ضیغم قدیر

مارکیٹنگ کے اس دور میں اگر کوئی آپکو کہے کہ آپ نے ایک نئی کمپنی کھولنی ہے اور آٹھ سال کے قلیل عرصے میں اپنی اس کمپنی کو بنا کسی بڑی مارکیٹنگ کیئے آپ نے دنیا کی ٹاپ پانچ موبائل ساز کمپنيوں میں لانا ہے تو آپکا جواب کیا ہوگا؟

تقریباً ننانوے فیصد لوگ کہیں گے کہ ایسا ناممکن ہے اور جو ایک فیصد لوگ حامی بھریں گے وہ صرف یہ سن کر فیصلہ بدل لیں گے کہ آپکے مقابلے میں ایپل اور سام سنگ جیسے ٹائیکون ہوں گے۔

مگر شاؤمی چائنہ نے نا صرف یہ چیلنج قبول کیا بلکہ 8 سال کے قلیل عرصے میں دنیا کی چوتھی بڑی ٹیلی کام کمپنی بننے میں کامیاب رہی،وہ بھی کسی ایڈورٹائزمنٹ کے بغیر۔

شاؤمی کا اصل مقابلہ ایپل کیساتھ ہے کیونکہ یہ انہی کا ڈیزائن چرا کر انہی سے زیادہ فون گوگل انڈرائیڈ کیساتھ مل کر بنا رہا ہے اور انکی قیمت بھی انتہائی مناسب رکھتی ہے جسکی وجہ سے زیادہ گاہک انکے پراڈکٹ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور انکی فروخت زیادہ ہوتی ہے

جہاں اوپو اور سام سنگ اپنے پراڈکٹ کی کم سپیسفکیشن دیتے ہیں وہیں وہ بجٹ کا ایک بڑا حصہ اپنے پراڈکٹ کی ایڈورٹائزمنٹ میں لگا دیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ انکے پراڈکٹ مہنگے اور کوالٹی (سافٹ وئیر اور ہارڈوئیر کوالٹی) اتنی خاص نہیں ہوتی۔جبکہ ان سب کے مقابلے میں شاؤمی کا بنیادی مقصد ہی یہ ہے کہ آپ نے اپنے پراڈکٹ کی کوالٹی بڑھانی ہے نا کہ پہنچ،اور بعد میں یہی کوالٹی آپکو نئے کسٹمر لاکر دے گی۔اب اگر آپ ایک پچس ہزار کے سام سنگ،اوپو اور شاؤمی کے فون کا تقابل کریں گے تو آپکو پتا چلے گا کہ جہاں اوپو اور سام سنگ سالوں پرانی چپ سنیپ ڈریگن 400 سیريز دے رہے ہیں وہیں شاؤمی اتنی قیمت میں جدید چپ 660 فراہم کررہی ہے جسکا فرق آپ تھری ڈی گرافک کوالٹی اور ملٹی ٹاسکنگ، گیمنگ وغیرہ میں دیکھ سکتے ہیں۔

شاؤمی نے لانچ کے بعد اپنا ٹارگٹ آن لائن فروخت رکھا تھا اور بعد میں اپنے سٹور بنانے بھی شروع کردیئے اسوقت دنیا کے کئی ممالک میں انکے سٹور موجود ہیں اور شاؤمی اسوقت انڈیا کا سب سے بڑا موبائل سیلنگ برانڈ بن چکا ہے جبکہ چائنا ميں بھی یہ ٹاپ پہ ہے۔

جہاں 2018 میں تمام موبائل برانڈز کی فروخت کم ہوئی وہیں شاؤمی کی فروخت میں 80% اضافہ ہوا۔او یہ سب کوالٹی کی ہی وجہ سے ممکن ہے

شاؤمی کی کہانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ مارکیٹ چاہے کتنی ہی ٹف کیوں نا ہو اگر آپ مقدار پر میعار کو ترجیح دیں گے تو آپ آگے ضرور بڑھیں گے اور کاروبار میں سب سے اہم کام نئے کسٹمر کھینچنا نہیں بلکہ پرانے کسٹمر کا اعتماد جیت کر انہی کے ذریعے بنا ایڈورٹائزمنٹ کیئے نئے کسٹمر کھینچنا ہے۔اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ کے پراڈکٹ کا مارکیٹ میں منفرد ہونا ضروری نہیں بلکہ کوالٹی کا حامل ہونا ضروری ہے۔

دوستوں سے شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں