آج حرم مکہ میں سوشل ڈسٹنگ کے ساتھ طواف کیا گیا۔

حج سے پہلے تمام حجاج کو کرونا ٹیسٹ کے بعد 14 دن قرنظینہ میں رہنا پڑا اور حج کی تکمیل کے بعد بھی اتنے ہی دن قرنظینہ میں رہنا ہوگا۔

شوگر، ہائی بلڈ پریشر اور دل کے مریضوں کو حج کی اجازت نہیں دی گی۔

اس مرتبہ حجاج منیٰ کے خیموں کی بجائے اپارٹمنٹ میں ٹھہرے ہیں جہاں تمام حفاطتی اقدامات کئے گئے ہیں۔

بلاشبہ موجودہ دور میں وباء سے نمٹنے کے لئے سعودی حکومت کے اقدامات بہترین رہے اور انکے علماء کا کردار بھی مستقبل میں ایک مثال رہے گا۔

یہ مناظر بطور مسلمان تکلیف دہ ہیں لیکن انشاءاللہ یہ دور گزر جائے گا اور اللہ کا گھر سب مسلمانوں کے لئے کھل جائے گا۔

یہاں کلک کر کے شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں