ایک عظیم نے ایک عظیم سائنسدان جنم دیا

ایک دن ایک چھوٹا سا لڑکا جسکا نام تھامس ایڈیسن تھا وہ سکول سے واپس گھر پہنچا تو اس نے ایک سربمہر خط ماں کو پکڑایا اور بتایا کہ
ماما یہ خط سکول والوں نے دیا ہے کہ یہ خط ماں کو دینا صرف وہی پڑھیں گی۔۔۔۔۔

ماں نے خط پڑھا تو اسکی آنکھوں میں آنسو آ گے اور اس نے خط کے الفاظ اونچا پڑھنا شروع کر دئیے ۔۔۔

“Your son is a genius. This school is too small for him and doesn’t have good enough teachers to train him. Please teach him yourself.”
(آپکا بچہ بہت ذہین ہے اور یہ سکول اسکے معیار کا نہیں اور نہ ہی ہمارے ٹیچر اس معیار کے تربیت یافتہ ہیں اسلیے اسکو خود پڑھائیں )

کافی عرصہ بعد تھامس ایڈیسن کی ماں فوت ہو گئ اور وہ لڑکا اس صدی کا عظیم سائنسدان بن کر بیٹری بلب ایجاد کر چکا تھا۔۔۔۔

ایک دن اس نے ماں کی الماری کھولی اور ماں کو یاد کرنے لگا تو اسکی نظر ایک فولڈ کیے گے کاغذ پر پڑی ‘ اس نے اسکو کھولا اور پڑھا تو حیرت سے ہکا بکا رہ گیا ‘ دراصل یہ وہ خط تھا جو سکول نے اسکی ماں کو لکھا تھا جسپر درج تھا کہ

“Your son is Mentally Deficient. We cannot let him attend our school anymore. He is Expelled.”
(آپکا بیٹا ذہنی طور پر انتہائی کمزور ہے ‘ ہم اسکو مزید میں مزید برداشت نہیں کر سکتے اسلیے اسکو خارج کیا جاتا ہے )

عظیم سائنسدان یہ خط پڑھ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا اور پھر اس نے خط کے پیچھے ایک نوٹ لکھ دیا

"Thomas A. Edison was a mentally deficient child whose mother turned him into the genius of the century.”
(تھامس ایڈیسن ذہنی طور پر بہت کمزور بچہ تھا جسے اسکی ماں نے صدی کا سب سے ذہین انسان بنادیا)

یاد رکھیں ۔والدین کی محنت و توجہ ہی بہترین تعلیم و تربیت کا ذریعہ ہے ۔ اچھے سکولز اور استاد اسکی مدد اور تعاون ضرور کر سکتے ہیں مگر وہ کبھی گھر اور والدین کا نعم البدل نہیں ہو سکتے ۔ اسلیے اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کی زمہ داری خود نبھائیں ‘ سکولز اور ٹیچرز کو معاون سمجھیں اصل زمہ دار نہیں۔شکریہ
(محمد عاطف اعوان)

دوستوں سے شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں