خدا کا تصور

خدا کا تصور

تحریر شاد مردانوی

خدا کا تصور

ہمارے لیے شعور کی عمر تک پہنچنے کے بعد چند استثنائی مثالوں کے سوا خدا خالق کائنات ، قادر مطلق ، دھندلا سا رحیم اور کڑی نظر رکھنے والا قہار و جبار ہوتا ہے جس سے اپنی ضروریات کے سلسلے میں لباس اور بدن کی صفائی کے بعد ایک مخصوص طریقے سے ٹوپی پہن ، وضو بناکر مسجد میں یا مصلے پر بیٹھ کر دعائیں مانگی جائیں تو کبھی قبول کرتا ہے کبھی نہیں کرتا ۔

اس قسم کے خدا سے آپ کا بڑا محدود رشتہ ہوتا ہے اگر عبادت کروگے تو خوش ہوگا اگر نہیں کروگے تو مرنے کے بعد قبر میں بچھو کھائیں گے اور دنیا میں رزق کی تنگی میں مبتلا کیے جاؤگے ستم کی بات یہ ہے کہ دعا مانگو گے تو مرضی اس کی ہے قبول کرلی تو شکر کرنا نہ قبول کی تو صبر کرنا ہمیں سکھایا جاتا ہے ۔۔

نسلی مسلمانوں کی طرح میں بھی ایسے ہی خدا کا پجاری تھا میرے آباء و اجداد نے اسی خدا کو پوجا تھا اور مجھے تلقین کی گئی تھی کہ خدا کے سامنے ایسے ہی چون چاں کئے بغیر مؤدب رہنا ہے اگر تم نے ڈگر چھوڑی تو ممکن ہے زمین پھٹ جائے یا تم بندر بنادئے جاؤ یا تم پر کوئی بڑی مصیبت آجائے ۔

ایک بھرپور زندگی گزاری ہے میں نے ، تقوے کے ہیضے ، بخار ، کھانسی بلکہ کینسر کا زمانہ بھی گزارا ہے اور رندی کی بھی چاروں حدیں دیکھ آیا ہوں خدا کے بارے غلط فہمی پر مبنی یہ تصور تھا کہ کئی بار گناہ کرنے کے بعد اس ڈر سے آئینہ نہیں دیکھتا تھا کہ میری شکل مسخ نہ ہوگئی ہو ۔

عجیب گھٹن کی زندگی بن جاتی ہے اگر خدا کو فقط معبود ، آمر اور ناہی تسلیم کیا جائے ایسے خدا سے نہ دل کی بات کہی جاسکتی ہے نہ ہی اس کو چائے پر بٹھاکر کسی کی غیبت کی جاسکتی ہے نہ اس سے جھگڑا کیا جاسکتا ہے حد تو یہ ہے کہ جب آپ کو اس کی ضرورت نہ رہے تو اس کو چھوڑ کر بھی نہیں جاسکتے ۔

ہر گھڑی آپ اس کی نظروں میں اچھا بنے رہنے کیلیے برے کام تو کجا بری سوچ سے بھی گریز پر مجبور رہتے ہیں دل و دماغ میں ایک غیر فطری معرکہ بپا رہتا ہے ایک انسان انسان ہوتے ہوئے بھی فرشتہ بننے کی مضحکہ خیز کوشش میں خدا کو تو خوش نہیں کرپاتا اپنی زندگی لیکن جہنم بنادیتا ہے ۔۔

خدا کو بندر تماشا پسند نہیں ہم اس کو بندر کی طرح ڈگڈگی پر ناچ کر خوش کرنے کی کوشش کرتے ہیں اذان سننے پر مسجد جاتے ہیں اور سال پورا ہونے پر زکوۃ ادا کرتے ہیں ۔۔۔۔

عین جوانی میں کچھ سانحات ہوئے ، کچھ تجربات ایسے ہوئے اور کچھ محسن کتابیں ایسی پڑھنا نصیب ہوئیں کہ لا الہ کا سفر خود چل کر کرنا پڑا کل یوم ھو فی شان والا خدا تلقین کردہ تصور خدا میں بڑا جامد خدا ٹھہرتا تھا جو اس خدا سے میل نہ کھاتا تھا جیسا ایک خدا کو ہونا چاہیے تھا حبل الورید سے قریب تر خدا پائنچے نیچے ہونے پر آگ میں جلائے گا یہ میرے عقل میں سماتا نہ تھا ۔۔۔

میں اسی روش پر چلا جو میرے دل کی آواز تھی جو میرے دماغ کا نتیجہ تھا خدا کی عظمت دل سے نکلی یہ پہلا مقیم تھا جو دل سے بتائے بغیر رخصت ہوا پھر تو دل کے نگار خانے سے ایک ایک کرکے ہر وہ احساس رخصت ہوتا چلا گیا جو خدائے معبود کے ہونے سے موجود تھا نہ خوف خدا رہا نہ اس کو منانے کی فکر ۔۔۔۔

میں بہت وادیوں میں پھرا میں نے کئی دریاؤں کا پانی پیا عقیدے کی سطح پر کئی سادہ اور پیچیدہ مقدمات باندھ کر توڑنے سے گزرا لامذہب دوستوں سے بہت لجاجت کے ساتھ درخواست کی کہ عدمیت خدا پر قائل کردو میں منصفانہ طور پر تم میں سے ایک ہوجاؤں گا ۔۔۔

پھر وہ مجلس بھی ملی جہاں اپنی زندگی کے پینتیس سال مذہب کی مختلف فرنچائز میں سی ای او کے عہدے پر رہنے والا ، لیکن عقیدے کے اعتبار سے لامذہب شخص اور عصری علوم میں مہارت رکھنے والا ، فزکس کا راہ نورد میرے سامنے خدا کے تمسخر سے خدا کی عدمیت پر گھنٹوں بات کرتے رہے میں بس سنتا رہا تھا ۔

جب میں اس مجلس سے اٹھا تو میں خدا کو اپنی پوری قوتِ تسلیم کے ساتھ تسلیم کرچکا تھا
میں نے ان سے کہا تم لوگوں کے اندر کہیں خدا موجود ہے اور تم لوگ ڈرتے ہو اس کے وجود سے ۔۔۔بالکل ان بچوں کی طرح جو اندھیرے سنسان گلی سے گزرتے ہوئے ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ ڈرو مت جنات نہیں ہوتے ۔۔۔۔۔

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں