جب دنیا میں نعمتیں تقسیم ہو رہی تھیں تو طے ہوا کہ ہر نعمت کے ساتھ ایک عذاب دیا جائے گا۔ اور ہر محرومی کے ساتھ ایک سہولت ملے گی۔

چنانچہ جب انتخاب کا مرحلہ آیا تو دنیا کہ کچھ نا عاقبت اندیش عقل مندوں نے پیش کردہ نعمتوں میں سے ایک نعمت ’ آگہی‘ وصول کر لی۔

جب کہ باقیوں نے اس سے منہ موڑنا مناسب سمجھا۔ جنہوں نے منہ موڑا وہ آج راحت میں ہیں۔ انہیں ہر معمولی سی چیز پر ذہنی آسودگی میسر آ جاتی ہے جب کہ عقل مند آگہی کا عذاب سہتے ہیں۔

معلوم ہے کہ یہ عذاب کیسا ہوتا ہے؟ اک میٹھا میٹھا سا مستقل درد جس سے عشق ہو جاتا ہے۔ پھر انسان ایک سوال یا ایک جواب پر نہیں رکتا، بلکہ انسان بے اختیار ہو کر جانتا چلا جاتا ہے۔

مگر جاننے کے اس عمل کے ہر مرحلے کے ساتھ ایک نئی اذیت انسانی روح میں گھر کر لیتی ہے۔ یہ ایسی اذیت ہوتی ہے جس کا کوئی سر پیر نہیں ہوتا۔ بعض دفعہ تو اس کی کوئی طبعی وجہ بھی نہیں ہوتی۔ درد جھیلنے والے کو معلوم نہیں پڑتا کہ درد کہاں سے شروع ہوا اور اسکا آخری سرا کہاں ہے؟

بس یہ اذیت ہماری روح کو بوڑھا کر دیتی ہے۔

دوستوں سے شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں