کفارہ

کفارہ

مصنف:- اویس علی

عشق کا کفارہ

کفارہ

آج بیت بازی کا مقابلہ ہو گا حیا اور فریحہ کے درمیان ۔

تو سب سے پہلا شعر میں  دوں گی پھر حیا کی باری۔

سیکنڈ ائیر کی اردو کی کلاس میں یہ ان کا روزانہ کا معمول تھا۔

پروفیسر کے آنے تک روزانہ دس منٹ کا بیت بازی مقابلہ ہوتا تھا جس کو ہمیشہ کلاس لیڈر امامہ حیدر لیڈ کرتی تھی۔

تو صاحبان 'قدردان عرض کیا ہے

" ابھی سے ہوش اڑے مصلحت پسندوں کے،

ابھی میں بزم میں آیا، ابھی بولا، کہاں بولا؟ "

"واااہ واااہ کیا کہنے "

داد کا ایک بےہنگم شور پوری کلاس سے ابھرا۔

"تو حیا سلیمان تمھارے لئے لفظ ہے  "الف"

"اے  نزاکت  ترے  قربان  کے وقت  رخصت

وہ کہیں ہم سے تو گھر تک نہیں جایا جاتا "

ہائے قربان جاؤں اس نزاکت کے"

کلاس کے کونے سے ایک بےساختہ فقرہ کسا گیا۔

حیا سلیمان شرماتی ہوئی اپنی نشست پہ دوبارہ بیٹھ گئی

"نہیں جایا جاتا"

'الف'

"اصرار تھا انہیں کہ بھلا دیجیے ظفر

ہم نے بھلا دیا تو وہ اس پر بھی خوش نہیں"

ہائےےے ہائے کیا ستم ظریفی ہے

ایک اور برجستہ جملے نے فریحہ کو پیچھے مڑ کر دیکھنے پر مجبور کر دیا۔

"اس پر بھی خوش نہیں "

'ن'

"ناحق ہم مجبوروں  پر یہ  تہمت ہے  مختاری کی

چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا "

حیا سلیمان کے شعر پہ ابھی داد کے لئے منہ کھلے ہی تھے کہ پروفیسر صائمہ کلاس روم میں داخل ہوئیں ۔

سب لڑکیاں جلدی سے اپنی اپنی نشست پہ براجمان ہو گئیں ۔

"اگر آپ کی شعر و شاعری ختم ہو گئی ہو تو ہم کلاس کا آغاز کریں ؟

ہمارا آج کا موضوع ہے "مرزا غالب کے خطوط "

--------

حیا سلیمان کے لئے کالج میں گزارے ہوئے چند گھنٹے ہی راحت کا سبب ہوتے تھے۔گھر پہنچتے ہی اسے اماں ابا کی معمول کی لڑائی دیکھنے کو ملتی جس کا آغاز ہمیشہ ابا کے مخصوص طعنے سے ہوتا" ارے نگوڑی اگر ایک لڑکا پیدا کر لیا ہوتا تو آج اس عمر میں بھی مجھے دوکان پہ دھکے نہ کھانے پڑتے۔یہ لڑکیوں کی فوج کو میرے سر پر سوار کر دیا"

حیا سلیمان اپنے ابا کے ایسے کڑوے کسیلے جملے سننے کی عادی ہو چکی تھی اور اس کی اماں بس ایک ٹھنڈی آہ بھر کر رہ جاتی۔

-----

حیا کا تعلق لاہور کے اندرون شہر سے تھا۔جہاں اس کے ابا کی آبائی حلوائی کی دوکان تھی جو کہ وقت کے ساتھ تبدیل ہو کر سلیمان سوئیٹس اینڈ بیکرز" بن چکی تھی۔

حیا کی چار بہنیں تھیں اور وہ سبھی بالترتیب آٹھویں 'ساتویں 'چھٹی اور پانچویں جماعت میں پڑھتی تھیں ۔

حیا نے اپنی اٹھارہ سالہ زندگی میں اماں ابا کو ہر وقت لڑتے جھگڑتے ہی دیکھا تھا ۔ ابا نے کبھی اسے یا اس کی چھوٹی بہنوں سے لاڈ پیار نہیں کیا تھا۔

اس نے ہمیشہ اماں کو گھر کے کاموں میں کولہو کے بیل کی مانند جتے دیکھا تھا اور شام کو ابا کے آنے کے بعد ان سے ڈانٹ اور مار کھاتے ہوئے۔

حیا کو یقین تھا کہ جب اس کی شادی ہو گی تو اس کا شوہر بھی اسے ایسے ہی مارا پیٹا کرے گا اسی لئے وہ شادی کے نام سے ہی سہم جایا کرتی تھی۔

حیا کا معمول تھا کہ کالج سے آنے کے بعد اماں کے ساتھ گھر کے کچھ کام نمٹانے کے بعد محلے کے بچوں کو ٹیوشن پڑھاتی اور پھر رات کو اپنی بہنوں کا ہوم ورک چیک کرنےکے بعد دیوانِ غالب یا میر تقی میر ؔ  کی کوئی کتاب اٹھا لیتی۔ شعر و شاعری اسے وقتی طور پر اس ذہنی اذیت سے کوسوں دور لے جاتی تھی ۔

کالج سے گھر تک کا فاصلہ وہ اپنی سہیلی کے ہمراہ پیدل طے کیا کرتی تھی ۔

حیا چند دن سے نوٹ کر رہی تھی کہ ایک لڑکا بائیک پہ ان کا پیچھا کر رہا ہے۔

ایک دن اس کی سہیلی بخار کی وجہ سے کالج نہ جا سکی ۔

کالج سے واپسی پر اسے وہی بائیک والا لڑکا اپنے پیچھے آتا ہوا محسوس ہوا۔

اس کے قدم تیز تیز چلنے لگے۔ابھی وہ یہی سوچ رہی تھی کہ یہ لڑکا اس کا پیچھا کیوں کر رہا ہے کہ اتنے میں  اس لڑکے نے اپنا موٹرسائیکل اس کے سامنے روک لیا۔

"سنیں میں کافی دن سے آپ کو دیکھ رہا ہوں مگر آپکی سہیلی کی وجہ سے آپ سے بات کرنے کا موقع نہیں مل پا رہا تھا۔

پلیز آپ دومنٹ میری بات سن لیں "

وہ لڑکا اپنی موٹرسائیکل سے اتر کر ادھر ادھر دیکھتے ہوئے بولا

"دیکھیں مجھے جانے دیں ۔میں ایسی ویسی لڑکی نہیں ہوں ۔میرے ابا کو بھنک بھی پڑ گئی تو وہ مجھے جان سے مار دیں گے"

حیا نے سر جھکا کر اپنی چادر کا پلو مروڑتے ہوئے کہا

"میں آپ سے بہت محبت کرتاہوں ۔جب سے آپ کی آنکھیں دیکھی ہیں مجھے ایک لمحہ بھی قرار نہیں آیا "

اس لڑکے نے حیا کے قریب ہوتے ہوئے کہا۔

حیا یکدم پیچھے ہٹی اور سر اٹھا کر اس لڑکے کو دیکھ کر اس کی سائیڈ سے تیز تیز قدموں سے بھاگ نکلی۔

"میں آپ کے جواب کآ انتظار کروں گا "

حیا کو اپنے پیچھے اس لڑکے کی  آواز سنائی دی۔

-----

حیا عجب تذبذب کا شکار رہنے لگی۔ گھر میں  وہی معمول کی نوک جھونک اسے مزید کوفت میں  مبتلا کرتی تو کالج میں اردو کے پیریڈ میں  ہونے والا بیت بازی کا مقابلہ اسے بیزار کرنے لگا تھا۔

کالج آتے جاتے ہوئے وہ خود کو اس لڑکے کی نظروں کے حصار میں  محسوس کرتی۔کبھی اسے اس کی نظروں سے اپنے لئے بےپناہ محبت محسوس ہوتی اور کبھی وہ ابا کا سوچ کر دہل جاتی۔

----

"خیریت ہے جناب ان دنوں آیان ملک تمہارے آس پاس کیوں نظر آتاہے ؟؟

کالج سے واپسی پر حیا کی سہیلی نے اچانک پوچھا تو حیا بری طرح چونک گئی۔ اتنے دن سے جو چوہے بلی کا کھیل کھیلا جا رہا تھا اسے خبر نہیں تھی کہ اس کے ارد گرد کے لوگ میں وہ سب دیکھ رہےہیں ۔

" کون آیان ملک؟؟؁میں کسی آیان ملک کو نہیں جانتی۔

حیا نے اپنی زبان کی لڑکھڑاہٹ پہ قابو پاتے ہوئے بمشکل جواب دیا

'ارے تم واقعی نہیں جانتی آیان ملک کو؟؟ تو یہ اتنے دن سے ہمارا پیچھا کیوں کر رہا ہے ؟

اس کی سہیلی نے اس بار حیرانگی سے سوال کیا

"تمھیں زیادہ شوق ہے تفتیش کرنے کا تو خود پوچھ لو جا کر اس سے۔

اس بار حیا نے قدرے سخت لہجے میں  جواب دیا

"ہائے وہ ظالم ایک بار موقع تو دے پھر تفتیش کیا میں اپنا آپ وار دوں اس پہ۔

حیا اپنی سہیلی کے بےباک جملوں پہ حیرانگی سے اسے دیکھ رہی تھی۔

"ارے نمونی ایسی کیا گھور رہی ہو مجھے؟ کیا تمہیں نہیں پتا کہ ہمارے کالج اور محلے کی آدھی لڑکیاں مرتی ہیں اس پر مگر وہ کمبخت کسی کو لفٹ ہی نہیں کرواتا۔اتنے دن سے ہمارے پیچھے آ رہا تھا تو مجھے لگا شائد میرے لئے آتا ہے مگر ظالم تمہیں چوری چوری دیکھتا ہے ۔لیکن اسے کیا پتا کہ اس کی چوری پکڑی گئی ہے ۔

اس کی سہیلی اپنی ہی دھن میں  بولے جا رہی تھی اور حیا کی آنکھوں میں نجانے کیوں بہت سے رنگ آ جا رہے تھے ۔

-----

آیان ملک کا تعلق بھی حیا کے محلے سے ہی تھا ۔ اس کے ابا اور بھائیوں کی سنار کی دوکان تھی۔ آیان ایک پڑھے لکھے اور امیر گھرانے کا چشم و چراغ تھا مگر سب بھائیوں میں سے چھوٹا ہونے اور والدین کے لاڈ پیار نے اسے تھوڑا لاپرواہ بنا دیا تھا۔

یونیورسٹی سے فارغ ہونے کے بعد گھر بور ہونے سے اس نے ابا کی دوکان پہ بیٹھنا بہتر سمجھا ۔

لیکن وہ وہاں صرف وقت گزاری کے لئے جاتاتھا ۔

ایک دن اس نے حیا سلیمان کو ان کی دوکان کے سامنے سے اپنی سہیلی کے ساتھ گزرتے دیکھا۔

سفید یونیفارم میں ملبوس چہرے کو نقاب سے ڈھانپے وہ گڑیا جیسی لڑکی پہلی ہی نظر میں اس کے دل میں گھر کر گئی تھی۔

آیان نے حیا سے بات کرنے کی کافی کوشش کی مگر بازار میں بہت سے لوگوں اور خاص طور پہ ابا کے ہوتے ہوئے وہ اپنی اس کوشش میں ناکام ہوا تو اس نے کالج آتے جاتے ہوئے حیا کا پیچھا کرنا شروع کر دیا۔

لیکن حیا کی سہیلی کے ہوتے ہوئے وہ اس سے بات نہیں کر پا رہا تھا ۔

ایک دن اسے اکیلا پا کر اس نے حیا سے اپنے دل کی بات کہہ دی۔

اب اسے حیا کے جواب کا انتظار تھا اور اسے پورا یقین تھا کہ جواب ہاں کی صورت ہی ہو گا۔

-----

حیا سلیمان گھر سے عدم توجہ کی شکار تو پہلے ہی تھی اب یہ احساس مزید بڑھ گیا جب ابا کے روز روز کے طعنوں سے تنگ کر اماں سب بہنوں کو برا بھلا کہنا شروع کر دیتی ۔

ایسی صورت میں اسے آیان کی نظروں میں اپنے لئے محبت اور توجہ اسے انجانے میں آیان کے قریب کر رہی تھی۔

وہ نجانے کب اسے دل میں بہت خاص جگہ دے چکی تھی مگر لاکھ کوشش کے باوجود وہ ابا کے ڈر اور جھجھک کی وجہ سے آیان سے بات نہیں کر پا رہی تھی اور نہ ہی زیادہ دیر سر اٹھا کر اسے دیکھ پاتی تھی۔

ایک روز کالج سے واپسی پر اسے آیان اپنی موٹرسائیکل پہ اسی جگہ نظر آیا جہاں اکثر وہ اس کی چھٹی کے وقت پایا جاتاتھا ۔

آج اس نے خود کو تیار کر رکھا تھا کہ وہ آیان سے بات کرے گی۔

جب وہ آیان کے قریب پہنچی تو وہ موٹرسائیکل سے اتر کر اس کے رستے میں کھڑا ہو گیا۔اس نے اپنی سہیلی کو سرگوشی میں کچھ کہا اور وہ اپنی مسکراہٹ چھپاتے ہوئے آگے نکل گئی۔

"ادھر سائیڈ پہ آ جاؤ ۔وہاں ہمیں کوئی دیکھ نہیں پائے گا"

آیان کے کہنے پہ وہ کسی کنیز کی طرح اس کے حکم پہ آمین کہتی ہوئی اس کے پیچھے چلنے لگی۔

"مجھے یقین تھا تم میری محبت کو ایک دن تسلیم کر لو گی"

آیان نے اس سےذرا فاصلے پر بیٹھتے ہوئے کہا

"آپ۰۰۰۰آپ مجھ سے کیوں پیار کرتےہیں ؟

حیا نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے سوال کیا

" تم سے محبت کے لئے کسی وجہ کی ضرورت نہیں حیا۔ تم اس  لائق ہو کہ تمہیں چاہا جائے'

آیان کا محبت سے بھرپور جواب اسے سرشار کر گیا

"مگر آپ کو میرا نام کیسے معلوم ہوا؟

حیا نے قدرے حیرانگی سے سوال کیا

"ارے پاگل مجھے تمھارے سب علم ہے۔ اور یہ کوئی مشکل کام نہیں ۔محلے کے کسی بھی بچے کو سو پچاس روپے دے کر معلومات نکلوائی جا سکتی ہیں

"تو آپ نے کس سے میری معلومات نکلوائیں"

حیا نے اپنی چادر درست کرتے ہوئے پوچھا

'چھوڑو نا ان سب باتوں کو۔میری طرف دیکھو حیا۔ میں بہت محبت کرتاہوں تم سے۔جب سے تمہیں دیکھا ہے باقی سب چیزوں اور لوگوں سے بیگانہ ہو گیا ہوں ۔

آیان نے مخمور لہجے میں اس سے اپنی محت کا اظہار کیا

حیا نے پہلی بار اس کی آنکھوں میں دیکھا اور خود سے اس بات کا اقرار کیا کہ وہ بھی اسے اتنا ہی چاہنے لگی ہے

"میں ۰۰۰میں اب چلتی ہوں ۔ماریہ میرا انتظار کر رہی ہو گی

حیا نے اپنا بیگ سنبھالتے ہوئے کہا

"میں کل تمہارا انتظار کروں گا "

آیان نے اسے محبت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا

"اپنا خیال رکھئیے گا"

حیا کو خود یقین نہیں آیا کہ اس نے یہ جملہ کیسے ادا کر دیا مگر وہ خود سے شرماتی ہوئی وہاں سے نکل آئی ۔

----

اب یہ ان کا روزانہ کا معمول بن چکا تھا۔ کالج سے واپسی پر آیان مخصوص جگہ پر ان کا انتظار کرتا۔ دونوں کچھ دیر ایک دوسرے سے باتیں کرتے اتنی دیر میں اس کی سہیلی ارد گرد دھیان رکھتی۔

"حیا یہ سبز رنگ کی چوڑیاں تم پہ بہت خوبصورت لگتی ہیں مگر تم انہیں روزانہ کیوں نہیں پہنتی؟

آیان نے اس کا ہاتھ پکڑے اس کی چوڑیوں سے کھلیتے ہوئے پوچھا

"آپ بھی نا۔ کالج میں نہیں پہن سکتی نا۔یہ بھی آپ کی ضد کی وجہ سے بیگ میں چھپا کر لائی تھی اور کالج سے چھٹی کے بعد پہنی ہیں ۔

"جلد ہی تمہارے ہاتھوں میں میرے نام کی چوڑیاں ہوں گی تب تمہیں کوئی بھی پہننے سے نہیں روکے گا"

حیا آیان کے اس جملے پہ شرما کر رہ گئی

"حیا مجھ سے شادی کرو گی؟

آیان بہت محبت سے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے یوچھ رہا تھا

" میں ۰۰۰میں بالکل بھی نہیں رہ سکتی اب آپ کے بغیر آیان مگر ابا۔۔

ابا کبھی بھی اس شادی کے لئے نہیں مانیں گے

حیا نہیں قدرے افسردگی سے جواب دیا

" ہمیں ایک ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا حیا۔ میں تم سے نکاح کر لوں گا ۔بعد میں سب کو راضی کر لیں گا۔ نکاح کے بعد تو سب کو ماننا ہی پڑے گا

آیان نے جذباتی ہوتے ہوئے کہا

اچھا اب میں چلتی ہوں کافی وقت ہو گیا۔

----

"آیان گھر میں کوئی بھی نہیں مانے گا۔ اگر انہیں بھنک بھی لگ گئی تو وہ مجھے جان سے مار دیں گے ۔

حیا نے روہانسا ہوتے ہوئے کہا

"تبھی کہا تھا حیا کہ ہم نکاح کر لیتےہیں بعد میں سب کو راضی کر لیں گے۔اب میں بھی تمہارے بغیر ایک لمحہ بھی نہیں رہ سکتا"

حیا کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیا جواب دے

"میں سب انتظامات کر لوں گا۔ تمہیں بس کچھ دیر کے لئے میرے بتائے ہوئے ایڈریس پہ آنا ہے۔وہیں قاضی صاحب اپنے چند دوستوں کو بلا لوں گا۔نکاح کے بعد دیکھیں گے کہ گھر والوں کو کیسے بتانا ہے مگر اتنا تو یقین ہو جائے گا کہ نکاح کے بعد کوئی ہمیں الگ نہیں کر پائے گا۔

مجھ پہ یقین رکھو گے حیا میں تمہیں کبھی خود سے الگ نہیں ہونے دوں گا

آیان نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا

"اچھا میں سوچوں گی اس بارے ابھی چلتی ہوں ۔آپ اپنا خیال رکھئیے گا

حیا کسی گہری سوچ میں ڈوبی گھر واپس آ گئی۔

----

آدھی رات گزر چکی تھی مگر اس کی آنکھوں میں نیند کا نام و نشان تک نہیں تھا۔

وہ بس سوچے جا رہی تھی

کبھی اسے آیان سے دوری دہلا دیتی اور کبھی چھپ کے نکاح ایک انجانے خوف میں مبتلا کر دیتا۔

کافی دیر کی سوچ بچار کے بعد وہ دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ خود کو آیان کے فیصلے پہ راضی کر چکی تھی۔

---

"تم پانچ بجے اس ایڈریس پہ پہنچ جانا باقی میں سنبھال لوں گا"

آیان نے اسے ایڈریس سمجھاتے ہوئے کہا

"آیان کچھ گڑبڑ تو نہیں  ہو گی نا؟ ہم کچھ غلط تو نہیں کر رہے؟

حیا اپنے خوف کو زباں تک لے آئی

"میری جان مجھ یہ یقین رکھو میں یہ سب تمہارے لئے کر رہا ہوں "

آیان نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا

"اچھا ٹھیک ہے میں پانچ بجے پہنچ جاؤں گی "

"گھر میں کیا بول کر آؤ گی"

آیان نے سوال کیا

"اماں کو کہوں گی ماریہ کی طرف پڑھنے جا رہی ہوں  اور ابا کو ہمارے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی خاص فرق نہیں  پڑتا

حیا نے ایک ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے جواب دیا

"اوکے ٹھیک ہے ابھی تم جاؤ اور شام کو وقت پر پہنچ جانا"

حیا اسے بھرپور نظروں سے دیکھتے ہوئے گھر لوٹ آئی۔

---

"اماں میں ماریہ کی طرف جا رہی ہوں ۔کل ایک ٹیسٹ ہے جس کی تیاری کرنی ہے۔

حیا نے اماں سے پہلی دفعہ جھوٹ بولتے ہوئے ان سے نظریں چرا کر کہا

"اچھا ٹھیک ہے جلدی آ جانا۔تمہارے ابا عشاء تک آ جاتے ہیں ان کے آنے سے پہلے واپس آ جانا۔

حیا نے رخصت کا پروانہ ملتے ہی کانپتے ہوئے ہاتھوں سے نقاب لیا اور گھر سے آیان کے بتائے ہوئے ایڈریس پہ جانے کے لئے نکل آئی۔

--

آیان تقریباً سبھی انتظامات مکمل کر چکا تھا۔بس اسے حیا کا انتظار تھا کہ اتنے میں حیا گھر میں داخل ہوئی۔

"صد شکر کہ تم آگئی ورنہ میرے دل میں عجیب وسوسے آ رہے تھے کہ تم نہیں آؤ گی۔اب جلدی سے کمرے میں جاؤ ۔تمہارے لئے کپڑے لایا ہوں وہ پہن کر تیار ہو جاؤ۔ قاضی صاحب آتے ہی ہوں گے ۔

حیا نے کپڑے تبدیل کرنے کے بعد خود کو آئینے میں دیکھا ۔وہ آج خود کو بھی بہت پیاری لگ رہی تھی۔ ہمیشہ کے لئے آیان کی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک انجانا سا خوف اسے اپنے گھیرے میں لئے ہوئے تھا۔

"حیا سلیمان ولد سلیمان حیدر آپ کو آیان ملک ولد ملک حشمت دو لاکھ حق مہر سکہ رائج الوقت نکاح میں قبول ہیں ؟

"جی۰۰۰قبول ہے۔

"مبارک ہو۔آج سے آپ میاں بیوی ہیں "

قاضی صاحب نے نکاح کے بعد دونوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا۔

کچھ دیر میں قاضی صاحب چلے گئے۔آیان نے انہیں بھاری رقم دے کر اس نکاح کو راز رکھنے پہ آمادہ کر لیا تھا۔

قاضی صاحب کے جانے کے بعد وہ حیا کو بیٹھک سے ملحقہ کمرے میں چھوڑ آیا۔ نکاح میں بطور گواہان شامل دوستوں سے مبارکباد وصول کرکے انہیں دروازے تک چھوڑ کر وہ حیا کے پاس آ گیا

"مبارک ہو۔ حیا میں آج بہت خوش ہوں ۔آخر تم ہمیشہ کے لئے میری ہو گئی"

آیان نے حیا کے پاس صوفے پہ بیٹھتے ہوئے کہا

حیا اپنے آپ میں سمٹی شرمائے جا رہی تھی۔

" پاگل اب شرمانا بند کرو اور یہاں میرے قریب آؤ"

آیان نے اسے اپنی بانہوں کے گھیرے میں لیتے ہوئے کہا

"آیان ابھی نہیں ۔ گھر میں سب کو بتانے تک ہمیں دور رہنا چاہئیے

حیا نے کسی حد تک خود کو آیان کی بانہوں سے آزاد کرواتے ہوئے کہا

"ششش ۔اب اور ایک منٹ میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا حیا۔

جہاں اتنا سب کچھ ہو گیا وہاں گھر والوں کو بتانے کا مرحلہ بھی ایسے ہی خوش اسلوبی سے طے ہو جائے گا۔ تم خود کو خواہمخواہ ہلکان کیے جا رہی ہو۔

آیان نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا

حیا کچھ بول نہ سکی ۔اور خود کو آیان کے حوالے کر دیا۔

"اللہ اکبر 'اللہ اکبر"

اچانک مسجد سے اذان کی آواز سن کر حیا چونک گئی ۔اسے بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ اتنا وقت گزر گیا۔

وہ جلدی سے کپڑے تبدیل کر کے نقاب لینے لگی

" میری جان اب اپنا بہت سا خیال رکھنا۔اب تم میری امانت ہو۔

آیان نے اس کا ماتھا چومتے ہوئے کہا

حیا اس کے والہانہ انداز سے سرشار ہوتے ہوئے اسے خدا حافظ بول کر گھر کے لئے روانہ ہو گئی

۔۔۔۔

گھر داخل ہوتے ہی اسے ابا صحن میں بچھی چارپائی پہ کھانا کھاتے ہوئے نظر آئے۔

"کہاں سے آ رہی ہو اس وقت وہ بھی اکیلی ؟؟

ابا نے غصے سے پوچھا

"ابا۰۰۰وہ میں ۰۰میں ماریہ کےساتھ ان کے گھر میں کل کے ٹیسٹ کی تیاری کر رہی تھی۔

"اچھا؟ تو اب لپ اسٹک اور میک اپ کر کے ٹیسٹ کی تیاری کی جاتی ہے ؟؟

اب کے جملوں نے اسے اپنی غلطی کا احساس دلایا کہ وہ آتے ہوئے لپ اسٹک صاف کرنا بھول گئی تھی۔

"نہیں ابا۰۰یہ تو۔۔

"سچ سچ بتا کہاں گئی تھی"

ابا نے دھاڑتے ہوئے پوچھا

"وہ کہہ رہی ہے نا وہ ماریہ۔۔۔

تو چپ کر۔زبان کھینچ لوں گا اگر ایک لفظ بھی منہ سے نکالا تو۔

ابا نے اماں کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی کاٹ دی۔

حیا خوف سے تھر تھر کانپ رہی تھی۔ابا اسے بالوں سے پکڑ کر کمرے میں لے گئے۔ دو چار تھپڑوں کے بعد ہی حیا نے سب بتا دیا۔

جس کے بعد ابا نے اسے مارنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ قریب تھا کہ وہ اسے جان سے مار دیتے اس کی ماں نے کسی طرح مداخلت کر کے اسے چھڑوایا۔

حیا نے بمشکل خود کو سنبھالا اور  کسی طرح بھاگ کر خود کو دوسرے کمرے میں بند کر لیا۔

اسے باہر ابا کے چیخنے چلانے اور اماں کو مارنے کی آوازیں آ رہی تھیں مگر وہ ہچکیوں سے روتے ہوئے کمرے میں ایک کونے میں دبکی بیٹھی تھی۔

----

"اری ڈائن یہ گل کھلانے کے لئے کالج جاتی تھی تم؟

اماں نے اسے بالوں سے پکڑتے ہوئے کہا

چل بتا کون ہے وہ؟کس کے ساتھ منہ کالا کر کے آئی ہو۔

"اماں؟؟ ہم نے نکاح کیا ہے ۔کوئی گناہ نہیں کیا۔

حیا اماں کے الفاظ برداشت نہ کر سکی۔

"اری کلموہی اس کمبخت کا نام نسب کیا ہے؟ بتا ورنہ تیرا ابا ہم سب کو جان سے مار دے گا۔

حیا نے اماں کو آیان کے بارے سب بتا دیا۔

اماں نے بغیر کوئی جواب دئیے باہر جا کر ساری تفصیل اس کے ابا کے گوش گزار کر دی۔

۔۔۔

آیان کی آنکھ ایک عجیب سے شور سے کھلی۔

اس نے کمرے سے باہر آ کر دیکھا تو اس کے سب گھر والے لاؤنج میں جمع تھے جہاں اس کے ابا اس کی اماں پہ چیخ چلا رہے تھے۔

اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا ہو رہا ہے ۔

وہ ان کے قریب پہنچا۔اس سے پہلے کہ وہ کچھ پوچھتا اس کے بڑے بھائی نے اٹھ کر اسے منہ پہ ایک ایک زوردار تھپڑ لگایا۔

وہ ابھی سنبھل بھی نہیں پایا تھا کہ اس کا بھائی اسے گالیاں دیتے ہوئے کہہ رہا تھا" کل رات کیا گل کھلا کر آیا ہے ؟ اتنی ہی جوانی خوش مار رہی تھی تو ہمیں بتاتے ۔ہم تیری شادی کسی اچھے گھر میں  کروا دیتے۔

مگر ایک حلوائی کی بیٹی؟؟

آخ تھو۔۔۔

اس کا بڑا بھائی شدید غصے میں اس کے سر پہ چلا رہا تھا۔

آیان سارا معاملہ سمجھ چکا تھا۔ اسے حیا پہ غصہ آ رہا تھا کہ وہ ایک دن بھی چھپا نہ سکی۔

"میں نے کوئی گناہ نہیں کیا۔میں نے اس لڑکی سے نکاح کیا ہے اور اب وہ میری بیوی ہے"

آیان نے سب گھر والوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا

اس کا بھائی اسے ایک بار پھر مارنے کو لپکامگر اس کے ابا نے مداخلت کر کے اسے روک دیا

"دیکھو میں تمہارے جذبات سمجھتا ہوں ۔مگر تمہیں بھی سمجھنا ہو گا کہ ہمارے اور ان کے سٹیٹس میں زمین آسمان کا فرق ہے۔تمہیں اس لڑکی کو چھوڑنا ہو گا۔

اس کے ابا نے قدرے تحمل سے کہا

"ابا آپ اتنی بڑی بات کیسے کہہ سکتے ہیں ؟ وہ اب میری بیوی ہے اور میں اسے نہیں چھوڑ سکتا۔

آیان غصے سے جواب دیتا ہوا اپنے کمرے میں لوٹ آیا۔

ملک حشمت غصے سے اپنے پاؤں تلے بچھے قالین کو مسلتے رہ گئے

---

"دیکھو آیان میں تمہارے ساتھ ہوں ۔تمہارا بھلا چاہتاہوں ۔ ابھی تمہاری تعلیم بھی مکمل نہیں ہوئی تم امریکہ جا کر اپنی تعلیم مکمل کرنا چاہتے تھے اور پھر اپنا بزنس کرنا چاہتے تھے تو سوچو تمہارے یہ سب خواب پورے کرنے کے لئے سرمایہ کہاں سے آئے گا؟؟

آیان اپنے کمرے میں مجنوں جیسی بکھری حالت میں لیٹا ہوا چھت کو گھور رہا تھا جب اس کا بڑا بھائی اس کے کمرے میں داخل ہوا

"کیا مطلب ؟میں سمجھا نہیں

آیان نہیں اٹھ کر بیٹھتے ہوئے قدرے حیرانگی سے پوچھا

"وہی تو میں تمہیں سمجھا رہا ہوں ۔آج سات دن ہو گئے ہیں سب تمہیں سمجھا سمجھا کر تھک گئے مگر تمہاری سمجھ میں بات نہیں آئی۔ ابا جان تمہیں جائیداد سے عاق کر رہے ہیں ۔اور تم جانتے ہو جس لڑکی کے لئے تم یہ سب کر رہے ہو وہ تم سے طلاق لینے یا دوسری صورت نے خلع لینے کو تیار ہے۔

اس کے بھائی نے اسے تفصیل سے سمجھاتے ہوئے کہا

آیان کو لگا جیسے پوری چھت اس کے اوپر آ گری ہو۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ حیا اس سے الگ ہونے کے لئے راضی ہو جائے گی

"آپ جھوٹ بول رہے ہیں ۔وہ مجھ سے الگ ہونے کا سوچ بھی نہیں سکتی"

آیان نے بےیقینی میں سر جھٹکتے ہوئے کہا۔

"تم ابھی ناسمجھ ہو آیان۔ تم ان چھوٹے لوگوں کو نہیں جانتے۔ جب انہیں پتا چلا کہ ابھی تمہارے پاس تو کچھ بھی نہیں تو وہ فوراً طلاق لینے کے لئے تیار ہو گئے۔

میرے بھائی آرام سے سوچ لو کہ اب تمہیں کیا کرنا ہے ۔اپنا مستقبل خراب مت کرو ایسے لوگوں کے لئے ۔میں تمہارے ساتھ ہوں

اس کا بھائی اس کا کندھا تھپتھپا کر باہر آ گیا۔

آیان بہت گہری سوچ میں تھا۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ حیا اس کے ساتھ ایسا بھی کر سکتی ہے۔مگر پھر سوچ منتشر ہو جاتی کہ اس کا بڑا بھائی آخر اس کے ساتھ جھوٹ کیوں بولے گا۔

کافی دیر سوچ بچار کے بعد وہ حتمی فیصلہ کر کے اپنے کمرے سے باہر آیا۔

لاؤنج میں اس کے ابا اور بھائی بیٹھے تھے۔

"میں اسے طلاق دینے کو تیار ہوں مگر طلاق کے فوراً بعد مجھے امریکہ جانا ہے ۔

آیان نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا۔

اس کے ابا اور بھائی ایک دوسرے کو حیرت سے دیکھ رہے تھے۔

"اب کی ہے نا سمجھداری کی بات میرے بھائی ۔ میں اس سب معاملے کے ختم ہوتے ہی تمہارے امریکہ جانے کے انتظامات مکمل کر لوں گا۔تم پریشان مت ہو

اس کا بھائی اٹھ کر اس کے قریب آیا اور اس کے شانے پہ ہاتھ رکھ کر بولا مگر آیان اس کی کسی بھی بات کا جواب دئیے بغیر گھر سے باہر نکل گیا۔

-----

"اسے اچھی طرح سمجھا دو کہ اگر اس نے اس لڑکے سے خلع نہ لی تو میں اس کے ساتھ ساتھ تم سب کو بھی جان سے مار دوں گا"

حیا کے ابا صبح صبح دوکان پہ جانے سے پہلے ایک بار اس پر چیخ رہے تھے

"ابا میں نے نکاح کیا ہے۔چاہے کچھ بھی ہو جائے میں خلع نہیں لوں گی اور نہ ہی آیان مجھے چھوڑیں گے"

حیا نے اماں کے پاس بیٹھے بیٹھے ہی ابا کی بات کا جواب دیا

"اری نامراد تم ۔۔۔

ابھی اس کے ابا اسے مزید گالیوں سے نوازنے والے تھے کہ دروازے پہ دستک ہوئی۔

"سلیمان صاحب آپ کا کورئیر آیا ہے ۔شائد کوئی سرکاری خط ہے۔آپ یہاں دستخط کر کے وصول کر لیں۔

انہوں نے دستخط کئے اور ڈاک وصول کر کے دروازہ بند کیا۔

واپس چارپائی پہ بیٹھ کر اسے کھولا اور عجیب طنزیہ نظروں سے حیا کی طرف دیکھا

"وہ مجھے چھوڑیں گے نہیں ہنہہ

یہ دیکھ اپنے یار کا جواب۔ اس نے طلاق بھیجی ہے تجھے۔

اس کے ابا نخوت سے اسے بتا رہے تھے لیکن اسے لگ رہا تھا جیسے قیامت کا اعلان کیا جا رہا ہوں ۔

اس نے بھاگ کر بےیقینی سے ابا کے ہاتھ سے وہ کاغذ پکڑا اور اسے پڑھتے ہی دھڑام سے زمین پر آ گری

----

رات کو اس کی آنکھ کھلی تو اس کی اماں کے ساتھ اس کی دوست ماریہ بھی اس کے بیڈ کے پاس بیٹھی تھی۔

"لو اٹھ گئی مہارانی ۔اب تم ہی سمجھاؤ اسے کہ بی بی اگلا تمہیں چھوڑ کر رفوچکر ہو گیا اب تم بھی سوگ منانا چھوڑ دو

اس کی اماں اس کی طرف غصے سے دیکھتے ہوئے کہہ کر باہر چلی گئیں

"حیا تم ٹھیک ہو؟

ماریہ نے اس کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا

'ٹھیک ہوں "

حیا نے چھت کو گھورتے ہوئے مختصر سا جواب دیا

"دیکھو حیا میں تمہارا دکھ سمجھتی ہوں مگر مجھے بھی یقین نہیں آ رہا کہ آیان بھائی ایسے نکلیں گے۔

لیکن سچ یہی ہے حیا کہ وہ تمہیں طلاق دے چکے ہیں ۔اب تمہیں خود خو سنبھالنا ہو گا"

ماریہ اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے اسے سمجھا رہی تھی۔

حیا نے اس کی بات کا کوئی جواب نہ دیا اور مسلسل چھت کو گھورتی رہی

---

آیان امریکہ جانے کی تیاریوں میں تھا۔ وہ کچھ کام سے ابا کی دوکان پہ آیا تھا اور وہ اسے کچھ دیر کاؤنٹر پر بیٹھا کر بینک چلے گئے

اچانک دوکان نے حیا داخل ہوئی اور اس کے قریب آتے ہی اس نے زوردار تھپڑ اس کے منہ پہ دے مارا

"کیوں کیا تم نے میرے ساتھ ایسا؟کیا بگاڑا تھا میں نے تمہارا ۔تم پہ یقین کر کے میں اس حد تک گئی اور تم

حیا نے اس کا گریبان پکڑے اس سے پوچھا

"یہاں تماشہ مت کرو۔ بہت سے لوگ تمہیں دیکھ رہے ہیں ۔ یہاں سے جاؤ اور آئندہ کبھی مت آنا

وہ اس کا ہاتھ پکڑے اسے کھینچتے ہوئے دروازے تک آیا

"میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی آیان ملک۔تم پوری زندگی خوشی کو ترستے رہو گے

آیان نے اس کا ہاتھ پکڑا اور دروازے سے باہر نکال کر گلاس ڈور کو اندر سے لاک کر لیا

وہ کچھ دیر وہیں کھڑی روتے ہوئے کچھ کہتی رہی اور پھر اپنے بکھرتے وجود کو سنبھالتی بوجھل قدموں سے چلی گئی۔

آیان نے اپنے آنسو صاف کئے اور واپس کاؤنٹر پہ بیٹھ کر اسے جاتے دیکھتا رہا

---

عدت کے آخری دنوں میں حیا کی اماں کو اس کے جسم میں کچھ تبدیلی محسوس ہوئی۔ وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے گھسیٹتے ہوئے کمرے میں لے گئیں اورکھا جانے والی نظروں سے اس کے جسم کا پوسٹ مارٹم کرنے لگیں ۔

"اری بدذات ابھی اور کتنا رسوا کرے گی ہمیں ؟ کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا ۔

اری کلموہی پہلے کیوں نہیں بتایا کہ تُو اس کمینے کے ساتھ منہ بھی کالا کر چکی ہے۔ تیرے باپ کو اس کی خبر ہوئی تو وہ اس بار ضرور تجھے جان سے مار دے گا۔

چل میرے ساتھ ۔چل ابھی اس پلےکو ختم کروا کے آؤں

حیا یک ٹک ماں کی کڑوی کسیلی باتیں سن رہی تھی مگر ان کے آخری جملے کی وجہ سے ہتھے سے اکھڑ گئی

"یہ کسی گناہ کا نتیجہ نہیں ہے ۔میں نے نکاح کیا تھا۔ میں اسے کسی صورت بھی ختم نہیں کروں گی"

حیا نے دو ٹوک فیصلہ سناتے ہوئے کہا

"اری منحوس تُو پیدا ہی کیوں ہوئی تھی۔ کچھ تو ماں باپ کی عزت کا خیال کرتی۔

اس کی ماں وہیں سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔

شام کو اس کے ابا کے آتے ہی اس کی اماں نے انہیں سب بتادیا۔

جسے سنتے ہی اس کے ابا غصے سے آگ بگولا ہوگئے۔

انہوں نے جوتا اٹھانے میں دیر نہیں کی مگر حیا کی ماں نے انہیں ایسا کرنے سے روک دیا

"کب تک مار پیٹ کرتے رہو گے ؟جو ہونا تھا ہو گیا اب اس کا کوئی حل تلاش کرو  ۔اسے یہاں سے چلتا کرو ورنہ ہم کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں  رہیں گے ۔

حیا کی اماں نے انہیں سمجھاتے ہوئے  کہا

سلیمان حیدر کو پہلی دفعہ اپنی بیوی کی بات کچھ معقول لگی اور وہ اس سب کا حل تلاش کرنے کے بارے سوچنے لگے

------

اٹھ کر تیار ہو جاؤ تمہیں لڑکے والے دیکھنے آ رہے ہیں ۔

حیا کی اماں نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کہا

"اماں مجھے نہیں کرنی شادی۔ خدارا یہ ظلم مت کریں

حیا نے التجا کی

"کچھ تو باپ کی عزت کا خیال کر لو۔ کیوں سارے زمانے میں ایک  بار پھر رسوا کرنا ہے ہمیں ۔اٹھو میری بچی اٹھ کر تیار ہو جاؤ

وہ اسے پیار سے سمجھاتے ہوئے باہر آ گئیں ۔

سلیمان حیدر نے اپنے بچپن کے دوست کو سارے حالات بتائے تو اس نے دوستی کا بھرم رکھتے ہوئے اپنے بیٹے اسد کو حیا سے شادی کے لئے پیش کر دیا۔

سلیمان حیدر اور شاہجہان شیخ بچپن سے ایک ساتھ پلے بڑھے تھے۔ بعدازاں شاہجہان شیخ کاروبار کے سلسلے میں اندرون لاہور سے  قصور شفٹ ہو گئے۔

شاہجہان شیخ کا اکلوتا بیٹا اسد شیخ ایم بی اے کرنے کے بعد اپنے والد کا کاروبار سنبھال چکا تھا۔

شاہجہان شیخ نے اپنے دوست کی مجبوری کو دیکھتے ہوئے اپنے بیٹے سے بات کی تو اسد شیخ نے فرمانبردار بیٹے کا ثبوت دیتے ہوئے  اپنے والد کے فیصلے پہ سرتسلیم خم کر دیا۔

شاہجہان شیخ اپنے بیٹے کے ساتھ  سلیمان حیدر کے گھر آئے تھے۔

شاہجہان اور سلیمان حیدر نے آج شام ہی ان دونوں کا نکاح طے کیا تھا۔

نمازِ عصر کے بعد دونوں کا نکاح ہوا ۔

شاہجہان شیخ آج ہی رخصتی چاہتے تھے اور حالات کا بھی یہی تقاضا تھا۔

حیا کی دوست ماریہ اس کے چند جوڑے ایک بیگ میں ڈال کر اسے تسلی دے رہی تھی۔

"انشاءاللہ سب اچھا ہو گا۔ تم پریشان مت ہونا۔ اسد بھائی تمہارا خیال رکھیں گے

"تم جانتی ہو ماریہ اب مجھے کسی چیز کا ڈر خوف نہیں  رہا کیونکہ جب ‏‏یار کھو جائے تو پھر کونسا ڈر بچتا ہے ۔

حیا ماریہ کو لاجواب کرتے ہوئے اپنا بیگ سنبھال کر باہرنکل آئی جہاں سب اس کے منتظر تھے۔

----

"آپ بالکل بھی پریشان نہ ہوں۔یہاں آپ کو کسی قسم کی کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔آج سے یہ آپ کا کمرہ ہے۔میں ساتھ والے کمرے میں ہوں۔اگر کچھ چاہئیے ہو تو بلا جھجھک بتائیے گا

اسد نے اسے اس کا کمرہ دکھاتے ہوئے کہا

حیا نے کمرے کو دیکھا اور بیڈ پر بیٹھ گئی۔

اسد اسے کمرے میں چھوڑ کر چلا گیا۔ کچھ دیر بعد وہ واپس لوٹا تو اس کے ہاتھ میں ایک جوس کا گلاس تھا۔

"آپ یہ پی لیجئیے گا اور پھر آرام کریں ۔تھک گئی ہوں گی

اسد نے جوس کا گلاس بیڈ کی سائیڈٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا

"جی شکریہ

حیا بمشکل کہہ پائی

اسد کچھ کہے بغیر کمرے سے باہر چلا گیا۔

---

اسے اسد کے گھر آئے پانچ ماہ ہو چکے تھے اور ان پانچ مہینوں میں اسد نے اس کا بہت خیال رکھا تھا۔اس کی چھوٹی سے چھوٹی ضرورت بھی وہ فوراً پوری کرتا۔

لیکن بدلے میں کبھی اس نے حیا سے کچھ نہیں مانگا۔وہ اب بھی الگ الگ کمروں میں رہتے تھے۔

روزانہ حیا کے "شکریہ " کہنے پر وہ بس مسکرا دیتا۔

حیا اکثر سوچا کرتی تھی کہ ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں جو بےپناہ محبتوں کے بدلے کچھ بھی طلب نہیں کرتے۔؟

۔۔۔۔

اسد کو گھر سے فون آیا کہ حیا کی طبیعت خراب ہے ہم اسے ہسپتال لے کر جا رہے ہیں ۔

اسد جلدی سے آفس سے ہسپتال پہنچا۔

حیا نے ایک خوبصورت بیٹے کو جنم دیا۔اسد نے اسے گود میں اٹھا کر چوما تو حیا کے دل میں  تمام وسوسے دم توڑ گئے۔اس کے دل میں اسد کے لئے عزت مزید بڑھ گئی۔

اسد نے حیا سے مشاورت کے بعد بیٹے کا نام "عبداللہ "رکھا۔

حیا اب عبداللہ کے ساتھ ساتھ گھر کی دیکھ بھال بھی کرنے لگی۔ اسد اسے اکثر گھر کے کام کرنے سے منع کرتا ۔

"حیا آپ یہ سب مت کیا کیجئے ۔گھر میں نوکر موجود ہیں یہ سب کرنے کے لئے ۔آپ بس اپنا اور عبداللہ کا خیال رکھا کریں ۔

اسد اسے اکثر کام کرتے دیکھتا تو  یہی جملے دوہراتا

"نہیں یہ میرا بھی گھر ہے اب اسے میں خود سنبھالوں گی

"سب کچھ آپ کا ہی ہے حیا لیکن اپنا اور عبداللہ کا خیال رکھا کریں ۔گھر کے کاموں میں خود کو ہلکان مت کیا کریں

اسد نے آفس جاتے ہوئے ایک بار پھر اسے سمجھایا ۔

اسد آفس سے گھر آیا تو یہ دیکھ کر اسے حیرت کا شدید جھٹکا لگا جب اس نے حیا کو اس کے کمرے میں دیکھا۔

"چونک کیوں گئے آپ؟ آج سے میں اور عبداللہ بھی یہیں رہیں گے

حیا نے عبداللہ کا سامان الماری میں سیٹ کرتے ہوئے کہا

اسد خوشگوار حیرت کے ساتھ ایک بار پھر بس مسکرا کر رہ گیا۔

۔۔۔۔

حیا اور اسد کے درمیان اب خاصی بےتکلفی ہو چکی تھی۔

اسد کے آفس سے آنے کے بعد دونوں کافی دیر باتیں کرتے ۔

عبداللہ بھی حیا سے زیادہ اسد کے قریب تھا۔

"اسد آپ اتنے اچھے کیوں ہیں ؟

حیا نے عبداللہ کو سلانے کے بعد اسد کے بالکل قریب بیٹھتے ہوئے کہا

اسد نے لیپ ٹاپ آف کر کے سائیڈ پر رکھا اور حیا کا ہاتھ تھام کر بولا"کیونکہ میری زوجہ محترمہ بہت اچھی ہیں ۔اس لئے انہیں سب اچھے لگتے ہیں ۔

"نہیں نا میں صرف آپ کی بات کر رہی ہوں ۔

"میں بھی اسی کا جواب دے رہا ہوں حضور ۔ اچھا چھوڑو میں سوچ رہا تھا کل اتوار ہے تو لاہور چلتے ہیں ۔اماں ابا سے بھی مل آئیں گے اور گھوم پھر بھی آئیں گے ۔

حیا نے اثبات میں سر ہلا دیا

۔۔۔۔

لاہور سے واپسی پر اس کی آنکھوں کے سامنے اپنے والدین کے پرسکون چہرے تھے جو شائد اسے خوش دیکھ کر مطمئن ہو گئے تھے۔

رات عبداللہ کو سلانے کے بعد حیا اس کے پاس آ کر بیڈ پہ لیٹ گئی اور سر اس کے شانے پر رکھ لیا۔

۔۔۔۔۔

کل آپ آفس سے اگر جلدی آ جائیں تو ڈاکٹر کی طرف چلیں گے ۔ میری طبیعت کچھ بوجھل سی محسوس ہو رہی ہے۔

حیا نے عبداللہ کے کپڑے سمیٹتے ہوئے کہا

"اوہ تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا؟؟ میں نے کل لاہور جانا ہے تم بھی میرے ساتھ چلو ۔وہیں سے چیک اپ کروا لیں گے۔

اسد نے فکر مند ہوتے ہوئے کہا

۔۔۔۔

ناشتہ کرنے کے بعد دونوں لاہور کے لئے نکل پڑے۔

اسد لاہور پہنچتے ہی سب سے پہلے حیا کو ڈاکٹر کے پاس لے گیا۔

کلینک میں داخل ہوتے ہی حیا چونک گئی۔اسے لگا جیسے اس نے ابھی ابھی آیان ملک کو وہاں سے گزرتے دیکھا ہے ۔

مگر وہ اسے اپنا وہم سمجھ کر کلینک میں داخل ہو گئی۔

"دیکھیں رونے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ آپ اللہ سے دعا کریں شائد کوئی معجزہ ہو جائے۔

کلینک میں موجود ڈاکٹر نے اپنے سامنے بیٹھی لڑکی کو دلاسہ دیتے ہوئے کہا

لڑکی روتے ہوئے اٹھ کر کلینک سے باہر چلی گئی۔

"اس لڑکی کو کیا ہوا ڈاکٹر ۔اس قدر رو کیوں رہی تھی؟؟

حیا نے اس لڑکی کے کلینک سے باہر نکلتے ہی ڈاکٹر سے پوچھا

"یہ بیچاری کبھی ماں نہیں بن سکتی۔ دنیا میں کوئی جگہ ایسی نہیں جہاں علاج نہ کروایا ہو مگر جو اللہ کو منظور "

ڈاکٹر نے حیا کو مختصراً بتایا اور سٹاف کو آواز دی

"یہ مسز آیان ملک کی فائل اپنے پاس رکھ لیں میں جاتے ہوئے آپ سے لے لوں گی"

ڈاکٹر نے اپنی۔سٹاف کو فائل پکڑاتے ہوئے کہا

حیا "مسز آیان ملک" پہ بری طرح چونکی۔

اس کو لگ رہا تھا جیسے اس کا ذہن آندھیوں کی زد میں ہے ۔

"مسز اسد آپ یہ دو ٹیسٹ کروا لیں۔ ڈاکٹر نے حیا کا بلڈپریشر چیک کرنے کے بعد اسے کچھ ٹیسٹس لکھ کر دئیے۔

حیا لیبارٹری میں خون کے سیمپل دینے کے بعد ویٹنگ روم میں اسد کے پاس آ کر بیٹھ گئی مگر اسے لگ رہا تھا جیسے اس کا پورا جسم بےحس و حرکت ہو گیاہے ۔

کچھ دیر وہ بے حس و حرکت اسد کو عبداللہ کے ساتھ کھلتے دیکھتی رہی۔

اسد کے دوسری دفعہ پکارنے پر وہ بری طرح چونکی ۔

"محترمہ کہاں کھوئی ہوئی ہیں ؟ ڈاکٹر صاحبہ بلا رہی ہیں آپکو

"نہیں ۔۔۔کہیں نہیں ۔"

حیا سرسری سا جواب دے کر ڈاکٹر کے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔

"مبارک ہو مسز اسد آپ ماں بننے والی ہیں ۔ ماشاءاللہ بے بی صحت مند ہے مگر آپ کو اب اپنا زیادہ خیال رکھنا پڑے گا۔

میں کچھ دوائیں لکھ کر دے رہی۔ہوں باقاعدگی سے لیجئیے گا

حیا نے ڈاکٹر کے ہاتھ سے میڈیسن والا کاغذ پکڑا اور کمرے سے باہر نکل آئی۔

"محترمہ اب تو بتا دیں کیا کہا ڈاکٹر نے۔

اسد نے گاڑی چلاتے ہوئے اس سے تیسری دفعہ پوچھا

"آپ ۔۔۔آپ پاپا بننے والے ہیں "

حیا نے سپاٹ لیجے میں کہا

"واٹ؟؟ تم اتنی بڑی بات مجھے اب بتا رہی ہو؟؟

اسد نے مصنوعی ناراضگی کا اظہار کیا۔

حیا کی طرف سے کوئی رسپانس نہ پا کر وہ فکر مند ہوا

"حیا سب ٹھیک ہے نا۔تم پریشان کیوں ہو؟

"نہیں ایسا کچھ نہیں ۔ سب ٹھیک ہے

حیا نے اسد سے نظریں چراتے ہوئے کہا

"تم مجھ سے کچھ چھپا رہی ہو حیا۔ مجھے اب فکر ہو رہی ہے

اسد نے گاڑی سڑک کے کنارے کھڑی کرتے ہوئے کہا

"اسد۔۔۔۔ آج کلینک میں میں نے آیان ملک اور اس کی بیوی کو دیکھا۔ حیا نے اسد سے نظریں چراتے ہوئے اسے کلینک میں ڈاکٹر اور آیان ملک کی بیوی کے درمیان ہونے والی ساری بات بتا دی

"ہمممم پریشان مت ہو۔اللہ سب ٹھیک کرے گا۔

اسد نے مختصراً جواب دے کر گاڑی آگے بڑھا لی۔

۔۔۔۔

"حیا تمہارا دماغ ٹھیک ہے نا؟؟

میں تم سے ایسی کسی کم عقلی کی توقع نہیں کر رہا تھا

اسد نے رات اس کی بات سننے کے بعد اسے ڈانٹتے ہوئے کہا

"لیکن اسد۔۔۔۔

میں اس بارے اور کوئی بات نہیں سننا چاہتا۔

اسد نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا

 حیا وقتی طور پر خاموش ہو گئی۔

۔۔۔۔۔

"حیا ابھی بھی سوچ لو ۔میں ابھی بھی تمہارے فیصلے کے حق میں نہیں ہوں"

اسد نے گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے کہا

حیا نے کوئی جواب نہیں دیا۔

عبداللہ اس کی گود میں سو رہا تھا۔

۔۔۔۔

"انعم یہ سب میرے گناہوں کی سزا ہے۔ میں تمہارا مجرم ہوں۔ میں بھائی کے جھوٹ کو سچ سمجھ کر حیا کے ساتھ اتنی بڑی ناانصافی کر بیٹھا۔ مجھے آج بھی اس کی آنسوؤں سے لبریز آنکھیں اور اس کی بددعائیں یاد ہیں ۔

آیان روتے ہوئے اپنی بیوی انعم سے کہہ رہا تھا کہ اتنے میں گھنٹی بجی۔

آیان نے آنسو صاف کرتے ہوئے دروازہ کھولا تو اس کے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی۔

اس کے سامنے حیا ایک بچے کو گود میں اٹھائے کھڑی تھی۔

"آیان ملک صاحب کیا اندر آنے کی اجازت مل سکتی ہے ؟

حیا کا کاٹ دار لہجہ اسے اندر تک زخمی کر گیا۔وہ دروازے کے سامنے سے ہٹ گیا۔

انعم ابھی تک آنے والی اور اس کے آنے کا مقصد نہیں سمجھ سکی تھی مگر اسے آیان کے چہرے پر ہوائیاں اڑتی نظر آ رہی تھیں ۔

"پریشان مت ہو۔ میں تم سے کچھ مانگنے نہیں آئی۔میں تمہیں تمہاری امانت سونپنے آئی ہوں۔

تم نے میرے۔ساتھ جو کیا اللہ نے تمہیں اس کی سزا دی۔مگر میں تمہاری طرح پتھر دل نہیں ہوں مسٹر آیان ملک۔

یہ بچہ۔۔۔ یہ میرے پاس تمہاری امانت تھا۔ یہ تمہاری نام نہاد محبت کی آخری نشانی ہے۔

میں آج اسے تمہیں سونپ کر جا رہی ہوں ۔اور ہاں تم چاہو تو ڈی این اے کروا سکتے ہو۔یہ تمہارا ہی خون ہے۔تمہاری نام نہاد محبت کے چند بدبودار لمحات کا نتیجہ ۔

حیا نے عبداللہ کو انعم کو پکڑاتے ہوئے آیان سے کہا

"مجھے معاف کر دو حیا پلیز ۔میں نے تمہارے ساتھ بہت غلط کیا ۔اللہ نے مجھے اس کی سزا دی "

آیان نے حیا کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا

"میں تمہیں معاف کر چکی ہوں آیان ملک۔اللہ تمہیں معاف کرے

حیا نے آخری دفعہ عبداللہ کو دیکھا اور آیان کے گھر کی دہلیز پار کر گئی۔

آیان اور انعم کتنی ہی دیر اپنی جگہ بت بنے کھڑے رہے اور پھر انعم نے عبداللہ کو سینے سے لگا لیا۔

۔۔۔۔

حیا کے گاڑی میں بیٹھتے ہی اسد نے گاڑی بڑھا لی۔

"حیا یہ تم نے بہت غلط کیا ہے۔ہم عبداللہ کو پال سکتے ہیں ۔ابھی بھی اپنا فیصلہ بدل لو۔

اسد نے آخری دفعہ التجا کی ۔کیونکہ عبداللہ اسے بھی بہت پیارا تھا۔

"اسد میں مزید آپکی حق تلفی نہیں کر سکتی۔عبداللہ میرے پاس اس شخص کی امانت تھا جو لوٹا دیا۔

اب سے مجھہ پہ صرف آپکا حق ہے۔مجھ سے جو غلطی ہوئی تھی میں نے اس کا کفارہ ادا کر دیا۔

حیا نے اسد کے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے پیار سے کہا

اسد نے اعتراف کیا کہ وہ حیا کو کبھی نہیں سمجھ سکتا۔

اسد نے گاڑی میں میوزک کے والیوم کو بڑھا دیا۔ غلام علی کی سحر انگیز آواز میں غزل گاڑی میں گونج رہی تھی اور دور سورج زمین پر اپنی آخری کرنیں نچھاور کر کے غروب ہو رہا تھا۔

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں