بیڈ نمبر 23

بیڈ نمبر 23

مصنف :اویس علی

 دیکھو گڑیا ہماری شادی ہونے والی ہے اب تو بچپنا چھوڑ دو!!!
کل کو لوگ کیا کہیں گے کہ کیسی لاابالی لڑکی ہے۔
ہنہہ!!
میں جانتی ہوں آپ کی جان ہے مجھ میں  اور میں آپ کو اور خود کو ایسے ہی پسند ہوں سو میں  جیسی ہوں ویسی ہی رہوں گی۔

حجاب نے بیڈ سے ٹیک لگاتے ہوئے اطمینان سے جواب دیا۔
"مگر گڑیا لوگ ۰۰۰۰

"بھاڑ میں جائیں لوگ عالم پناہ 'میں آپ کو پسند ہوں نا ؟؟ہوں یا نہیں ؟؟

حجاب نے اپنی نظروں کی کمان کا رخ ساحل کی آنکھوں کی طرف کیا ۔
پاگل مجھے تو دل و جان سے پسند ہو۔
ساحل نے مخمور لہجے میں اقرار کیا۔

ہاں تو بس چھوڑیں اس ظالم سماج کو اور یہاں آئیں یہ ڈریس دیکھیں ۔یہ میں نے اپنے ولیمے کے لئے پسند کیا ہے۔۔۔

ساحل اور حجاب کا رشتہ طے ہوئے تین ماہ ہو چکے تھے۔ دونوں کی فیملی اس رشتے کو لے کر بہت خوش تھی کیونکہ ساحل اور حجاب ایک دوسرے کو نہ صرف ٹوٹ کر چاہتے تھے اور سونے پہ سہاگہ یہ کہ دونوں میں  کمال انڈرسٹینڈنگ تھی۔

حجاب کا تعلق پوٹھوہار کے راجپوت گھرانے سے تھا اور دو بھائیوں کی اکلوتی بہن ہونے کا بھرپور فائدہ اٹھاتی تھی۔
ساحل مغل خاندان کا چشم و چراغ تھا ۔ ساحل کی زندگی میں  بس دو چیزیں اہم تھیں ایک شاعری اور دوسری حجاب قریشی ۔
اگر شاعری اس کا سکون تھا تو حجاب اس کا جنون ۔
ساحل اور حجاب کی ملاقات رابطے کی مشہور ویب سائٹ پہ ہوئی جہاں ساحل نے اپنی نئی غزل پوسٹ کی تو حجاب نے جھٹ سے ڈھیروں داد سے نوازا۔

غزل پہ تبصرہ سے شروع ہونے والا سلسلہ انباکس سے ہوتا ہوا لمبی لمبی فون کالز تک جا پہنچا۔
جہاں ساحل کو حجاب کی صورت ایک بہترین دوست ملی وہیں حجاب ساحل کی آواز اور الفاظ کی اثیر ہوتی چلی گئی۔

ساحل کو جلد احساس ہو گیا کہ وہ حجاب کی محبت میں گرفتار ہو چکا ہے مگر اقرار کرنے میں جھجھک اسے شدید ذہنی کوفت میں  مبتلا کر رہی تھی۔
ایک دن ہمت جٹا کر ساحل نے حجاب سے اپنی محبت کا اظہار کر دیا جس کا مثبت اور بھرپور جواب اسے لاجواب کر گیا۔
اسے لگا جیسے وہ ہواؤں میں  اڑ رہا ہو۔

حجاب نے بھی اقرار کیا کہ وہ بھی اسے چاہتی ہے اور ہمیشہ اس کے ساتھ رہنا چاہتی ہے۔

دونوں نے ایک حسین مستقبل کے خواب دیکھنا شروع کر دئیے۔

جلد ہی بات حجاب کی والدہ تک پہنچی جنہوں نے ساحل کا ایک لمبا چوڑا انٹرویو لینے کے بعد اپنی رضامندی ظاہر کر دی۔
ساحل نے بھی اپنی والدہ کو ساری روداد سنا دی بالآخر دونوں کے والدین کی ملاقات ہوئی ۔

شاید قدرت دونوں پہ کچھ زیادہ ہی مہربان تھی کہ ایک ملاقات میں ہی دونوں خاندان ایک دوسرے کے بہت قریب آ گئے اور یوں ساحل اور حجاب کا رشتہ طے پا گیا۔

دونوں طرف شادی کی تیاریاں عروج پکڑنے لگیں ۔

ساحل کی غزلوں میں رومانوی پہلو اب شدت پکڑنے لگا۔ جب بھی وہ کوئی شعر کہتا تو اچانک حجاب کا چہرہ اس کے سامنے آ جاتا۔
ایک دن ایک ایسی ہی غزل پوسٹ کرنے کے بعد معمول کے تبصروں کے ساتھ ایک غیر معمولی سا تبصرہ بھی اس کی نظروں کا گزرا۔
"ہیر آفریدی " نامی لڑکی نے والہانہ انداز میں نہ صرف غزل بلکہ  ساحل کی تعریفوں کے پل باندھ دئیے۔
ابھی وہ اس تبصرے کو پورا پڑھ میں نہیں پایا تھا کہ انباکس میں  ہیر آفریدی کا پیغام موصول ہوا۔

ساحل نے رسمی سا جواب دیا مگر اسے احساس ہو چکا تھا کہ صنفِ مخالف اس کے رسمی سے جوابات کے بعد بھی اسی شدت کا مظاہرہ کر رہی ہے۔

ساحل کی ہر غزل اور شعر کے جواب میں ہیر آفریدی کا شدت بھری محبت کا مظاہرہ اسے چونکا رہی تھی۔

اور پھر ایک دن اچانک انباکس میں ہیر آفریدی نے ساحل سے اپنی محبت کا باقاعدہ اظہار کر دیا۔
ساحل کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیا جواب دے مگر اسے جواب دینا تھا کیونکہ اس کے ذہن کے پردوں پہ بار بار حجاب کا چہرہ ابھر رہا تھا۔

سو اس نے ہیر آفریدی کوسب بتا دیا کہ اس کی شادی ہونے والی ہے اور وہ اپنی ہونے والی بیوی سے بہت محبت کرتاہے ۔
سب سننے کے بعد بھی ہیر بضد تھی کہ وہ ساحل سے بہت محبت کرتی ہے اور اسے یونہی پوری عمر چاہتی رہے گی۔
ساحل عجیب تذبذب کا شکار تھا۔

ایک طرف حجاب سے بےپناہ محبت اور دوسری طرف ہیر آفریدی کا والہانہ انداز اسے عجیب ذہنی اذیت میں مبتلا کر رہا تھا۔

حجاب کو کچھ دن سے ساحل کا بدلتا رویہ محسوس ہو رہا تھا ۔مگر اس نے اس کا اظہار نہیں  کیا کیونکہ وہ جانتی تھی کہ جب اسے مناسب لگا وہ خود ہی سب بتا دے گا۔
ایک دن ساحل کی پروفائل پہ اس کی نئی غزل پڑھتے ہوئے وہ اچانک چونکی ۔ "ہیر آفریدی '' نامی لڑکی کا بےباک تبصرہ اسے بہت برا لگا۔

"آپ ایسے لوگوں کو بلاک کر دیا کریں نا۔بہت برا لگتا ہے جب کوئی آپ پہ حق جتانے کی کوشش کرتاہے "حجاب نے بہت محبت سے کہا

"گڑیا دفع کرو ۔حق تو تمہارا ہے نا۔بھلا کوئی زبردستی بھی حق حاصل کر سکتا ہے؟؟

میرا سب کچھ تم ہو کبھی مجھ سے بدگمان مت ہونا"

ساحل نے حجاب کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔

ہیر آفریدی کی محبت اس بات کا تقاضا کر رہی تھی کہ اسے بدلے میں چاہا جائے مگر ساحل کی بےرخی اسے چڑچڑا کر رہی تھی۔

"ساحل بہت محبت کرتی ہوں آپ سے۔ یاد رکھئیے گا اگر آپ میرے نہ ہوئے تو کسی اور کا بھی نہیں ہونے دوں گی۔ صرف آپ چاہئیے ہو مجھے ۔مجھ اکیلی کی محبت ہی ہم دونوں کے لئے کافی ہے۔ پلیز خود کو مجھے سونپ دیجئے ۔پوری زندگی غلام بن کر رہوں گی "

ہیر آفریدی کا عجیب و غریب میسج ساحل کو کسی خطرے کا اشارہ دے رہا تھا مگر وہ نہیں جانتا تھا کہ ہیر آفریدی حجاب تک پہنچ چکی ہے۔

ایک روز اچانک ساحل نے ہیر کو بتا دیا تھا کہ جس لڑکی کو وہ چاہتاہے وہ حجاب ہے اور اسی سے شادی کرے گا۔

ہیر آفریدی اس کی پروفائل سے حجاب تک پہنچ چکی تھی اور اسے ساحل کی طرف سے بدگمان  کرنے کی پوری کوشش کرنے لگی

"آپ جانتی ہیں میری جان ہے ساحل میں ۔بہت پیار کرتی ہوں ان سے"

ہیر آفریدی نے پہلی چال چلی۔

"بکواس بند کرو۔ وہ بس میرے ہیں ۔صرف مجھ سے محبت کرتےہیں ۔"
حجاب نے اپنے غصے پہ قابو پانے کی پوری کوشش کی۔

"اچھا؟؟ تو پھر سوچیں کہ اس کے باوجود انہوں نے مجھے بلاک کیوں نہیں کیا؟؟ کیونکہ ان کے دل میں بھی میرے لئے کچھ تو ہے"

ہیر آفریدی نے پہلی چال ناکام ہوتے دیکھ کر ایک اور ترپ کا پتا پھینکا

"تم بھاڑ میں جاؤ ۔آج ہی بلاک کر کے وہ تمہیں تمہاری اوقات بتائیں گے۔"

حجاب غصے سے بپھری ہوئی تھی۔

"یہ ہیر آفریدی جو بھی ہے آپ اسے ابھی اسی وقت بلاک کیجئے ۔ "

ساحل حجاب کو میسج پڑھ کر بری طرح چونکا۔

"گڑیا تم کیوں نہیں سمجھ رہی وہ صرف میری شاعری کی مداح ہے اور بس۔"

ساحل کا سرسری سا جواب حجاب کے غصے کو اور ہوا دے گیا
"تو مطلب آپ اسے بلاک نہیں کریں گے؟؟

حجاب نے ایک بار پھر اپنے غصے پہ قابو پانے کی کوشش کی۔

" جان ابھی کیے دیتا ہوں مگر ایسا کب تک چلے گا کہ تم کسی بھی ایرے غیرے کی باتوں میں آتی رہو گی؟؟

ساحل نے بےبسی سے جواب دیا

" ٹھیک ہے سمجھ گئی۔ آپ رکھیں اس ہیر آفریدی کو۔بہت عزیز ہے نا آپ کو "اپنی مداح"

حجاب کا طنز سے بھرپور میسج ساحل کو آگ بگولا کر گیا۔

دونوں میں کافی دن بات چیت بند رہی۔
دونوں اپنی اپنی انا کے خول میں  قید رہے۔

حجاب کو اس بات کا غصہ تھا کہ ساحل نے اس کی اتنی سی بات نہیں  مانی اور دوسری طرف ساحل اس بات پہ آگ بگولا تھا کہ حجاب اس پہ کیسے شک کر سکتی ہے جبکہ وہ جانتی ہے کہ کس قرر چاہتا ہوں اسے"

ہیر آفریدی کو احساس ہو چکا تھا کہ شاید لوہا گرم ہے سو اس نے حجاب کو اپنی طرف سے چند مزید باتیں گڑھ کے بتائیں۔
حجاب کو ساحل کی خاموشی ہیر آفریدی کی باتوں کی تصدیق کرتی محسوس ہوئی اور جہاں پہلہ صرف غصہ اور ناراضگی تھی اب وہاں بدگمانی بھی  آ چکی تھی۔

ساحل نے کچھ دن بعد حجاب کو کال کی تو حجاب کا بدلا ہوا لہجہ اسے بہت چبھا۔

ایک دفعہ پھر بحث ہیر آفریدی 'بلاک اور ہیر آفریدی کی ساحل کے بارے کی گئی باتوں کے گرد گھومنے لگی۔

"آپ رکھیں ہیر آفریدی کو ۔جہاں اتنے دن میری یاد نہیں  آئے باقی زندگی بھی ایسے گزر جائے گی آپ کی۔ "

حجاب کے بدگمانی سے بھرپور جملے ساحل کو مزیدتپا گئے

"تم مجھ پہ شک کر رہی ہو؟؟ ایسے شخص کی باتوں میں  آ گئی جسے تم جانتی بھی  نہیں "

ساحل نے اپنی آواز بلند کرتے ہوئے کہا

" آپ تو جانتے ہیں  نا اسے اچھی طرح تو اب کیا چاہتےہیں مجھ سے ؟ جائیں اس کے پاس ۔دور رہیں مجھ سے"

حجاب نے اتنا کہہ کر فون رکھ دیا اور ساحل غصے سے آگ بگولا ہو گیا
اسی غصے میں  اس نے ہیر آفریدی کو بھی  بری طرح ڈانٹا اور بلاک کر دیا۔

"کر دیا ہے بلاک اسے لیکن کبھی سوچا نہیں  تھا تم مجھ پہ یوں شک کر سکتی ہو"

ساحل نے حجاب کو مختصر سا میسج بھیجا

"اب کوئی فرق نہیں  پڑتا ساحل صاحب ۔اب آپ اسے بلاک کریں یا سینے کے ساتھ لگا کر رکھیں آپ کی مرضی"

حجاب کا میسج ساحل کو اس قدر مشتعل کر گیا کہ اس نے حجاب کی والدہ کو میسج کر دیا کہ "آپ جہاں چاہیں حجاب کی شادی کر دیں ۔ہم میں  سب ختم ہو چکا ہے"

حجاب کی والدہ نے ساحل سے پوچھنے کی بہت کوشش کی مگر ساحل خاموش رہا۔

حجاب نے انہیں سب بتا دیا جس کے بعد حجاب کی والدہ نے بھی معاملے کی نزاکت کو سمجھنے کی بجائے ساحل کی والدہ کو فون کر کے حجاب کی باتیں دوہراتے ہوئے رشتہ ختم کر دیا۔

ساحل شدید ذہنی کوفت میں مبتلا یہ سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا کہ اس سے غلطی کہاں پر ہوئی کہ یوں اچانک سب ختم ہو گیا۔
دوسری طرف حجاب نے ساحل سے ہر طرح کا رابطہ منقطع کر دیا۔

کبھی ساحل اس بات کا اقرار کرتا کہ اسے واقعی حجاب کے پہلی دفعہ کہنے پہ اس لڑکی کو بلاک کر دینا چاہئیے تھا اور کبھی یہ بات اسے مشتعل کر دیتی کہ حجاب نے اس پہ کسی انجان لڑکی کی وجہ سے شک کیا۔

یہی سوچ اسے اپنی زندگی ختم کرنے پہ مجبور کر چکی تھی اور ایک روز ساحل کی لاش اس کے کمرے میں  پنکھے سے لٹکی ملی اور اس کی جیب میں  ایک کاغذ تھا جس پہ لکھا تھا کہ " کاش تم سمجھ پاتی کہ کس قدر محبت کرتاہوں تم سے مگر تمہاری بدگمانی نے سب ختم کر دیا ۔ میں چاہ کر بھی  اپنی محبت اور بےگناہی ثابت نہیں  کر سکا مگر بروزِ قیامت میں ایسا کرنے میں ضرور کامیاب ہوں گا

فقط تمہارا ساحل"

حجاب ساحل کی اچانک موت کے صدمے سے بےحال تھی کہ اسے ہیر آفریدی کا میسج موصول ہوا

"آپ بہت خوش قسمت ہیں کہ ساحل صرف آپ کو چاہتے ہیں ۔میری غلطی تھی کہ آپ دونوں کے درمیان آ گئی ۔مجھے معاف کر دیجیے گا ۔میں نے وہ سب باتیں صرف آپ کو ساحل کی طرف سے بدگمان کرنے کے لئے کہی تھیں ۔میں  ہمیشہ کے لئے آپ دونوں کی زندگی سے بہت دور جا رہی ہوں۔اللہ آپ دونوں کو خوش رکھے"

حجاب ہیر آفریدی کا میسج پڑھ کر اپنا ذہی توازن کھو چکی تھی۔

۔۔۔

"کاش تم یہ سب نہ کرتی ہیر
ساحل مجھے معاف کر دیں
ساحل میں آپ کا محبت کا قرض کیسے چکاؤں گی""

ڈاکٹر یہ بیڈ نمبر23 کی مریضہ سارا دن یہی تین جملے کیوں دوہراتی رہتی ہے ؟؟
ذہنی امراض کے وارڈ میں آنے والی نئی نرس نے ڈاکٹر سے استفسار کیا

"یہ محبت کا قرض ہے بی بی جو موت کے بعد بھی شاید نہ چکایا جا سکے ۔خیر تم اس کی فائل اس کے بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پہ رکھ دو"

"حجاب قریشی  بیڈ نمبر 23"

دوستوں سے شیئر کریں

4 تبصرے

  1. Awais Ali says:

    سپاس گزار اس محبت کے لئے ۔بہت جیئیں

  2. Saddam hussain says:

    اویس بھائی۔۔۔۔۔ میں اس قدر حیرت میں مبتلا ہوں کہ آپ شاعری کرتے ہیں یا افسانہ لکھتے ہیں۔۔

    کمال کر دیا آپ نے۔۔

    بہت خوب

  3. Gulle lala says:

    اففففففففففففففف
    سم ٹائم چھوٹی سی مسجد انڈرسٹینڈنگ زندگیوں کو تباہ کر دیتی ہے۔۔۔
    اگر محبت ہو تو یقین بھی ہونا چاہیے ورنہ محبت کے دعوے فضول ہیں ۔۔۔۔
    اتنا گہرا یقین ہو محبت پر کہ انکھوآ سے دیکھ کر بھی یقین نہ کیا جائے کیونکہ اکثر کان اور آنکھ دھوکہ دیتے ہیں

تبصرہ کریں