تحریر : ضیغم قدیر

رواں سال جنوری کی بات ہے جب سائنسدانوں نے اعلان کیا تھا کہ چاند ایک بار پھر بنجر ہو گیا ہے کیونکہ چاند پہ اُگنے والا کپاس کا پودا چاند کی برفیلی رات کو برداشت نا کرتے ہوئے مرجھا گیا ہے۔ چین کی طرف سے بھیجنے جانے والے chag’e 4 نامی مشن میں زمین سے چاند پہ آلو، کپاس اور Arabidopsis کے بیج اور فروٹ فلائی اور یسیٹ کے انڈے بھیجے گئے تھے۔

چینی سپیس ایجنسی کی رپورٹ کیمطابق کپاس کے بیج چاند کی تلخ فضاء پہ اگنے میں کامیاب ہو گئے تھے لیکن چاند کی رات جو کہ -52 ڈگری درجہ حرارت کی ہوتی ہے اُس کو برداشت نہیں کر سکے تھے۔

یہاں یہ بات جاننا ضروری ہے کہ چاند اپنا ایک چکر 27 دن میں مکمل کرتا ہے اس لئے وہاں دن اور رات کا دورانیہ دو دو ہفتے ہوتا ہے۔ اسی لئے دن کے وقت تو وہ پودے دو ہفتوں کے لئے چاند کی زمین پہ اگے رہے لیکن جونہی رات آئی تو وہ فنا ہو گئے۔

باقی پودوں کا کیا بنا اس بارے چینی حکومت نے نہیں بتایا۔ لیکن چاند پر اُگنے والا پہلا زمینی پودا کپاس بن گیا ہے۔ جبکہ اس سے پہلے خلاء میں بھی پودے اُگانے کے کامیاب تجربے ہو چُکے ہیں۔

اس کے علاوہ چین Chang’e 5 نامی مشن بھی بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے جو چاند پر ایسے اگنے نمونوں کو واپس زمین پر بھی لانے کی صلاحیت رکھے گا۔

اس تجربے کا کیا فائدہ ہوا؟

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اس تجربے کے نتیجے میں ہم یہ پتا لگانے میں کامیاب ہو جائیں گے کہ دوسرے سیاروں پہ زمینی پودے یا مخلوقات کس طرح بڑھوتری کرتی ہیں۔

یاد رہے مریخ آج سے ارب سال پہلے پانی رکھتا تھا۔ اور جہاں پانی ہے وہاں زندگی ہونے کا خدشہ بھی، سو ان تجربات کے نتیجے میں ہم ایسا ماحولیاتی سسٹم بنانے میں بھی کامیاب ہو سکتے ہیں جو مختلف سیاروں پہ جانے والے خلا بازوں کو نا صرف خوراک دے سکے بلکہ متوقع "میوٹیشنز” کے نتیجے میں ایسے کیمیائی مادے بھی بنا سکتا ہے جو بہت سی انسانی بیماریوں کا متوقع علاج ہو سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ چاند پر ہم مستقبل میں ایک ایسا سولر پینل سسٹم بنانے کا بھی پلان رکھتے ہیں جو زمین کو بجلی فراہم کر سکے۔ اور اس کے علاوہ چاند ہی پر ہم اپنا خلائی مشن سٹیشن بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں جہاں سے پوری کائنات میں انسانی مشن بھیجے جائیں گے۔
اسکے علاوہ چاند پر کثیر مقدار میں موجود یورینیم کی زمین پر ترسیل ہمیں سستی نیوکلئیر انرجی بھی فراہم کر سکتی ہے۔ جس کے نتیجے میں زمین پہ انرجی کے بحران سے با آسانی نمٹا جا سکتا ہے۔ اس لئے چاند پر ایسے مشنز بھیجنا بے حد ضروری ہے۔

دوستوں سے شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں