ایلین

تحریر : ضیغم قدیر

آپ کو ایک ایلین ملتا ہے اور آپ اٌسوقت نظر کا چشمہ لگاۓ کھڑے ہیں تو ایسے میں وہ ایلین یہی سمجھے گا کہ یہ جو آپ نے عینک لگا رکھی ہے یہ آپکے جسم کی ایک ایکسٹنشن ہے جبکہ ہم سب جانتے ہیں کہ حقیقت یہ نہیں۔

کسی نئے علاقے میں جانیوالے اجنبی یا ایلین کے لیۓ سب سے مشکل کام اس علاقے کے لوگوں اور انکی تخلیق کردہ یا بنائی ہوئی اشیا میں باہمی فرق تلاش کرنا ہوتا ہے۔

سپیس ایکسپلوریشن میں سب سے بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ہم خلا میں کسی نئی مخلوق کو ملیں گے تو آیا وہ مخلوق خود ہوگی یا انکا تخلیق کردہ کوئی روبوٹ ہوگا؟

یہ بہت پیچیدہ سوال ہے۔کیونکہ زندگی صرف فاسفورس بیسڈ ڈی این اے ماڈل پہ ہی نہیں ہوسکتی بلکہ آرسینک بیسڈ ڈی این اے،امونیا اور کاربن ماڈل پہ بھی منحصر ہوسکتی ہے (ہائیپو تھیٹیکل ازمپشن) تو ان تمام مخلوقات کی اشکال مختلف ہو سکتی ہیں۔ ایسے میں ہم کسی ایلین کو دیکھیں گے تو ہمارے لیۓ سب سے مشکل کام یہ جاننا ہوگا کہ آیا یہ واقعی ایلین ہے یا پھر ایلینز کا کوئی ربوٹ ہے۔

اور ایسا ہم اسکو چیر پھاڑ کر ہی جان سکیں گے اور کیا وہ ہمیں ایسا کرنے دے گا یا کیا ہم ایسا کر پائیں گے یہ بھی ایک الگ سوال ہے۔

اسکے علاوہ ہم ملکی وے کہکشاں کے سنٹر سے کافی دور رہ رہے ہیں جبکہ اصل رنگینیاں ملکی وے کے سنٹر میں یا اسکے قریب ہیں۔شائد یہی وہ کئی وجہوں میں سے ایک وجہ ہے جسکی وجہ سے ہم کوئی ذہین ایلین مخلوق نہیں ڈھونڈ پاۓ، کہ ہم باقی سیاروں سے اتنی دور اس سولر سسٹم نامی اجاڑ میں رہ رہے ہیں۔ جسکا قریبی بیرونی سیارہ جاتی نظام بھی چار اعشاریہ تین نوری سال کے فاصلے پہ ہے۔

جبکہ نیچے موجود تصویر زحل کے چاند ٹائیٹن پہ موجود امونیا کے سمندر کی ہے ۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ یہ چاند ایلین لائف رکھ سکتا ہے کیونکہ اس چاند پہ امونیا مائع کی شکل میں موجود ہے اور امونیا بیسڈ زندگی کے ماڈل کے یہاں موجود ہونے کے بارے گمان کیا جا رہا ہے۔ یاد رہے یہ گمان زندگی بارے ہے، ذہین زندگی کے بارے میں نہیں ہے۔ ذہین زندگی کو وجود میں آنے کے لئے اربوں سال اور سازگار ماحول درکار ہوتا ہے۔

اسی موضوع پہ ایک فلم ٹائیٹن ہے وہ ضرور دیکھئے گا۔

دوستوں سے شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں