تحریر : ضیغم قدیر

یہ دوائی جس کا نام Zantac ہے اور اس کے فارمولا والی دوسری ادویات جن کے نیچے بریکٹس میں Ranitidine لکھا ہوتا ہے کینسر کا مؤجب ہیں۔ ان دوائیوں کے اندر ndma (nitrosodimethylamine) نامی کینسر پھیلانے والا عنصر موجود ہے جو کہ نظام انہضام کا کینسر جیسا کہ پینکریاز (لبلبہ) کا کینسر پیدا کر سکتا ہے۔

زینٹیک کے بارے میں ایف ڈی اے نے ایک سٹیٹمنٹ جاری کی ہے کہ اس میں ایک جزو ہے جو ممکنہ کارسنوجن ہے (یہ جزو عام خوراک میں بھی پایا جاتا ہے)۔ امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایسوسی ایشن اس پر تحقیق کرے گی کہ کیا اس کا لیول سیف سطح سے زیادہ تو نہیں۔ اس دوا کا لینا منع بھی نہیں کیا گیا۔ (جن میں یہ خطرہ ہونے کا امکان زیادہ ہو، ان پر پابندی لگا دی جاتی ہے)۔

خوف بیچا اور خریدا جاتا ہے۔ یہ خبر بھی بازار میں بِک گئی۔ لیکن زینٹیک کی خبر یہ بتاتی ہے کہ کسی بھی ممکنہ مضر جزو کی کس قدر احتیاط سے چھان بین کی جاتی ہے اور یہ آسان کام نہیں۔

اس دوائی پہ امریکہ کی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے کل کی حفاظتی وارننگ لگا دی ہے۔ لہذا آپ بھی احتیاط کریں۔

اور جو لوگ اس دوائی کو پہلے سےاستعمال کر رہے ہیں وہ اس بات پہ پریشان مت ہوں کیونکہ کم مقدار کینسر نہیں پیدا کر سکتی بہت زیادہ مقدار یا عرصے تک لی گئی یہ دوائی کینسر کا باعث بن سکتی ہے یاد رہے این ڈی ایم اے خوراک میں بھی ہوتا ہے لیکن خوراک میں اسکی مقدار کم ہوتی ہے۔ لہذا ذہنی پریشانی مت لیں بس اس دوائی کو لینا بند کریں، دوائی بدلیں اور غذا میں پرہیز اختیار کر کے اپنے معدے کو درست کریں۔

شئیر ضرور کریں۔

دوستوں سے شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں