سائیکل کے پنکچر لگا کر گزارہ کرنے والے معروف شاعر قمر جلالوی

تحریر : اسلم ملک

سارا دن سائیکلوں کو پنکچر لگاتے، درمیان میں کوئی شعر ہوجاتا تو کاغذ پر لکھ کر دیوار پر لگے سائیکل ہی کے تار میں پرو دیتے۔
شام ہوتے ہی اصلاح لینے والے شاگرد جمع ہوجاتے یا کسی مشاعرے کے منتظمین کی بھیجی گاڑی آجاتی اور سب مشاعرے کو چل دیتے۔ مخصوص ترنم اور سلاستِ زبان کی حامل شاعری سے مشاعرے لوٹ لیتے۔
یہ تھے استاد قمر جلالوی… اصل نام محممد حسین عابدی تھا، 1887 میں ضلع علی گڑھ کے قصبے جلالی میں پیدا ہوئے ۔ والد سید غلام سجاد حسین بھی شعر کہتے تھے۔ اس اثر سے محمد حسین آٹھ سال کی عمر سے ہی شعر کہنے لگے۔ عربی، فارسی، اردو کی تعلیم گھر پر ہی حاصل کی۔ جوانی میں امیر مینائی سے اصلاح لی۔22 سال کی عمر میں خود اصلاح دینے لگے۔ اس طرح ساری عمر استاد کہلائے۔
آزادی کے بعد کراچی آئے تو ذریعہ روزگار وہی سائیکلوں کی دکان اور مشاعروں کا اعزازیہ بنا۔ حکومتِ پاکستان کی طرف سے 1959 میں ڈیڑھ سو روپے وظیفہ مقرر ہوا جو
تا حیات ملتا رہا۔ البتہ منی بیگم نے ان کے کلام سے لاکھوں کمائے ۔

استاد کے مجموعے غمِ جاوداں، اوجِ قمر، اشکِ قمر اور عقیدتِ جاوداں شائع ہوئے ۔
24 اکتوبر1968 کو 81 سال کی عمر میں کراچی میں وفات پائی۔اس طرح آج ان کی 51 ویں برسی ہے.

لوحِ مزار پر ان کا اپنا یہ شعر درج ہے

ابھی باقی ہیں پتوں پر جلے تنکوں کی تحریریں
یہ وہ تاریخ ہے، بجلی گری تھی جب گلستاں پر

استاد کے چند اشعار

آشیانے کا بتائیں کیا پتہ خانہ بدوش
چار تنکے رکھہ لئے جس شاخ پر گھر ہوگیا

سنے جائو جہاں تک سن سکو جب نیند آئے گی
وہیں ہم چھوڑ دیں گے، ختم فسانہ تو کیا ہوگا

کب میرا نشیمن اہل چمن گلشن میں گوارا کرتے ہیں
غنچے اپنی آوازوں میں بجلی کو پکارا کرتے ہیں

اب نزع کا عالم ہےمجھہ پر تم اپنی محبت واپس لو
جب کشتی ڈوبنے لگتی ہےتو بوجھہ اتارا کرتے ہیں

مجھے اپنے دل کی تو پروا نہیں ہے
مگر ڈر رہا ہوں کہ بچپن کی ضد ہے

بوسۂ خال کی قیمت مِری جاں ٹھہری ہے
چیز کتنی سی ہے اور کِتنی گراں ٹھہری ہے

مجھے حشر میں پیش داور جو دیکھا
ذرا سی نکل آئی صورت کسی کی

خدا کے لئے یوں نہ ٹھکرا کے چلئے
کہ پامال ہوتی ہے تربت کسی کی

دعا بہار کی مانگی تو اتنے پھول کھلے
کہیں جگہ نہ رہی میرے آشیانے کو

اب آگے اس میں تمہارا بھی نام آئے گا
جو حکم ہوتو یہیں روک دیں فسانے کو

وہ سر کھولے ہماری لاش پر دیوانہ وار آئے
اِسی کو موت کہتے ہیں تو یارب باربار آئے

نہ جانے کیا سمجھہ کر چُپ ہوں اے صیّاد میں ورنہ
وہ قیدی ہوں اگر چاہوں قفس میں بھی بہار آئے

پیش آئے لاکھ رنج اگر اِک خوشی ہوئی
پروردگار، یہ بھی کوئی زندگی ہوئی

باغباں کو لہو کی ضرورت پڑی سب سے پہلے یہ گردن ہماری کٹی
پھر بھی کہتے ہیں ہم سے یہ اہلِ چمن یہ چمن ہے ہمارا تمہارا نہیں

دوستوں سے شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں