـ مذہبی جنونیوں کا یہ بدلتا رویہ کس جانب اشارہ کررہا ہے؟ ـ سرِ دست میں سمجھنے سے قاصر ہوں ـ

محنت کشوں کا قتل ہمارا قتل ہے ـ مذہبی جنونی ہمارے کھلے دشمن ہیں مگر سراج رئیسانی اور اس کے سرپرست نہ کبھی ہمارے تھے اور نہ ہوں گے ـــ

دوستوں سے شیئر کریں

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں