تحریر: محمود ایاز
تاریخ : 8 نومبر 2016

ہمارا عمر بھر کا ساتھ ٹھیرا
سو میرے ساتھ تُو دن بھر نہ رہیو

رابرٹ فراسٹ نے کہا تھا کہ شاعری وہ ہے جو الفاظ میں منتقل ہونے سے رہ جائے! جونؔ کے ایسے درجنوں اشعار ہیں جو اکثر میرے کمرے کی دیواروں پر چپکے رہتے ہیں، میرے بدن سے لپٹے رہتے ہیں، ایسے اشعار جو کبھی الفاظ میں منتقل نہیں ہوئے مگر اپنے اندر عجیب سی پراسرایت لیے ہمیشہ میرے اندر قطار در قطار تو کبھی دائرہ وار، بدحواس تو کبھی سرشار۔۔۔ بدکتے رہتے ہیں، بلکتے اور جلتے رہتے ہیں۔

یہاں معنی کا بے صورت صلہ نئیں
عجب کچھ میں نے سوچا ہے لکھا نئیں

اورآج تو ستم یہ ہےکہ شام سے میرے کمرے میں جونؔ کے ایسے سینکڑوں اشعار کی بھیڑ لگی ہے۔ کہیں یہ سیال کی طرح دیوار سے ٹپک رہے ہیں توکہیں الماری میں رکھی کتابوں پر رینگ رہے ہیں۔ اور کچھ تو میرے سامنے جون ؔایلیا کی تجسیم و تخلیق کیے کہتے ہیں۔۔۔
جانی! آج میری برسی ہے اور کیا دیکھتا ہوں کہ شہر کا ہر لونڈا میرے اشعار سے کھیلتا دکھائی دیتا ہے قطع نظر اس کہ وہ شعر فہم ہے یا نہیں۔

گراں ہے اب یہاں جنسِ گماں بھی
وہ افلاسِ یقیں ہے، جانے کیا ہو

جانی! میں نہ کہتا تھا کہ ہمارا عمر بھر کا ساتھ ٹھہرا ہے۔۔۔ یعنی یہ کہ تمہارا انسان سے رشتہ عمر بھر کا ہے، تم اُس کے لیے مر سکتے ہو، کٹ سکتے ہو مگر کسی انسان کے ساتھ دن بھر نہیں رہ سکتے۔ کیونکہ وہ تمہاری آزادی میں مخل ہونے لگتا ہے اور تمہارے نفس پر غالب آنے لگتا ہے۔ سو تمہیں اُس سے نفرت ہونے لگتی ہے۔

اور جانی! جو نفس میں اتر گیا پھر اُسے کتابوں کے علم اور جملوں کی ضرورت نہیں رہتی۔۔۔۔۔

آج وہ پڑھ لیا گیا جس کو پڑھا نہ جا سکا
آج کسی کتاب میں کچھ بھی لکھا ہوا نہیں

جانی! کلام مت کرو۔۔۔ کلام وہ بستی ہے جہاں کوئی آباد ہو گیا تو اپنے سامنے بے نقاب ہو گیااور اپنے سامنے بے نقاب ہونا بہت ہی گھٹیا فعل ہے۔سو خاموش رہو۔۔ بولنے کی نیت سے خاموش رہو۔۔

نطق حیوان پر گراں ہے ابھی
گفتگو کم سے کم کیا کیجئے

جانی! اُمید کسی چیز کے امکان کی خواہش میں الجھنے کا نام ہے سو آدمی امکان کی خواہش میں الجھا ہوا ہے اور نہیں جانتا کے اُس کے پار کیا ہے۔

ہم ہیں مصروفِ انتظام مگر
جانے کیا انتظام کر رہے ہیں

جانی یہ کائنات، تیرے ہونے کا دھوکہ ہے۔۔۔ یہاں تیری حقیقت محض ایک فریب ہے سو کبھی ہونے کی اداکاری سے باہر نکل اور دیکھ کہ تو صرف خود ہی کا ایک مفروضہ ہے۔

کبھی خود سے مکر جانے میں کیا ہے
میں دستاویز پر لکھا ہوا نئیں

جانی! آج میں بہت اُداس ہوں اور کیا بتاؤں کہ پورے قبرستان میں واحد کتبے دار قبر میری ہے جس پر لکھا ہے۔۔۔

جونؔ! لوح و قلم کے مالک نے
دوسروں کا لکھا ہوا بھیجا۔۔!

جونؔ ایلیا کے ایسے درجنوں اشعار ہیں جو میرے ذہن و دل پر کچوکے لگا رہے ہیں اور ان سے بچ نکلنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی ۔۔۔ سونے کی کوشش کرتا ہوں تو ایک شعر کسی کونے سے نکلتا ہے اور کہتا ہے

تو کیا اب نیند بھی آنے لگی ہے؟
تو بستر کیوں بچھایا جا رہا ہے؟

اب ایسی صورت میں بجز اس کے کوئی راستہ نظر نہیں آتا کہ میں انہی اشعار میں ضم ہو کر رہ جاؤں۔ اور اپنے نہ ہونے کا جشن مناؤں کہ اس پار بھی میں ہوں اور اُس پار بھی میں ہی ہوں۔۔۔ میں جو کہیں نہیں ہوں!

دو جہاں سے گزر گیا پھر بھی
میں رہا خود کو عمر بھر درپیش

دوستوں سے شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں